اتوار ‘ 22 محرم الحرام 1436ھ‘16 نومبر 2014ء

16 نومبر 2014

طاہر القادری 20 نومبر کو لاہور آ رہے ہیں کسی میں ہمت ہے تو گرفتار کر کے دکھائے : رحیق عباسی!
جب انہیں دھرنا چھوڑ کر بھاگنے پر کوئی نہ پکڑ سکا، وہ اطمینان سے دندیاں نکالتے ہوئے بیرون ملک روانہ ہو گئے کسی نے انہیں روکا نہیں تو اب بھلا جب حضرت بیرون ملک سے اپنے مربیوں سے نئی گائیڈ لائن لے کر آ رہے ہیں تو انہیں کون روکے گا، جب تک ان کے سر پر دوہری شہریت کی مہربانی سے ملکہ برطانیہ کا سایہ فگن ہے کوئی ان کا بال بھی بیکا نہیں کر سکتا۔ آزمائش شرط ہے۔ اب دیکھ لیں باغیانہ بیانات، اسلام آباد پر قبضے کی دھمکیاں، ٹی وی ہیڈ کوارٹر پر حملے اور ریڈ زون میں جبری دھرنے کے باوجود کوئی ان کو تہہ دام نہیں لا سکا تو اب ڈر کاہے کا۔ حکومت تو ٹھس ہے اس سلسلہ میں، ہاں مگر ڈر ہے تو وہ ہمیں ان انقلابی کارکنوں سے ضرور ہے جو جذباتی نوعیت کے ہوتے ہیں اور وہ اپنے مرشد، آقا یا رہنماﺅں کی علمی موشگافیوں کی زیادہ معلومات یا ادراک نہیں رکھتے۔ عالم جذب یا عالم سُکر کی کیفیت میں ادا ہونے والے بیانات کا مطلب نہیں سمجھتے۔
اب ان سے اگر کوئی سر پھرا مولانا پر چڑھ دوڑا کہ آپ تو ”جینا ہو گا مرنا ہوگا .... دھرنا ہو گا دھرنا ہو گا“ کی گردان دہراتے دہراتے تھکتے نہیں اور لاہور سے کفن باندھ کر نکلے تھے، واپس نہ آنے کا حلف لیا تھا، موت پر بیعت کی تھی، آپ کس منہ سے اپنے دعوﺅں کے برعکس دھرنے سے یوں اُٹھ گئے جیسے 21 روز پورے کر کے کُڑک مرغی انڈوں سے اٹھتی ہے۔
لہٰذا رحیق عباسی کو حکومت سے زیادہ ان ناقص العقل مریدوں اور کارکنوں پر نظر رکھنی چاہئے جو ان کی طرح رمز شناس نہیں، سیدھی سادی بات کرتے اور سمجھتے ہیں۔ چلیں دیکھتے ہیں مولانا کی ٹوکری سے اب کیا برآمد ہوتا ہے۔ وہ بیرون ملک سے کونسا نسخہ کیمیا ساتھ لائے ہیں جو نافذ کرنے کا عوام کو جھانسہ دیکر ایک بار پھر بے وقوف بناتے ہیں۔
٭۔٭۔٭۔٭۔٭
بھارت میں نس بندی آپریشن کے دوران 15 خواتین کی ہلاکت، دوا ساز کمپنیوں کے مالکان کوگرفتار کر لیا گیا!
یہ تو بہت غلط بات ہے، ہمارے ہاں ایسی کئی ہلاکتیں ہوتی ہیں مگر ہم نے تو کبھی دوا ساز اداروں کے مالکان پر ہاتھ نہیں ڈالا۔ سچ پوچھیں تو ہم میں اس کا حوصلہ نہیں کیونکہ اکثر دوا ساز اداروں کے مالکان، پولٹری فارم کے مالکان اور گھی، چاول، چینی، آٹا ملز کے مالکان ہمارے پیارے راج دُلارے حکمران ہوتے ہیں یا ان کے گھر والے، اب اس حالت میں کس کی کیا مجال ہے کہ ایک مرے یا سینکڑوں، ان کے لواحقین یا حکومتی ادارے ان ملز یا فیکٹری مالکان کے خلاف ایکشن کا مطالبہ کریں۔ لگتا ہے بھارت کی ان دوا ساز کمپنیوں کے مالکان کا حکمرانوں سے یا ان کی سیاسی جماعت سے کوئی تعلق نہیں تھا جبھی تو ان کی شامت آئی ہے ورنہ آرام سے ہمارے ملز اور فیکٹری مالکان کی طرح چین کی نیند سو رہے ہوتے۔ شکر ہے ہمارے ہاں یہ بدعت موجود نہیں ورنہ ہمارے ہاں آئے روز گرفتاریوں کا ایسا سلسلہ چل پڑتا کہ ہر روز نئی خبر اور سرخی کے ساتھ کسی نہ کسی کمپنی کے مالک کی گرفتار کا ڈھنڈورا پیٹا جاتا اور یہ گرفتارانِ بلا ....
