بلدیاتی ادارے

16 نومبر 2014

ایک فعال اور مضبوط جمہوری نظام میں طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں اس ضمن میں بلدیاتی ادارے بے حد اہم کردار ادا کرتے ہیں کیونکہ یہ ادارے عوامی رائے کے اظہار کیلئے بنیاد فراہم کرتے ہیں اور اس طرح عوام کی حکومت میں شمولیت گراس روٹ لیول سے یقینی ہو جاتی ہے۔ ملک میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کے سلسلے میں 8 اپریل کو سپریم کورٹ نے وفاقی اور تمام صوبائی حکومتوں کو احکامات جاری کئے کہ وہ 5 ماہ کے عرصے میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کیلئے ضروری قانون سازی کریں۔ نیز وہ الیکشن کمیشن کو ان انتخابات کے انعقاد کیلئے حد بندی کا اختیار دیں۔ وفاق اور صوبوں کی طرف اس اختیار کے ملنے کے بعد الیکشن کمیشن نے یہ حد بندی 45 دن کے اندر مکمل کرنی تھی تاکہ نومبر 2014 میں بلدیاتی انتخابات منعقد ہو سکیں۔ نومبر کا مہینہ تیزی سے گزر رہا ہے اور بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کے قطعی کوئی آثار نظر نہیں آ رہے جبکہ ملکی آئین کی شق نمبر 104A کے مطابق ملک میں بلدیاتی ادارے کا قیام عمل میں آنا لازمی ہے۔ پاکستان میں پچھلے بلدیاتی انتخابات 9 سال پہلے منعقد ہوئے تھے۔دراصل تمام سیاسی جماعتوں نے آپس میں گٹھ جوڑ کیا ہوا ہے اور وہ کسی صورت میں اقتدار گراس روٹ لیول یعنی نچلی سطح پر منتقل کرنے کیلئے تیار نہیں۔ ہمارے سیاسی عمائدین کی جمہوریت سے محبت صرف اُس صورت میں قائم رہتی جبکہ وہ اُن کے مفادات کے تابع ہو اور وہ دونوں ہاتھوں سے ملکی وسائل اور دولت کو لوٹ سکیں۔ ہمارے سیاسی رہنمائوں کے دوغلے پن کا اندازہ اس امر سے کیا جا سکتا ہے کہ وہ ملک میں عام انتخابات کے انعقاد کے سلسلے میں قطعی کوئی تاخیر یا التوا برداشت کرنے کو تیار نہیں ہوتے کیونکہ اس طرح سے بقول اُنکے جمہوریت خطرے میں پڑ جائیگی مگر وہ جمہوریت کی بنیاد کیلئے کبھی بلدیاتی اداروں کے قیام کیلئے تیار نہیں ہوئے کیونکہ اس طرح اُنکے اقتدار میں دوسرے افراد شریک ہو جائینگے اور ان کیلئے اس سے بھی بہت زیادہ اہم مسئلہ ان اربوں روپے کے فنڈز کا ہے جو کہ اُنکے ہاتھوں سے نکل جائینگے۔
2013ء میں عام انتخابات کے بعد تمام سیاسی پارٹیوں پر بلدیاتی اداروں کی بحالی کے بارے میں بہت دبائو تھا۔ اُس وقت پنجاب، سندھ اور خیبر پی کے صوبوں کی حکومتوں نے Demarcation یعنی حد بندی اس طرز پر کی کہ وہ صرف اُنکے مخصوص نمائندوں کی جیت کو یقینی بناتی تھی۔ اس کیخلاف حزب اختلاف نے عدلیہ سے رجوع کیا اور پھر معاملہ عدالتوں کی فائلوں میں دفن ہو گیا اور اس طرح تینوں صوبوں کی حکومتیں اپنے مقصد میں کامیاب ہو گئیں۔ مگر سپریم کورٹ آف پاکستان نے سارا معاملہ گڑبڑ کر دیا جبکہ اس نے تمام صوبائی، وفاقی حکومتوں اور الیکشن کمیشن کو اپنے 14 اپریل کے حکم میں واضح طور پر حکم دیا کہ وہ بلدیاتی انتخابات منعقد کریں مگر کوئی بھی صوبائی حکومت ٹس سے مس نہیں ہوئی حقیقت یہ ہے ملک میں پچھلے 9 سالوں سے بلدیاتی اداروں کی عدم موجودگی جمہوری تقاضوں کے منافی ہے۔ جمہوریت کے بہت بڑے دعویدار عمران خان بھی بلدیاتی اداروں کے انتخابات میں غیر ضروری تعطل کے بارے میں تمام تر ذمہ داری سپریم کورٹ اور الیکشن کمیشن پر ڈال کر ٹال مٹول میں مصروف ہیں۔ کوئی بھی سیاسی لیڈر اس بات کا جواب دینے کو تیار نہیں کہ 5 ماہ کا عرصہ گزر جانے اور سپریم کورٹ کے واضح احکامات کے باوجود صوبائی حکومتوں نے ابھی تک اس سلسلے میں قانون سازی کیوں نہیں کی۔ حکومت کی جانب سے بلدیاتی اداروں کی بحالی میں پس و پیش کی چند وجوہات درج ذیل ہیں :۔
اول: ضلعی حکومتوں کی عدم موجودگی میں ترقیاتی پروگرام کیلئے مختص رقم کو خورد بُرد کرنا بہت آسان ہو جاتا ہے کیونکہ بلدیاتی اداروں کو مہیا کی جانیوالی رقم ایک عام شہری کے علم میں بھی ہوتی ہے اور اس کے بارے میں ایک کونسلر سے آسانی سے پوچھ گچھ کی جا سکتی ہے جب کہ وزیر اعلیٰ یہی کروڑوں روپے کی رقم نوکر شاہی سے مل کر خرچ کرتے ہیں اور اس کو مانیٹرکرنا ناممکن ہوتا ہے اور ذمہ دار اپنی من مانی کرنے کیلئے آزاد ہوتے ہیں۔ دوم: پورے صوبے کیلئے ترقیاتی مقاصد کے لیے مختص کی ہوئی رقم صرف ایک یادو شہروں پر خرچ کر دی جاتی ہے۔ اسکی واضح مثال لاہور میں جنگلہ بس کی تعمیر ہے جو مقامی حکومت کی موجودگی میں تعمیر نہیں کی جا سکتی تھی اور اگر بیرونی ممالک کی طرح جنگلہ بس کی تعمیر لوکل حکومتوں کے ذریعے کی جاتی تو وزیر اعلیٰ کو آئندہ الیکشن میں اپنی شاندار کارکردگی دکھانے کا موقع نہ مل سکتا۔ سوم: بلدیاتی اداروں کی بحالی کے نتیجے میں ضروری نہیں کہ تمام ضلعی ناظم حکمران جماعت سے ہی تعلق رکھتے ہوں جبکہ انکی عدم موجودگی میں وزیر اعلیٰ نوکر شاہی کے ذریعے لامحدود اختیارات حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔چہارم: بلدیاتی اداروں کی غیر موجودگی میں ضلعی حکومتوں کو دی جانے والی رقم ایم این اے اور ایم پی اے کو بطور رشوت دی جاتی ہے تاکہ پارٹی سے اُن کی فرمانبرداری اور وفاداری کو یقینی بنایا جا سکے۔ پنجم: آخر میں صوبائی وزیر اعلیٰ تمام اضلاع پر برائے راست ڈی پی اوز  اور ڈی سی اوز کے ذریعے حکومت کرنا چاہتے ہیں جبکہ اس طرح نوکر شاہی کو اپنی مان مانی کرنے کی کھلی چُھٹی مل جاتی ہے۔ نیز اس طرح وزیراعظم نوکر شاہی کے ذریعے پارلیمنٹ کے ارکان کو اپنے ہاتھ میں رکھتا ہے۔ قارئین! یہ چند اہم وجوہات ہیں جن کی وجہ سے تمام سیاسی پارٹیوں نے آپس میں اپنے شدید اختلاف کے باوجود ایکا کیا ہُوا ہے اور وہ کسی صورت میں بھی ملک میں بلدیاتی اداروں کے قیام کے لیے تیار نہیں جبکہ ہر سیاسی لیڈر تقریباً اپنے ہر بیان میں ملک میں جمہوری طرز حکومت کا پرچار کرتے ہیں مگر اُن کا سیاست کو بطور پیشہ اختیار کرنے کا واحد مقصد دولت اور طاقت کا حصول ہے وہ جمہوریت کے نام پر عوام کو لوٹتے رہتے ہیں اور اپنی تجوریاں بھرنے میں مصروف رہتے ہیں لیکن اُن کے مال و دولت جمع کرنے کا طمع اور لالچ ختم نہیں ہوتا۔ ان ہی کے بارے میں شیخ سعدی نے کہا کہ ’’میں ایسے غریب لوگوں کو جانتا ہوں جن کے پاس دولت کے علاوہ اور کچھ بھی نہیں۔‘‘