کمیشن کے ذریعے تقرری کی شرط ختم‘ سپریم کورٹ کا دسمبر کے آخر تک اداروں کے سربراہ تعینات کرنے کا حکم

16 نومبر 2014
کمیشن کے ذریعے تقرری کی شرط ختم‘ سپریم کورٹ کا دسمبر کے آخر تک اداروں کے سربراہ تعینات کرنے کا حکم

حکومت اسے کھلی چھٹی نہ سمجھے‘ میرٹ کو یقینی بنایا جائے
سپریم کورٹ نے خود مختار اداروں اور کارپوریشنوں کے سربراہان کی تقرری کمیشن کے ذریعہ کرنے کی شرط ختم کرتے ہوئے حکومت کو ہدایت کی ہے کہ دسمبر کے آخر تک تمام اداروں کے سربراہوں کی تقرری کو یقینی بنایا جائے۔ خواجہ آصف نے نگران دور میں خود مختار اداروں اور کارپوریشنوں کے سربراہوں کی تقرریوں کیخلاف نظر ثانی درخواست دائر کی تھی۔2013ءمیں عدالت نے خواجہ آصف کی درخواست پر فیصلہ دیا تھا کہ ان اداروں کے سربراہوں کی تقرری کیلئے کمیشن تشکیل دیا جائے اور اس کمیشن کے ذریعہ تقرریاں کی جائیں جبکہ خواجہ آصف نے اس فیصلہ کیخلاف درخواست کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ اداروں کے سربراہوں کی تقرری کیلئے کمیشن کی شرط کو ختم کیا جائے اور 2013ءکے فیصلہ پر نظر ثانی کی جائے۔ عدالت نے نظر ثانی درخواست منظور کرتے ہوئے حکومت سے کہا ہے کہ اب کمیشن کی شرط ختم ہونے کے بعد یہ شکایت دور ہونی چاہیے کہ اداروں کے سربراہان کا تقرر نہیں ہوتا اور ادارے لمبے عرصہ تک سربراہ کے بغیر چلتے ہیں۔ عدالت نے دسمبر کے اختتام تک تقرریاں کرنے کی ہدایت کی ہے۔
اس پر بجا طور پر بحث ہو سکتی ہے کہ جو کچھ پیپلزپارٹی کیلئے نواز لیگ شجرِ ممنوعہ قرار دلانے کیلئے سپریم کورٹ گئی‘ اسکی خواہش پر سپریم کورٹ نے ایسا کر بھی دیا لیکن جب یہی اپنے اوپر لاگو ہوا تو خود کو عذاب میں مبتلا پایا اور اپنے ہی حق میں آنیوالے فیصلے کیخلاف نظرثانی کی درخواست دائر کر دی۔ سپریم کورٹ نے اس کو بھی پذیرائی بخش دی۔ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی حکومتوں میں اداروں اور کارپوریشنوں کے سربراہوں کی تقرری و تعیناتی کا طریقہ کار کم و بیش ایک جیسا ہے۔ دونوں کی کارکردگی میرٹ سے ہٹ کر تقرریوں اور تعیناتیوں سے عبارت ہے۔ پیپلزپارٹی کی قیادت کو شکوہ رہا ہے کہ عدلیہ اسکی پالیسیوں کے اطلاق میں رکاوٹ ثابت ہوئی۔ اس حوالے سے وہ خصوصی طور پر سابق چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کا ذکر کرتے ہیں۔ آج کے فیصلے پر پیپلزپارٹی کے قائدین ضرور سر پکڑ کر بیٹھے ہونگے کہ کل تک جو ہمارے لئے جائز نہیں تھا‘ اب مسلم لیگ (ن) کی حکومت کیلئے کیسے جائز ہو گیا۔ بہرحال عدالتی فیصلے کیخلاف کسی کو دم مارنے کی اجازت نہیں ہے۔ اس فیصلے پر مسلم لیگ (ن) کیلئے فخر کا کوئی پہلو نہیں ہے البتہ اسے اپوزیشن میں رہتے ہوئے اداروں اور کارپوریشنوں کے سربراہان کی تقرری کمیشن کے ذریعے کرنے کی درخواست پر ندامت ہونی چاہیے۔ عدالت نے بہرحال مسلم لیگ (ن) کی حکومت کو کل کے فیصلے میں بہت بڑا ریلیف دیا۔
مسلم لیگ (ن) پیپلزپارٹی کے دور اقتدار میں معاملہ سپریم کورٹ لے گئی تھی۔ سپریم کورٹ نے سربراہوں کی تقرری فیڈرل کمیشن کے ذریعے کرنے کا حکم دیا تو اس پر کمیشن کی تشکیل مسلم لیگ (ن) کے دور میں 17 جولائی 2013ءکو ہوئی۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق عبدالرﺅف چودھری کو فیڈرل کمیشن کا سربراہ بنایا گیا۔ شمس قاسم لاکھا اور ڈاکٹر اعجاز نبی اسکے ارکان تھے۔ اس کمیشن کو سپریم کورٹ کے فیصلے کی روح کے مطابق کام نہیں کرنے دیا گیا۔ عملاً یہ وفاقی کمیشن غیرفعال ہو کر رہ گیا۔ جولائی 2013ءمیں قائم کئے جانیوالے کمیشن کے ذریعے 58 سرکاری اداروں کے سربراہوں کی تقرریاں کی جانی تھیں‘ بعدازاں ان اداروں کی تعداد کم کرکے 23 کردی گئی مگر انکی تقرریاں بھی معرض التواءمیںرہیں البتہ حکومت نے مذکورہ وفاقی کمیشن کو بائی پاس کرکے کئی تقرریاں کر دیں۔
