نومنتخب صدر افغانستان کا دورہ پاکستان

16 نومبر 2014
نومنتخب صدر افغانستان کا دورہ پاکستان

افغانستان کے نو منتخب صدر اشرف غنی 30رکنی وفد کے ہمراہ 2 روزہ دورے پر پاکستان آئے ۔صدر منتخب ہونے کے بعد اشرف غنی کا یہ پہلا پاکستان کا دورہ ہے۔اشرف غنی احمد زئی،کرزئی دور میں افغانستان کے وزیر خزانہ بھی رہ چکے ہیں۔نو منتخب افغان صدر ایک ایسے وقت میں پاکستان کا دورہ کر رہے ہیں جب اس سال کے آخر تک افغانستان سے امریکی اور نیٹو افواج کا انخلا شروع ہو جائیگا۔ان ماہرین کیمطابق پاکستان کو اشرف غنی کے دورے سے بہت سی توقعات وابستہ ہیں، کیونکہ ماضی میں سابق صدر حامد کرزئی کے دور میں پاکستان کے تعلقات کچھ زیادہ اچھے نہیں رہے۔
پاکستان نے افغان صدر کو پرامن انتقالِ اقتدار کی نہ صرف ہر سطح پر حمایت کی بلکہ صدر پاکستان ممنون حسین، اشرف غنی کی تقریب حلف برداری میں شرکت کیلئے خصوصی طور پر کابل بھی گئے تھے۔ مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز نے اس سال اکتوبر میں کابل کا دورہ کیا اور وزیراعظم کی جانب سے نومنتخب افغان صدر کو دورہ پاکستان کی دعوت دی تھی۔ چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف نے چھ نومبر کو کابل کا دورہ کیا۔دونوں صدور کی ملاقات میں افغان صدر نے، پاکستان، افغانستان اور چین کے سہ فریقی مذاکرات کی تجویز پیش کی، جس کا صدر ممنون حسین نے خیر مقدم کیا۔ اس تجویز پر عملدرآمد سے افغانستان میں بھارتی غلبے کی پاکستانی شکایت کا ازالہ ہو سکے گا۔ افغانستان کے چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ نے بھی صدر ممنون حسین سے ملاقات کی۔ عبداللہ عبداللہ خود چل کر صدر ممنون حسین سے ملاقات کیلئے پہنچے۔ عبداللہ عبداللہ نے کہا ماضی بھول جائیں، آئیں ایک نئے دور کا آغاز کریں، نئے سرے سے باہمی دوستی اور احترام کے جذبے کیساتھ تعلقات شروع کرینگے۔ افغانستان کے حوالے سے اگر پاکستانی اسٹبلیشمنٹ اور سیاسی قوتیں ایک دھارے پر ہوں تو دونوں ملکوں کے درمیان تعاون بڑھنے سے علاقائی امن کے قیام میں بڑی مدد ملے گی۔پاکستان میںجب سے محمد نواز شریف نے ملک کی باگ ڈور سنبھالی تو انھوں نے افغانستان سے دوستی کی اہمیت کو محسوس کرتے ہوئے دونوں ممالک کے تعلقات بہتر بنانے کے اقدامات کیے۔ پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے بھی اس ضمن میں اہم کردار ادا کیا۔محمود اچکزئی کی کوششوں کے مثبت نتائج برآمد ہوئے اوردو پڑوسی ممالک میں ایک نئے دور کا آغاز ہوا۔اب افغان صدر اشرف غنی پاکستان آئیں ہیں توتعاون کی مزید راہیں کھلیں گی۔وزیراعظم محمد نواز شریف نے گذشتہ سال نومبر میں دورہ کابل کے موقع پر افغانستان کی دوبارہ تعمیر و ترقی کیلئے مختص کردہ 35 کروڑ ڈالر کی رقم کو بڑھا کر50 کروڑ ڈالر کر دیا تھا۔
واضح رہے کہ ماضی میں دریائے کابل کے پانی کا معاملہ دونوں ممالک کے درمیان متنازعہ رہا ہے۔ کرزئی دور حکومت میں اس مسئلے پر تلخی بھی پیدا ہوئی۔ پاکستان کے سفارتی عملے اور ٹیکنوکریٹس نے اس معاملے پر کام کیا ہے۔ یوں اب کابل کے دوست تسلیم کرتے ہیں کہ دریائے کابل پر پچاس فیصد پاکستان اور پچاس فیصد افغانستان کا حق ہے۔ دریائے چترال کے پانی پر ساٹھ فیصد پاکستان اور چالیس فیصد افغانستان کا حق ہے۔دریائے کنڑ پر تین ڈیم بننے کی گنجائش ہے جس سے سارے فاٹا میں آبپاشی کا مسئلہ حل ہو سکتا ہے۔ جبکہ فاٹا کے برابر کے رقبے پر افغانستان میں آبپاشی ہوسکتی ہے۔ اسکے علاوہ تینوں ڈیموں سے گیارہ سو میگا واٹ بجلی پید ا کی جا سکتی ہے جس سے ان علاقوں میں بجلی کے بحران سے نمٹا جا سکے گا۔
