بہادر قوم

16 نومبر 2014
بہادر قوم

بلاول زرداری نے کہا ہے کہ پاکستان خطرناک نہیں بلکہ پاکستانی قوم دنیا کی بہادر ترین قوم ہے۔ یہ بات بالکل درست ہے۔ پاکستان کے خطرناک ہونے اور قوم کی بہادری کی آزمائش کا آغاز تو قائداعظم محمد علی جناحؒ کی رحلت کے بعد سے ہی ہوگیاتھا کیونکہ اس ملک پر کالے انگریزوں کا قبضہ ہونا شروع ہوا جنہوں نے عوامی حقوق‘ جمہوریت اور سیاست کے نام پر قوم کو یرغمال بنالیا اور جاگیرداروں‘ وڈیروں اور پھر صنعت کاروں نے ایک مافیا کی شکل میں ملک پر اپنے پنجے گاڑھ لئے۔ پاکستان نے قائداعظم محمد علی جناحؒ کے بعد موثر قیادت نہ ملنے کے باعث بہت معاشی مشکلات کا سامنا کیا اور ہر گزرتے دن کےساتھ پاکستان کی حالت دگرگوں ہوتی چلی گئی۔ یہاں بہترین قومی مفاد کے منصوبوں کو غیر ملکی ایماءپر سیاست کی بھینٹ چڑھایا گیا جس کی وجہ سے آج قوم اندھیروں کا شکار ہے۔پاکستانی قوم واقعی بہادر ہے کہ جس ملک میں بنیادی صحت‘تعلیم‘ روزگار‘ مناسب رہائش‘ دو وقت کی روٹی میسر نہیں ہے اس قوم نے تمام تر مشکلات کے باوجود ایٹم بم اور جدید ترین میزائل بنالئے اور اسکے حصول میں حائل دنیا بھر کی سازشوں‘ مشکلات کا انتہائی جواں مردی سے نہ صرف مقابلہ کیا بلکہ اپنے سے کئی گنا بڑی ایٹمی طاقت اور نام نہاد جمہوریت کو لگام دیئے رکھی۔ ایٹم بم کی تیاری اور بعد میں اسکی حفاظت کے معاملے میں بھارت‘ اسرائیل اور امریکہ سمیت کئی دشمن ممالک کی سازشوں کو ہمیشہ ناکام بنایا اور اس سلسلے میں وسائل کے استعمال میں کبھی کوئی لیت و لعل سے کام نہیں لیا۔ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے آغاز کا سہرا شہید ذوالفقار علی بھٹو کے سر ہے جنہیں اسی کی سزا دیتے ہوئے شہید کردیا گیا۔
پاکستانی قیادت کی حماقت اور قوم کی بہادری کا آغاز اس وقت ہوا جب 1979ءمیں روس نے افغانستان پر حملے کی حماقت کی اور امریکہ کے زہریلے پروپیگنڈے نے پاکستانی قیادت اور تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں کے ذہن میں یہ بات بٹھا دی کہ روس کا اصل ہدف گرم پانیوں تک رسائی‘ یعنی پاکستان پر قبضہ کرنا ہی ہے اور پاکستان پرفرض بنتا ہے کہ وہ افغانستان کی جنگ میں مداخلت کرکے روس کا تعاقب کرے۔ اس سلسلے میں امریکہ نے پاکستان کو ڈالرز‘ اسلحہ اور تربیت دینے کا اعلان کیا اور پھر کیا تھا کہ ہم امریکہ کے روس سے انتقام کےلئے استعمال ہوئے۔ امریکی جرنیل طورخم بارڈر پر جب کلمہ شہادت بلند کرتے تھے تو تحریک استقلال کے قائد ایئرمارشل اصغر خان نے اسی وقت قوم سے اس حماقت سے باز رہنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ اگر ہم اس امریکی سازش کا شکار ہوئے تو خدانخواستہ اگلے 50 سال تک ملک اس کا خمیازہ بھگتے گا لیکن ان کی بات کسی نے نہیں سنی۔
امریکہ نے پاکستان کی بدولت دنیا کے نقشے سے ایک سپر پاور کو مٹا دیا اور اپنا مطلب پورا ہوتے ہی روس کیخلاف لڑنے والے مجاہدین کو پہلے القاعدہ پھر طالبان اور اب دہشت گرد قرار دیکر ان کیلئے زمین تنگ کردی ہے۔ پاکستان میں امریکی طالبان نے اب تک دہشت گردی کرکے لاکھوں لوگوں کو شہید کیا ہے اور پاکستان کی سیکورٹی فورسز کے بھی ہزاروں افسران و اہلکار شہید ہوچکے ہیں لیکن اب بھی کوئی یہ بات وثوق سے نہیں کہہ سکتا کہ پاکستان سے دہشت گردی کا مکمل خاتمہ کب تک ممکن ہوسکے گا؟ امریکہ نے اس گھناﺅنی سازش سے ایک طرف تو روس کو ختم کیا اور دوسری طرف پاکستان جوکہ دنیا کی واحد اسلامی ایٹمی طاقت تھی اسے دہشتگردی کے نہ ختم ہونیوالے عذاب میں مبتلا کرکے معاشی طور پر دیوالیہ کردیا۔ روس کے خاتمے کے بعد امریکہ‘ بھارت اور اسرائیل کا اب اولین مقصد پاکستان کے ایٹمی و میزائل پروگرام کا خاتمہ ہے اور اس مقصد کے حصول کیلئے وہ تمام عالمی اصولوں‘ اخلاقیات‘ قوانین اور انسانی حقوق کو پس پشت ڈال کر ہر طریقہ کار آزما رہا ہے اور انہی سازشوں کے باعث پاکستان اس وقت اندرونی و بیرونی خطرات سے دوچار ہے جس سے نبردآزما ہونے میں پاکستان کی مسلح افواج اور سلامتی کے ذمہ دار ادارے داد وتحسین کے مستحق ہیں اور انہیں پوری قوم کی مکمل حمایت و ہمدردی حاصل ہے۔ان تمام معاملات میں بدقسمتی سے سیاسی طور پر پاکستان کو ایسی قیادت حاصل نہیں ہوئی جو عالمی سازشوں سے نبردآزما ہونے کے ساتھ ساتھ عوام کے بنیادی مسائل کے حل کیلئے انقلابی اقدامات کرے کیونکہ یہاں فرسودہ نظام کے تحت ایک مخصوص ٹولہ اقتدار پر قابض ہے۔ عوام بجلی ‘ گیس اور سی این جی کی لوڈشیڈنگ کےساتھ ساتھ روزی روٹی و علاج معالجے کی سہولتوں سے محروم ہونے کے ساتھ ساتھ دہشت گردی و بدامنی کے ماحول میں زندگی گزار رہے ہیں اور شاباش ہے اس قوم پر جو اس قدر مسائل کے باوجود دنیا میں اپنا مقام رکھتی ہے اور تعلیم‘ دفاع‘ سائنس‘ کھیل اور غرض دنیا کے ہر شعبے میں نمایاں رہتی ہے۔ کئی امیر ترین اسلامی ممالک کے مقابلے میں پاکستان دنیا میں اپنا مقام رکھتا ہے اور یہاں کی عوام نہ صرف دہشت گردی سے لڑ رہی ہے بلکہ تمام تر بدترین حالات کے باوجود تمام ممکن حد تک دنیا میں اپنے ملک کا نام روشن کرنے میں لگی ہے ۔
عالمی میڈیا میں جس نئی بیماری یا دہشت گرد گروپ کا ذکر دنیا کے کسی بھی خطے کے متعلق آنا شروع ہوتا ہے بالاآخر اس کا عروج پاکستان میں ہی کیوں ہوتا ہے؟ پہلے القاعدہ کے سعودی عرب میں قیام کی خبریں آئیں اور پھر القاعدہ صرف پاکستان میں ہی رہ گئی۔ ڈینگی وائرس افریقی ممالک میں شروع ہوا اور پھر پاکستان میں ہی سب سے زیادہ لوگ ڈینگی کا شکار ہوئے۔ کانگو وائرس افریقی ممالک میں پیدا ہونے کے بعد اب پاکستان میں اس سے متاثرافراد کی خبریں آرہی ہیں۔ نیگلیریا کا ذکر بھی پہلی بار عالمی میڈیا میں سنا لیکن ا ب پاکستان میں بھی اس سے اموات ہورہی ہیں۔ ایڈز کا تو پاکستان سے دور دور تک واسطہ نہیں تھا مگر اب ایک خطرناک رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ پاکستان میں ایڈز سے متاثر ہزاروں افراد موجود ہیں۔
داعش کا قیام عراق و شام میں ہوا اور اب آہستہ آہستہ داعش کا رخ بھی پاکستان کی طرف ہوتا نظر آرہا ہے۔ ان سب امراض و پرتشدد گروپوں کا آخری ٹھکانہ بالآخر پاکستان ہی کیوں ہوتا ہے؟ سلام ہے اس قوم پر جو دنیا کے تمام خطرناک گروپوں اور امراض کی آماج گاہ ہونے کے باوجود یہاں کی عوام اپنی روزمرہ کی نارمل زندگی گزار رہی ہے۔ یہاں وی آئی پی کلچر کی بیماری بھی پوری قوم میں سرائیت کرچکی ہے اور وی آئی پی موومنٹ میں بھی کئی افراد ایمبولینسوں میں زندگی کی بازی ہار چکے ہیں۔ تھر میں قحط سالی سے کئی نومولود بچوں سمیت درجنوں افراد ہلاک ہوچکے ہیں اور اس قحط سالی پر حکومتی افراد یہ بیان دیتے ہیں کہ ملک بھر میں سینکڑوں بچے ہلاک ہوتے ہیں اور اگر تھر میں 2-4 ہلاکتیں ہوگئی ہیں تو اس پر اتنا واویلا کیوں کیا جارہا ہے؟
واقعی بہادر ہے ہماری عوام جو تمام حالات میں بھی شیروشکر ہوکر زندگی گزار رہی ہے اور ان کی بہادری میں مزید اس وقت اضافہ ہوگا جب اگلے الیکشن میں بھی قوم کو اس حال تک پہنچانے والے کسی بھی طریقے سے دوبارہ بھاری اکثریت سے جیت جائیں گے اور اس کے بعدتو پوری پاکستانی قوم کو بہادری کا گولڈ میڈل بھی ملے گا کیونکہ جمہوریت مضبوط ہے اور ملک آئین کے دائرے میں چل رہا ہے۔ عوام کو تمام آئینی و قانونی حقوق حاصل ہیں اور ملک بھر کا ہر شخص برابری کی بنیاد پر زندگی گزار رہا ہے۔