’’بزنس ٹرین سیاسی سودا تھا، پرائیویٹ کمپنی کے مفادات کا خیال رکھا گیا ‘‘

16 نومبر 2014

لاہور (سٹاف رپورٹر) سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے ریلوے نے وزارت ریلوے کی کارکردگی کو بہتر قرار دیتے ہوئے ریلوے کی بحالی کے لیے وزیر ریلوے اور ان کے ساتھیوں کی کوششوں میں مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی قائمہ کمیٹی نے سپریم کورٹ سے رائل پام کلب کیس کو جلد نمٹانے کی  درخواست بھی کی ہفتے کے روز ریلوے ہیڈ کوارٹرز میں  اجلاس کی صدارت چیئرمین قائمہ کمیٹی سینیٹر میر محمد علی رند نے کی اور اس میں وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق قائمہ کمیٹی کے ارکان احمد حسن، مختیار احمد دھمرا، محمد ادریس خاں صافی، کامل علی آغا، مسزنسرین جلیل، ایم حمزہ ،تاج حیدر  چیئرپرسن  ریلویز مسز پروین آغا، سیکریٹری ریلوے بورڈ ہمایوں رشید، جنرل منیجر آپریشنز محمد جاوید انور، جنرل منیجر ڈویلپمنٹ محمد خالد، انسپکٹر جنرل ریلویز پولیس منیر احمد چشتی، ایڈیشنل جنرل منیجر ٹریفک مقصودالنبی، منیجنگ ڈائریکٹر ریڈیمکو ارشد اسلام خٹک اور ڈائریکٹر جنرل لیگل افیئرز طاہر پرویز سمیت سمیت اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ بزنس ٹرین بنیادی طور پر ایک ’’سیاسی سودا‘‘ تھا جس میں ریلوے کے مفادات کی بجائے پرائیویٹ کمپنی کے مفادات کا اہتمام کیا گیا  بدقسمتی سے اُس دور کی ریلوے انتظامیہ کے اعلی حکام بھی شریک تھے انہوں نے بتایا کہ بزنس ٹرین اصل معاہدے کے مطابق ایک ارب روپے جبکہ ای سی سی کے فیصلے کی رو سے 40کروڑ کی نادہندہ ہے اور اِسے ڈیفالٹر قرار دینے کا کیس نیب میں بھی موجود ہے۔  وزیر ریلوے نے کہا کہ  رائل پام کلب  معاہدے میں بھی ریلوے انتظامیہ پرائیویٹ کمپنی سے ملی ہوئی تھی۔