تشکیل قوم میں تہذیب کاکردار

16 نومبر 2014

قائد تحریک محترم الطاف حسین نے اپنے ایک لیکچر میں اس بات کا تفصیلی جائزہ لیا کہ قوموں کی تشکیل میں انسانی ہجرتوں کا بڑا اہم کردار ہے۔ ان کیمطابق جب انسانوں کا کوئی بڑا گروہ ہجرت کر کے کسی علاقے میں جاتا ہے تو وہ گروہ اپنے ساتھ اپنی معاشرت، ثقافت اور علوم بھی لے کر جاتا ہے۔ اس طرح ہجرتوں کا یہ عمل نئی نئی معاشرتوں کو جنم دیتا ہے گویا یہ کہا جا سکتا ہے کہ انسانی تاریخ ہجرتوں کے مسلسل عمل کی پیداوار ہے۔ میں محترم الطاف حسین کے اسی تجزیے کو آگے بڑھا رہا ہوں کہ جب کوئی زیادہ تعلیم یافتہ تربیت یافتہ، سائنس ٹیکنالوجی، ثقافت اور تمدن کے لحاظ سے جدید قوم فاتح بن کر کسی کمزور قوم کے علاقے کو فتح کر لیتی ہے تو پھر مقامی افراد کی تہذیب اور تمدن بالادست قوم کے رنگ میں رنگنا شروع ہو جاتا ہے ۔ مقامی افراد اکثریت میں ہونے کے باوجود طاقتور اقوام کے تہذیب و تمدن، رہن سہن، لباس، زبان رسم و رواج کو اپنانا اپنے لئے فخر و انبساط کا ذریعہ خیال کرنے لگ جاتے ہیں۔ وادی سندھ کی تہذیب پانچ ہزار سال پرانی ہے ۔
کسی بھی معاشرے کے طرز زندگی طرز فکر، پیداوار کے طریقے، سماجی رشتے، رہن سہن، فنون لطیفہ، علم و ادب فلسفہ و حکمت، عقائد وافسوں، اخلاق و عادات، رومانوی اور اساطیری روایات اور سماجی اقدار کے نظام کا جوہر تہذیب کہلاتی ہے مگر جب دو ہزار قبل مسیح کے لگ بھگ آریہ نسل کے لوگ چراہ گاہوں سے نکل کر جنوب مغربی ایشیاءکی طرف آئے تو انہوں نے اپنی فنی قوت کی وجہ سے مقامی باشندوں کو غلام بنا کر ایک نئے سماجی نظام کی بنیاد ڈال دی۔ آریہ کے معنی اونچی ذات شریف اور آزاد کے ہیں۔ آریہ قبیلے حرب و ضرب کے فن میں بڑے ماہر تھے انہوں نے تلوار، نیزہ، تیر کمان کے ذریعے وادی سندھ کے مادری نظام ریاست کو تہ و بالا کر کے اپنا پورا نظام جاری کیا۔
 وادی سندھ میں دراوڑ، آریہ، ہاکا، ایرانی، یونانی، عرب، ترک، افغان اور مغل قوموں کے لوگ فاتح بن کر آتے رہے اور مقامی باشندوں کے تہذیبی اوصاف کو کمزور کرتے چلے گئے۔ محمد بن قاسم کی برصغیر میں آمد کے ساتھ یہاں کے مقامی لوگ مسلمانوں کی تہذیب، رواداری، عدل و انصاف اور سماجی برابری اور بھائی چارہ کی وجہ سے ہندومت جہاں نچلی ذاتوں کے انسانوں کو حقیر جانا جاتا تھا انکی اکثریت مسلمان ہو گئی۔ مغلوں کی سات سوسالہ برصغیر پر حکومت اور انگریزوں کی سو سال کے عہد اقتدار نے ہندوستان کی آبادی کے پڑھے لکھے لوگوں میں تہذیب اور کلچر کے نئے نئے پہلو روشناس کرائے۔
اللہ بھلا کرے سر سید احمد خاں کہ جس نے 1857ءکی جنگ آزادی کے بعد مسلمان نوجوانوں کو انگریزی تعلیم اور تہذیب و ثقافت، قانون، فلسفہ، سائنس کی طرف راغب کیا۔ پھر قائد اعظم محمد علی جناح جیسے قابل جوہر اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو ودیعت کر دیا اور دو قومی نظریے کی بنیاد پر پاکستان معرض وجود میں آیا۔ لہٰذا ہندوستان سے اردو زبان بولنے والے تعلیم یافتہ افراد جب پاکستان آئے تو اپنے اعلیٰ تہذیبی اوصاف کی وجہ سے نئی مملکت کی بیوروکریسی کے خصوصی کار پرداز بن گئے۔ کراچی پاکستان کا درالحکومت بن گیا اور لیاقت علی خان پاکستان کے پہلے وزیراعظم بنے ۔