دونوں ملکوں کے درمیان تجارت کا حجم دو ارب امریکی ڈالرتک پہنچ چکا ہے۔ پاکستان افغانستان کو چاول، پیٹرولیم کی مصنوعات،گوشت اورسبزیوں کے علاوہ روزمرہ کے استعمال کی چیزوں کی برآمدات میں اضافے کا خواہشمند ہے۔افغانستان سے فروٹ، سبزیاں، کمبل اور دیگر اشیاءکی درآمد میں اضافہ بھی زیر غور ہے ۔اسکے علاوہ پاکستان کے زمینی اور سمندری راستے کے ذریعے عالمی منڈی تک افغانستان کی تجارت میں اضافہ ممکن بنانے پر بھی غور ہوا۔
افغان صدر نے کہا کہ وزیر اعظم محمد نواز شریف کی علاقائی تجارت کو فروغ دینے کی بصیرت نہ صرف خطے میں اقتصادی انقلاب برپا کریگی بلکہ افغانستان اور پاکستان سمیت پورے خطے میں امن و استحکام یقینی ہوگا اور عوام کا معیار زندگی بھی بہتر ہوگا۔ پاکستان اور افغانستان علاقائی تجارت کے فروغ کے ذریعے خطے کو اقتصادی طاقت میں تبدیل کرسکتے ہیں۔دوطرفہ تجارتی حجم دو ہزار سترہ تک پانچ ارب ڈالر تک لے جائینگے۔انہوں نے کہا کہ افغانستان پاکستان کے ساتھ تجارتی ، سرمایہ کاری اور اقتصادی تعلقات کو مزیدوسعت دینے کا خواہاں ہے، افغانستان خطے میں تجارت کے فروغ کیلئے پاکستان کو وسطیٰ ایشیائی ملکوں تک تجارتی رسائی دلانے کیلئے کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔اشرف غنی نے کہا کہ افغانستان خطے میں توانائی کا راہداری ملک بننا چاہتاہے ۔انہوں نے پاکستان کے نجی شعبے کو افغانستان میں سرمایہ کاری کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ افغانستان کی حکومت جلد ویزوں کو آسان بنائے گی۔
تاریخی اور ثقافتی اعتبار سے افغانستان کو ملت اسلامیہ میں منفرد مقام حاصل ہے۔افغانی ثقافت کی تین اہم بنیادیں ہیں۔ ایرانی ثقافت، پشتون ثقافت اور اسلام۔ اس میں اسلام کا اثر سب سے زیادہ ہے۔ افغانیوں کیلئے ان کا ملک، قبیلہ سے وفاداری، مذہب، اپنا شجرہ نسب اور سب سے بڑھ کر آزادی بہت اہم ہیں۔ مذہب کے ساتھ ساتھ شاعری اور موسیقی بھی ان کی زندگی میں اہمیت رکھتے ہیں۔ افغانستان اگرچہ تعلیم کی شرح کم ہے مگر قرآن و مذہب کی تعلیم اور شاعری خصوصاً قدیم فارسی شاعری انکی زندگی اور خیالات کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ افغانستان کی سرزمین کو قدیم زمانے میں خراسان بھی کہا جاتا تھا۔ اب خراسان ایران کے ایک حصے کو کہا جاتا ہے مگر یہ دونوں علاقے (ایرانی اور افغانی خراسان) تاریخی طور پر ہمیشہ متعلق رہے ہیں۔ افغانی خراسان نے بڑے اہم لوگوں کو جنم دیا ہے جن کو عام لوگ عرب سمجھتے ہیں۔ امام ابو حنیفہ کے اجداد کا تعلق بھی افغانستان سے تھا۔ اسی طرح بو علی سینا جسے اسلامی اور مغربی دنیاو¿وں میں اپنے وقت کا سب سے بڑا طبیب اور حکیم گردانا جاتا ہے، کا تعلق بلخ سے تھا۔ بو علی سینا کے والد نے عرب ہجرت کی تھی۔ مولانا رومی کی پیدائش اور تعلیم بھی بلخ ہی میں ہوئی تھی۔ مشہور فلسفی ابو الحسن الفارابی کا تعلق افغانستان کے صوبہ فاریاب سے تھا۔ پندرہویں صدی کے مشہور فارسی صوفی شاعر نور الدین عبدالرحمٰن جامی کا تعلق افغانستان کے صوبہ غور کے گاو¿ں جام سے تھا۔