شرح سود میں کمی اونٹ کے منہ میں زیرہ ہے‘ سٹیٹ بینک مانیٹری پالیسی پر نظرثانی کرے: صنعتکار‘ تاجر

16 نومبر 2014

لاہور (کامرس رپورٹر) صنعتکار و کاروباری برادری نے سٹیٹ بینک کی جانب سے نئی مانیٹری پالیسی میں 50 بیس پوائنٹس کی کمی  کے فیصلے کو ناکافی قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ سٹیٹ بینک کو نظر ثانی کرکے مزید 350 بیس پوائنٹس کی کمی کرنی چاہئے لاہور ایوان صنعت و تجارت کے صدر اعجاز اے ممتاز سینئر نائب صدر میاں نعمان کبیر نائب صدر سید محمود غزنوی سابق سینئر نائب صدر شیخ محمد ارشد ایگزیکٹو کمیٹی ممبر خواجہ خاور رشید فلور ملز ایسوسی ایشن کے چیئرمین عاصم رضا احمد سابق چیئرمین میاں ریاض احمد اور پولٹری ایسوسی ایشن کے سابق چیئرمین عبدالباسط نے سٹیٹ بینک کی جانب سے مانیٹری پالیسی ریٹ کو 10 فیصد سے کم کرکے 9.5 فیصد کرنے کے فیصلے کو اونٹ کے منہ میں زیرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ سٹیٹ بینک کو خطے کے دیگر ممالک میں پالیسی ریٹ کو مدنظر رکھتے ہوئے اے 6 فیصد مقرر کرنا چاہئے تھا بھارت میں پالیسی ریٹ 6 فیصد کے لگ بھگ ہے جبکہ پاکستان میں یہ 9.5 فیصد ہے اس صورتحال میں اہم عالمی منڈی میں بھارت سمیت دیگر ممالک کا مقابلہ کیسے کر سکتے ہیں اس ریٹ پر حکومت پاکستان کو قرضے حاصل کرنے میں ہی فائدہ ہوگا جبکہ صنعتی و کاروباری شعبہ کو بینکنگ سیکٹر سے اپنے پراجیکٹس کیلئے قرضے لینے میں کوئی خاص فائدہ نہیںہوگا ۔