 وفاقی سیکرٹریوں میں تقریباً سبھی کے سبھی یوپی ، بہار، بھوپال سے آئے ہوئے پڑھے لکھے افراد کی اکثریت نمایاں تھی اور پھر ہندوستان سے ہجرتوں کا یہ سلسلہ 1950ءتک جاری رہا کیونکہ نئی مملکت میں ہجرت کرنیوالے افراد کیلئے ترقی و کامرانیوں کے زیادہ مواقع تھے۔ جب کوئی انسان فاتح بن یا بالادست بن کر ہجرت کرتا ہے تو اسکی نفسیات جارحانہ ہوتی ہے جبکہ وہ قومیں یا افراد جو زندگی کو بہتر بنانے کیلئے نئے مواقعوں کی جستجو میں ایک علاقے سے دوسرے علاقے میں ہجرت کرتے ہیں انکے لاشعور میں عدم تحفظ ذات کا جذبہ ہمیشہ کار فرما رہتا ہے جسکی بدولت وہ مسلسل ریاضت، محنت اور جہد البقاءکے تحت انفرادی اور اجتماعی کاوشوں سے مقامی اقوام سے زندگی کے ہر شعبے میں آگے نکل جاتے ہیں۔
جہاں تک پاکستان میں کسی بھی گروہ، قبیلے یا قوم کی شناخت کا معاملہ ہے تو برصغیر میں کسی بھی قوم کی جڑیں زیادہ پرانی نہیں ہیں۔ ہم ایرانیوں، مصریوں اور عربوں، انگریزوں جرمنوں کی طرح ہزاروں سال پرانی تہذیبوں کے امین نہیں ہیں لہذا یہی وجہ تھی کہ مفکر پاکستان علامہ محمد اقبال نے یہ نظریہ پیش کیا کہ اگر انسانوں کا گروہ علاقہ، نسل، زبان کے اشتراک پر ایک قوم بن سکتا ہے تو عقیدہ (اسلام) کے اشتراک پر بھی ایک قوم بن سکتا ہے ۔ انہوں نے مسلمان قوم کی شناخت ایک عالمی ملت کی حیثیت سے پیش کی۔ مولانا حسین احمد مدنی کے خیال میں مسلمانان برصغیر قوم کے اعتبار سے ہندوستانی اور ملت کے اعتبار سے مسلمان ہیں یہی کنفیوژن پاکستان کے بننے کے بعد بھی جاری ہے۔ نظریہ پاکستان کے حامی مذہب ، اخلاقی قدروں اور انسانی حقوق و فرائض کی بنیاد پر پاکستانی قوم کی تہذیب وحدت پر اصرار کرتے ہیں۔ یہ افراد پاکستانی تہذیب کو اسلامی تہذیب سے تعبیر کرتے ہیں اور انکے خیال میں زیادہ سے زیادہ اختیارات مرکز کے پاس ہونے چاہیں قیام پاکستان کے فوراً بعد اسلام، پاکستان سے محبت اور اردو کو اسقدر اہمیت دی گئی کہ وہ ملک جہاں بنگالی 55.48 فیصد، پنجابی 29.02 فیصد، پشتون 3.7 اور دو فیصد بلوچی اور 3.65 فیصد اردو بولنے والے تھے مگر 25 فروری 1948ءکو مجلس دستور نے اردو کو قومی زبان قرار دے دیا جس پر بنگالی بڑے سیخ پا ہوئے اور مولوی فضل الحق نے اس پر شدید احتجاج کیا۔
 قائد اعظم کا خیال تھا کہ چونکہ اردو اعلیٰ تعلیم یافتہ اور تہذیب یافتہ قوم کی زبان ہے یہ پاکستان میں قومی وحدت کو برقرار رکھنے کا اہم ذریعہ بن جائے۔ مگر بدقسمتی سے آج اگر ہندوستان، سے ہجرت کر کے آئے اردو زبان، ثقافت اور تہذیب و تمدن کے رکھوالے اپنی شناخت اور تشخص کی بحالی پر اصرار کریں تو پھر کیسے پاکستان میں مختلف قومیتوں کے درمیان اتحاد و یگانگت کی فضا پیدا ہو گی۔ بہر حال یہ کریڈٹ تو الطاف حسین صاحب کو جاتا ہے کہ انہوں نے مہاجر قومی موومنٹ کو متحدہ قومی موومنٹ میں بدلا اور آج وہ یہ برملا کہتے ہیں کہ جو مسائل مہاجروں کے ہیں وہی مسائل سندھیوں، بلوچیوں، کشمیریوں، پختونوں اور سرائیکیوں کے بھی ہیں مگر میں بصد احترام عرض کرونگا کہ جو مسائل غریب مہاجروں، سندھیوں، بلوچوں، پنجابیوں کے ہیں وہ پنجاب کے جاگیرداوں، سندھ کے سندھی وڈیروں، خیبرپختونخواہ کے خانوں اور بلوچستان کے سرداروں کے نہیں ہیں۔ (جاری)