”صورت اعمال ما شکل بہ غالب گرفت“
والی ناگہانی صورتحال کا رونا روتے نظر آتے۔ اب اور کچھ نہیں تو اگر ہمارے ہاں بھی عوامی ہلاکتوں پر متعلقہ اداروں کے مالکان اور سربراہوں کی گرفتاری کا رواج پڑ جائے تو بہت سے لوگوں کا بھلا ہو گا اور جانیں بچ جائیں گی۔ ویسے بھارت میں میں نس بندی کا عمل حکمرانوں پر بھاری ہی پڑا ہے۔ آنجہانی اندرا گاندھی کے بیٹے سنجے گاندھی نے بھی مسلمانوں کی جبری نس بندی کی کوشش میں ہزاروں گھر آباد ہونے سے پہلے اجاڑ دئیے مگر خود بھی نہیں بچ سکے مکافاتِ عمل سے اور فضائی حادثے میں ناگہانی موت مرے جس کے ساتھ اس کا جبری نس بندی پروگرام دم توڑ گیا۔ بھارت میں مسلمان تو ختم نہ ہوئے البتہ سنجے کا نام لیوا کوئی نہیں رہا۔
٭۔٭۔٭۔٭۔٭
ڈاکوﺅں کا پولیس کے خلاف احتجاج، بھتہ نہ دیں تو جعلی مقابلے میں مار دیا جاتا ہے : ڈاکو، الزامات غلط ہیں : ایس پی!
پولیس کے خلاف ان کے اپنے قریبی بھائی بندوں کا یہ احتجاج حالات کی سنگینی ظاہر کرنے کے لئے کافی ہے ورنہ ڈاکو وردی والا ہو یا سادہ کپڑوں والا دونوں کا کام ہی لوٹنا ہے۔ ایک رات کی تاریکی میں یا دن دیہاڑے اسلحہ کے زور پر عوام کو لوٹتا ہے تو دوسرا وردی کے زور پر لوگوں کی جیبیں خالی کرواتا ہے کوئی انہیں روکنے کی ہمت نہیں کر سکتا کیونکہ جان اور قانون دونوں کی حفاظت لازم ہے۔
ان دونوں بھائیوں میں لوٹنے کا یہ کام باہمی رضامندی اور اشتراکِ عمل کا حسین نمونہ ہے۔ یہ ایک دوسرے کے علاقے اور کام میں مداخلت نہیں کرتے۔ احترام اس قدر ہے کہ ایک بھائی جہاں آتا ہے دوسرا فوراً وہاں سے چلا جاتا ہے یا جب تک وہ واردات اوہ معاف کیجئے اپنے کام میں مصروف ہوتا ہے دوسرا اس علاقے سے کوسوں دور رہتا ہے۔ البتہ بوقت ضرورت فوراً ایک دوسرے کی مدد کو پہنچ جاتے ہیں۔ ان حالات میں اگر گھوٹکی کے ہمارے ڈاکو بھائی پولیس کی بھتہ خوری سے تنگ ہیں تو ضرور یہ زیادتی پولیس کر رہی ہو گی۔ آجکل سندھ میں رینجرز کی وجہ سے حالات کافی ٹائٹ ہیں، ان حالات میں پولیس کے ماہانہ بھتہ میں دیر سویر اگر ہو رہی ہے تو پولیس کو چاہئے کہ اپنے بھائیوں کی مشکلات کا خیال کرے اور پیسے کی خاطر انہیں جعلی دو نمبر پولیس مقابلوں میں پار کرنے کی مکروہ حرکات سے اجتناب کرے۔ مگر لگتا ہے خون سفید ہو گیا ہے اور سارے رشتے ناطے صرف روپے پیسے سے ہی جڑے رہ گئے ہیں۔
اب ہمارا مشورہ تو یہ ہے کہ میڈیا، معززین علاقہ اور اعلیٰ حکام کی موجودگی میں یہ ڈاکو احتجاجاً ہتھیار ڈال کر جان بخشی کی شرط پر اپنے آپ کو قانون کے حوالے کر دیں، اس طرح وہ خود محفوظ ہو جائیں گے البتہ پولیس والوں کا بھتہ بند ہونے سے جان پر بن آئے گی۔