گزشتہ ماہ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل (ٹی آئی) نے سپریم کورٹ کے احکامات کی خلاف ورزی کے ساتھ مختلف اداروں کے سربراہوں کی تقرریوں پر اعتراضات ا±ٹھائے تھے۔ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے وزیراعظم نواز شریف کو لکھے گئے ایک خط میں درخواست کی بھی کی تھی کہ ان تمام غیرقانونی تقرریوں کو ختم کرنے کے فوری احکامات جاری کیے جائیں، جو سپریم کورٹ کے 12 جون 2013ء کے فیصلے کی توہین کے ذیل میں آتے ہیں۔ 13جون کوسپریم کورٹ نے نگران حکومت کی تمام تقرریوں‘ تبادلوں اور برطرفیوں کے احکامات کو کالعدم قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ نئی حکومت تین رکنی کمیشن تشکیل دے جو اہم عہدوں پر تقرریاں کرے۔ ٹرانسپیرنسی کے وزیراعظم کے نام میں مزید کہا گیا کہ سرکاری اداروں کے سربراہوں کا انتخاب فیڈرل کمیشن کے عمل سے گزارے بغیر یہ تمام تقرریاں کی گئی تھیں۔اس سے قبل مئی کے دوران سرکاری محکموں میں مختلف عہدوں کیلئے اخبارات میں شائع ہونیوالے ایک اشتہار پر بھی ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے اعتراض کیا تھا۔ اس کی جانب سے کہا گیا تھا کہ یہ طریقہ کار امتیازی اور غیر شفاف ہے اور بدعنوانی کو برداشت نہ کرنے کی اس پالیسی کے برخلاف ہے، جس کا اعلان مسلم لیگ ن نے 2013ء کے انتخابی منشور میں کیا تھا۔
ٹرانسپیرنسی کے مطابق بہت سی تقرریاں سرکاری اداروں کے سربراہوں کیلئے قائم فیڈرل کمیشن کو نظرانداز کرتے ہوئے کی گئی ہیں۔درخواست میں کہا گیا کہ ”مختلف عہدوں کیلئے اشتہارات دیئے گئے، جن میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر، نیشنل بینک آف پاکستان کے صدر، ایس ای سی پی، پی این ایس سی اور کے پی ٹی کے چیئرمینوں، ٹی ڈی اے پی کے سی ای او، ایس ایس جی سی ایل، ایس این جی پی ایل، پاکستان اسٹیل ملز کے چیئرمینوں، پی ٹی وی کے ایم ڈی اور دیگر بہت سے عہدوں کے اشتہارات شامل ہیں۔
ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے مطابق ”13 جون کو اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے وزیراعظم کی منظوری کے ساتھ ایک نوٹیفکیشن جاری کرکے مختلف اداروں میں اہم عہدوں پر تقرریوں کو مستثنیٰ قرار دیا تھا، جن میں نیشنل الیکٹرک ریگولیٹری اتھارٹی، آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی، پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی، پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن وغیرہ شامل ہیں۔“ اس سلسلے میں بیس جون کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے بھی اعلیٰ سطح کی تقرریوں کو سپریم کورٹ کے فیصلے کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے وفاقی حکومت کو اس سے روکا تھا۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے ایسی تمام غیرقانونی تقرریوں کو ختم کرنے کیلئے وزیراعظم سے درخواست کی تھی اور کہا تھا کہ وہ سرکاری اداروں کے سربراہوں کی تقرری کیلئے قائم فیڈرل کمیشن کو یہ ہدایت دیں کہ حکومتی کنٹرول کے تحت آنیوالے تمام کارپوریشنوں، ریگولیٹری اتھارٹیز، خود مختار اور نیم خودمختار اداروں میں کم سے کم مدت میں ایک خاص عمل سے گزارنے کے بعد تقرریاں کی جائیں۔
اداروں کے سربراہوں کی تقرری کیلئے کمیشن سے بڑھ کر بہتر کوئی طریقہ شاہد ہی ہو۔ اسکے ذریعے بھی جمہوری حکومتیں آسانی سے تقرریاں کرسکتی ہے۔ شاید کسی کا مشورہ سننا اور رائے سے اتفاق کرنا ہمارے حکمرانوں کی طبع نازک پر گراں گزرتا ہے۔ عوامی مینڈیٹ کے زعم میں سپاہی سے آئی جی‘ چپڑاسی سے چیف سیکرٹری کی تعیناتی کو اپنا اول و آخر اختیار سمجھتے ہیں۔ سپریم کورٹ کے مذکورہ فیصلے کو شاید مسلم لیگ (ن) کی حکومت اداروں کے سربراہی کی تقرری و تعیناتی کی اجازت کو اپنے لئے کھلی چھٹی سمجھ لے۔ یہ اسکی نادانی ہو گی۔ میرٹ کو بہرکیف مدنظر رکھنا ہوگا‘ دوسری صورت عدالتیں موجود ہیں۔ جو آج نسبتاً زیادہ فعال ہیں۔ عوام کی طرح عدلیہ نے بھی آپ پر اعتماد کیا ہے۔ اس کو کسی طور ٹھیس نہ پہنچنے دیں۔ اب تک جو بھی تقرریاں نیک نیتی یا بدنیتی سے رکی ہوئی ہیں‘ ان کو میرٹ کے مطابق پر کر دیں‘ اب تقرری پر کوئی قانونی قدغن نہیں رہی۔ یہ حکومت کے پاس عوام پر میرٹ کی کارفرمائی باور کرانے کا بہترین موقع ہے۔