دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانوں کا خاتمہ ضروری ہے

16 نومبر 2014

شمالی وزیرستان میں فضائی کارروائی ، غیر ملکیوں سمیت 30 دہشت گرد ہلاک کئی ٹھکانے تباہ ، چار سدہ میں گرلز سکول اڑا دیا گیا۔ ہنگو میں فٹ بال سٹیڈیم میں بم دھماکہ 2 کھلاڑی زخمی، کراچی میں پولیس کی دو گاڑیوں پر فائرنگ، تھانیدار جاں بحق۔ مقابلے میں 2 کمانڈروں سمیت 7 طالبان ہلاک۔ آپریشن کے دوران کئی افراد گرفتار اسلحہ بارود برآمد۔
 شمالی وزیرستان میں ضرب عضب کامیابی سے جاری ہے۔ فضائیہ کے تعاون سے پاک فوج نے دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو مسلسل نشانے پر رکھا ہوا ہے۔ گزشتہ روز بھی کامیاب حملوں میں درجنوں دہشت گرد اور ان کے کمانڈر مارے جا چکے ہیں۔ اس وقت دہشت گردوں کو جان بچانے اور چھپنے کے لئے سرحد پار افغانستان یا اندرون ملک اپنے محفوظ ٹھکانوں میں پناہ لینا پڑ رہی ہے۔ جہاں بیٹھ کر وہ بزدلوں کی طرح عوامی مقامات کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ سکول کھیلوں کے میدان یا کاروباری مراکز کے ساتھ اہم دفاعی و سکیورٹی مقامات پر اکادکا وارداتیں کر رہے ہیں ان حالات میں ضروری ہے کہ ان کے اندرون ملک محفوظ ٹھکانوں اور پناہ گاہوں پر بھی کڑی نظر رکھی جائے اور وہاں بھی آہنی ہاتھوں سے انکے گرد شکنجہ کسا جائے۔ کراچی میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے لگتا ہے یہ عمل شروع کر دیا ہے۔ جس کے بعد کئی علاقوں میں طالبان کے ساتھ رینجرز کی مڈبھیڑ بھی ہوئی اور دو طرفہ مقابلے میں کئی دہشت گرد ہلاک اور کئی گرفتار بھی ہوئے۔ جبکہ بڑی مقدار پر اسلحہ اور گولا بارود برآمد بھی ہوا۔ اب یہ سلسلہ ایسے تمام علاقوں میں بھی شروع کیا جانا چاہئیے جہاں مصدقہ اطلاعات کے مطابق ان دہشت گردوں کے ٹھکانے اور پناہ گاہیں ہیں اور ان تمام افراد کو قانون کے شکنجہ میں لانا ہو گا جو انہیں پناہ گاہ اور ٹھکانا فراہم کرتے ہیں اور اس سلسلہ میں کسی سیاسی دباﺅ یا مصلحت کو خاطر میں نہیں لانا چاہئیے کیونکہ یہ ملک و قوم کی سلامتی کا مسئلہ ہے۔ اس کے ساتھ افغانستان میں بھی ان کے محفوظ مراکز کے بارے میں امریکہ، نیٹو اتحادی فورسز اور افغان حکومت کے ساتھ مل کر کوئی مشترکہ لائحہ عمل تیار کیا جائے اور وہاں بھی پاک افغان سرحدی علاقوں میںان کے خلاف وسیع پیمانے پر آپریشن شروع کیا جائے۔ تاکہ دہشت گردی کے اس ناسور کا مکمل خاتمہ ممکن ہو۔