دوہری شہریت والوں پر انتخابی پابندی بجا ہے

16 نومبر 2014

دوہری شہریت والوں کے الیکشن لڑنے پر پابندی کا خاتمہ، قائمہ کمیٹی نے بل مسترد کر دیا۔ مسلم لیگ (ن)، جماعت اسلامی، جے یو آئی، پی پی پی کے ارکان کا متحدہ کیخلاف ایکا۔ بار کونسلز بل منظور، انسانی حقوق کی بریفنگ پر عدم اطمینان کا اظہار۔قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی میں بڑی بڑی سیاسی جماعتوں نے متحد ہو کر ایم کیو ایم کی طرف سے دوہری شہریت والوں کے الیکشن لڑنے پر پابندی ختم کرنے کا بل کثرت رائے سے مسترد کر دیا۔ دوہری شہریت رکھنے والوں پر دنیا بھر کے بیشتر ممالک میں ایسی پابندی موجود ہے کیونکہ جو شخص اپنی جنم بھومی سے ہٹ کر کسی بھی سبب دوسرے ملک کی شہریت اختیار کرتا ہے تو اس کی اپنے مادرِ وطن سے وابستگی بے معنی سی ہو جاتی ہے جسے اچھا تصور نہیں کیا جاتا۔ اگر کوئی شخص الیکشن لڑنے اور اپنے ملک و قوم کی خدمت کا شوق رکھتا ہے تو اسے پہلے عملی طور پر اس کا ثبوت دیتے ہوئے دوسرے ملک کی شہریت ختم کرنا چاہئے کیونکہ وہ اس ملک کے آئین اور قانون کی پاسداری کا حلف اٹھا کر اسکے ساتھ وفاداری کا پابند ہو چکا ہوتا ہے اسے پاکستان کی بجائے اس ملک کا وفادار رہنا ہوتا ہے ورنہ اسکی شہریت ختم ہو سکتی ہے۔ اس وقت کئی سیاسی اثر و رسوخ رکھنے والی شخصیات پوری طرح کوشش کر رہے ہیں کہ یہ پابندی ختم کی جائے تاکہ وہ ملکی سیاست میں دخیل ہو کر یہاں بھی حکومت کے مزے لوٹ سکیں اور غیر ملکی شہریت سے بھی لطف اندوز ہوتے رہیں۔ مگر بہتر یہی ہے کہ ایسا نہ ہونے دیا جائے تاکہ کوئی وطن دشمن اس قانون کا فائدہ نہ اٹھا سکے۔ بے شک دوہری شہریت رکھنے والے تمام پاکستانی محب وطن ہیں اور وہ نہایت خلوص کے ساتھ اپنے ملک کی خدمت بھی کرتے ہیں مگر حکومتی معاملات میں ملک و قوم اور آئین سے کمٹمنٹ کا تقاضہ یہی ہے کہ دوہری شہریت رکھنے والے غیر ملکی شہریت ترک کر کے پہلے مکمل پاکستانی بنیں اور پھر یہاں الیکشن لڑیں۔