قومی یکجہتی کی قومی ضرورت

16 نومبر 2014
قومی یکجہتی کی قومی ضرورت

واہگہ بارڈر لاہور کے حالیہ خودکش حملے نے ثابت کر دیا کہ ہمارے وہ تمام مقامات جن سے ہماری جذباتی وابستگی ہے تاحال خطرے و ٹارگٹ میں ہیں۔ جیسا کہ قبل ازیں زیارت کیمقام پر قائد اعظم محمد علی جناحؒ کی ریذیڈنسی، جی ایچ کیو، مساجد، امام بارگاہیں، ہسپتال بھی گاہے بگا ہے دہشت گردی کا نشانہ بنتے رہے ہیں۔ اس وقت لاہور واہگہ بارڈر پر پرچم اتارنے کی روایتی تقریب دیکھنے آنے والوں کو جس طرح بذدلانہ و ظالمانہ بمبار حملے سے خون میںنہلادیا گیا یہ افسوسناک واقعہ ہمارے ارباب بست و کشاد کی طرف سے کمزور سکیورٹی انتظامات کا غماز ہے۔ گویا کہ ہم جس عوام کی فلاح کی طرز حکومت یعنی جمہوری حکومت کے قیام و دوام کیلئے اپنا پورا انتخابی ایجنڈا منضبط کرتے ہیں۔ جس عوامی بھلائی کی طرز جمہوریت کے استقلال Sustainality کیلئے مقدور بھر سیاسی مفاہمتیں نام نہاد قربانیوں کے دعوے کرتے ہیں اس جمہوری ریاست کی عوام پر سرخ لہو رنگ برسات کے یہ کربناک مناظر جب میڈیا پر دیکھتے ہیں تو کلیجہ منہ کو آتا ہے۔ جندللہ، حزب الاحرار و تحریک طالبان بحرحال منطقی طور پر بیک وقت کسی فرد واحد خودکش حملہ آور کے قیادت نہیں ہو سکتی۔ حیران کن امر یہ ہے کہ ٹی ٹی پی، جندللہ اور حزب الاحرار والوں کی طرف سے ملک میں ہونے والی کسی بھی دہشت گردی کی ذمہ داری فوری طور پر نہ صرف فخریہ قبول ہو جاتی ہے بلکہ مذکورہ تنظیموں کی طرف سے بمبار خونی کھیل کے کریڈٹ کے پھول اپنے گلے میں ڈالنے کیلئے آپس میں یہ مقابلہ و مسابقہ شروع کر دیتے ہیں۔
تجزیہ بتا رہا ہے کہ وطن عزیز کے آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی سرپرستی میں شمالی وزیرستان میں جو ضرب عضب آپریشن کامیابی سے ہوا ہے اس کے بعد دہشت گرد تنظیموں اور خودکش بمباروں کی ماں مر چکی ہے اور یہ لوگ اب اس طرح کے حملوں کا حوصلہ نہیں رکھتے۔ پھر بھی اگر یہ لاغر بچی کچھی منتشر تنظیمیں ملک کو بدامن کرنے کی کارروائی کا کوئی حوصلہ کر لیتی ہیں تو دیکھنا یہ ہو گا کہ انہیں ’’حلے شیرا کون کہہ رہا ہے؟ کوئی تو ہے جو کامیاب ضرب عضب آپریشن کو سبوتاژ کرنا چاہتا ہے؟ ایسی کونسی آنکھ ہے جسے ہمارا ملکی امن پسند نہیںآتا؟ حزب الاحرار، جندللہ اورتحریک طالبان علیحدہ علیحدہ ایک دہشت گرد واقعہ کی ذمہ داری لینے کا اعلان کر رہے ہیں جس کا مطلب ہے کہ یہ ایک نہیں… اگر اعلان علیحدہ علیحدہ ہے تو پھر سب کی طر ف سے حملہ یک مشت کیسے ہو گیا… اور ایک خودکش حملہ آور مختلف تنظیموں کا کھایا، پڑھایا اور سکھایا کیسے ہو گیا؟مذکورہ تنظیموں کا تو اپنی ذیلی باڈیز میں اتفاق نہیں رہا اور یہ تنظیمیں پہلے ہی مختلف حوالوں سے ایک دوسرے سے شدید اختلافات رکھتی ہیں پھر ان تنظیموں کے بیشتر افراد کو آج کل شمالی وزیرستان سے کوچ کر کے کہیں کسی جگہ سر چھپانے کی فکر لاحق ہے یہ لوگ اپنی جان کیلئے محفوظ راستوں کی تلاش میں جھٹکے ہوئے ہیں۔ اس تناظر میں ہمیں اس سوال کو وسیع پیمانے میں سمجھنے کے لئے کہ آخر واہگہ بارڈر کے حساس علاقے و محترم روایتی تقریب کو ٹارگٹ کر کے ہماری سرحدی سالمیت کو ٹارگٹ کون کر سکتا ہے؟ لائن آف کنٹرول پر جنگ بندی کے معاہدے کو کون ہمیشہ آسانی سے بریک کرتا ہے؟ واہگہ بارڈر پر جس قسم کا خودکش حملہ کیا گیا ہے ماضی میں ملک کے اطراف میں ہونے والے اس قسم کے خودکش حملوں میں بھارتی ہاتھ کے ملوث ہونے کے شواہد ہمارے حساس اداروں کے پاس بھی موجود ہیں۔ ’’را‘‘ اور ’’موساد‘‘ کی کئی موقعوں پر خصوصی خفیہ سرگرمیاں بھی سامنے آتی رہی ہیں۔ خودکش حملہ آوروں کی وقوعہ سے ملنے والی جیکٹس پر بھارتی سٹیمپس بھی پائی گئی ہیں اس وقت بھی واہگہ بارڈر خودکش بموں میں استعمال ہونے والا غیر ملکی بارود بھارتی مینفکچرڈ ہے۔ فرانس، روس، اسرائیل اور امریکہ جیسے ممالک سے اسلحہ و بارود کے مواد کی خریداری پر اپنا سرمایہ کھپا دینے والا بھارت دنیا کاایک نمایاں ملک بن چکا ہے۔ بھارت کی بیشتر توجہ گزشتہ ڈیڑھ دو دہائیوں سے خصوصی طور پر ریاست کے اندر اسلحہ بارود کی فیکٹریاں لگانے پر ہے کہ جس کا خطے کے امن کیلئے عالمی برادری کو نوٹس لینا ہو گا حالانکہ بھارت سی ٹی بی ٹی کا حمایتی بھی رہا ہے میں قطعی طور پر ماننے کوتیار نہیں کہ ملک کی دہشت گرد تنظیمیں اسوقت ملکی امن کو نقصان پہنچا کر ضرب عضب آپریشن کا انتقام لے رہی ہیں… اصل میں جوایسی باتیں کرتے ہیں ان کا مقصد ضرب عضب آپریشن رکوانا ہے کیونکہ بھارت نے امریکی مفاہمت سے افغانستان میں 50 سے زائد کونسل خانے قائم کرنے کا کام شروع کیا تھا اور سٹرکچرل ڈویلپمنٹ کے نام پر بھارت نواز کی امریکہ و بھارتی تنظیموں نے شمالی وزیرستان میں اپنے اڈے قائم کرنے کی کوشش کی تھی جو کہ آپریشن ضرب عضب سے اپنے خفیہ امور میں ناکام ہو گئے۔ اب دشمن خفیہ اداروں جو کہ پاکستان میں متحرک ہیں کے پاس ایک ہی راستہ بچا ہے کہ وہ خود کو بے نقاب ہونے سے بچانے کیلئے ملک میں موجود ان مریل دہشت گرد تنظیموں میں جان ڈالنے کیلئے انہیں فنڈز فراہم کریں اور ان نام نہاد دہشت گرد تنظیموں کی میت پر اپنی مذموم کارروائیاں جاری رکھے ملک کو عدم استحکام کرنے کے خواب کو پورا کر سکیں۔
ہم اگر ملکی بدامنی وخودکش حملوں کے نتیجے میں بے گناہوں کی اٹھنے والی لاشوں پر حکومت کو کوستے رہتے ہیں تو حکومتی امن کوششوں و بہترین سکیورٹی پلان پر متعدد دہشت گرد واقعات کے ہونے سے عوام کو بچا لینے پر حکومت کو نہ سراہنا مبنی بہ انصاف ہو گا۔ محرم الحرام میں سندھ اور پنجاب میں وسیع پیمانے پر دہشت گرد حملوں کی اطلاعات موجود تھیں۔ کچھ مذہبی تنظیموں وعوام نے خود بھی اپنی مدد آپ کے تحت جیمرز لگا کر محرم کے مذہبی اجتماعات کو محفوظ بنایا تو دوسری طرف محرم الحرام کے ماتمی جلوس و دیگر مذہبی اجتماعات کو محفوظ پرامن بنانے میں حکومت کے بہترین سکیورٹی پلان کو بھی ہم خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ محرم الحرام کے پہلے عشرے میں چونکہ ہر مذہبی طبقے کی اپنی روایت کے مطابق نبی رسولؐ و آل رسولؐ سے عقیدت کے اظہار کے اجتماعات کا زور ہوتا ہے اسلئے دہشت گردی کو فرقہ واریت کی روٹ میں ہوا دی جا سکتی ہے تاہم یہ عشرہ امن و امان سکون سے گزر گیا اور کسی قسم کی بدامنی کا واقعہ پیش نہ آیا ہمیں بتا رہا ہے کہ ملک میں امن کی بحالی کیلئے باہمی تعاون کی ضرورت ہے قومی ضرورتوں کو پورا کرنے کیلئے عوام اور حکومت سب کو ملکر چلنا ہو گا۔