وائٹ کالر۔۔۔

16 نومبر 2014

نوے کی دہائی میں دبئی کے حکمران مکتوم بن راشد المکتوم کے دربار میں مصاحبین، ریاستی امور اور دیگر معاملات پر گفتگو کر رہے تھے۔ ایسا دربار شیخ جب چاہیں منعقد کر لیتے ہیں۔ اقبال حسین لکھویرا اس دور میں دبئی میں پاکستانی میڈیا کی نمایاں اور نمائندہ شخصیت تھے۔ ان کی بھی شیخ کے محل تک رسائی تھی۔ انہوں نے ایسے کئی مواقع پر ادب و احترام سے بہاولپور ائرپورٹ کے رن وے کو توسیع دینے کا مشورہ دیا تھا۔ اقبال لکھویرا کو عربی پر عبور ہے۔ اس وجہ سے وہ عربوں کے جلد قریب ہوجاتے ہیں۔ لکھویرا صاحب کا بہاولپور سے تعلق ہے۔ بہاولپور ائرپورٹ کے رن وے پر فوکر ہی لینڈ کر سکتا ہے۔ بوئنگ کے مسافروں کو ملتان اتر کر بہاولپور جانا پڑتا ہے۔ ابوظہبی کے حکمرانوں کی شکارگاہ اور محلات رحیم یار خان میں ہیں جبکہ دبئی کے شیخوں کی شکارگاہ یزمان میں اور محل بہاولپور میں ہے۔ ان کو ملتان ائرپورٹ سے ہیلی کاپٹر کے ذریعے بہاولپور جانا پڑتا ہے۔ لکھویرا کا استدلال یہ تھا کہ بہاولپور کے رن وے میں توسیع سے دبئی کے حکمران براہِ راست بہاولپور پہنچ جایا کریں گے۔ ان کی بات یا مشورے کو زیادہ اہمیت نہیں دی گئی۔ ایک مرتبہ ولی عہد سے بات کرنے کا موقع ملا تو انہوں نے اس تجویز کو پسند کیا۔ انہوں نے پوچھا کہ خرچہ کتنا آئے گا۔ لکھویرا صاحب نے ائرپورٹ منیجر ہدایت اللہ سے سروے کرایا، تخمینہ 10 کروڑ روپے لگایاگیا تھا۔ اقبال لکھویرا کہتے ہیں کہ انہوں نے احتیاطاً 15 کروڑ روپے مقامی کرنسی کے مطابق بتا دئیے۔ ولی عہد شیخ محمد بن راشدالمکتوم (اب دبئی کے حکمران)نے حیرانی سے کہا ’’یہ تو بہت کم رقم ہے، پاکستانی وزیراعظم دبئی آئیں تو ہمیں یاد کرانا، ان سے بات کریں گے‘‘ چند ماہ بعد وزیراعظم صاحب دبئی تشریف لے گئے۔ ان کے اعزاز میں خلیفہ کی طرف سے ظہرانہ دیا گیا جس میں اقبال لکھویرا بھی موجود تھے۔ انہوں نے وہ تجویز یاد کرائی تو ولی عہد وزیراعظم پاکستان کے قریب چلے گئے۔ لکھویرا کے بقول وہ بھی غیر محسوس طریقے سے اپنی پلیٹ اٹھائے کچھ فاصلے پر سُن گن لینے لگے۔ وزیراعظم نے تجویز کا خیر مقدم کیا۔ ولی عہد نے پوچھا کہ 15 کروڑ کا چیک کہاں  پہنچائیں تو وزیراعظم نے کہا ’’میرا آدمی لے جائے گا‘‘ چند دن بعد چیک پاکستانی وزیراعظم کا نمائندہ لے گیا۔
اس رن وے کی توسیع میں اقبال لکھویرا سے زیادہ کس کی دلچسپی ہو سکتی تھی! وہ ہر چند ماہ بعد ائرپورٹ منیجر سے تعمیراتی سرگرمیوں کے آغاز یا ڈویلپمنٹ کے بارے میں پوچھتے اور جواب میں ’’کچھ بھی نہیں‘‘ سن کر مایوس ہو جاتے۔ ایک سال بعد وہ پاکستان آئے۔ بہاولپور اور لاہور میں پریس کانفرنسیں کیں لیکن بہاولپور رن وے کی توسیع ہونا تھی نہ ہوئی۔ 15کروڑ روپیہ ہضم ہو گیا۔
اگر یہ کرپشن ہے تو اس کا کسی کے پاس کوئی ثبوت نہیں۔ اس کو کہیں چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔ کر لو جو کرنا۔ ایسے لوگوں کے اکائونٹس ایک نہیں کئی پندرہ کروڑ کے چیک غائب ہو گئے جن کا کسی کے پاس کوئی ثبوت نہیں۔فیصل آباد کے سینٹر طارق چودھری کہتے ہیں کہ وزیر اعظم بینظیر بھٹو کے سامنے سویڈن کی لاہور تا پنڈی موٹر وے کی تعمیر کیلئے 8ارب روپے کی پیشکش رکھی گئی ، بینظیر بھٹونے نے اسے خطیر رقم قرار دیا۔چند ماہ بعد میاں نواز شریف وزارت عظمیٰ کے اعلیٰ منصب پرمتمکن ہوئے تو کوریا کو 31ارب روپے میں ٹھیکہ دیدیا گیا۔ بینظیر بھٹو نے سوئٹزر لینڈ سے جو نیکلس خریدا ،اس کی ادائیگی اس کارڈ سے کی جو بجلی کی غیر ملکی کمپنیوں کی طرف سے رشوت کے طور پر پیش کیا گیا تھا۔ محترمہ کیلئے یہ نیکلس مصیبت بنا رہا۔ بینظیر اور ان کے شوہر نامدار آصف علی زرداری سرے محل کی ملکیت سے انکار کرتے رہے جب حالات کو سازگار دیکھا تو ملکیت کا اعتراف کیا اور حالیہ دنوں پانچ سو کروڑ روپے میں فروخت کر دیا۔ زرداری اینڈ کمپنی نے کھل کھلا کر لوٹ مار کی ۔ ان کے ’’باری پارٹنر‘‘ یہی کام بڑی پلاننگ سے کرتے ہیں جسے وائٹ کالر کرپشن کا نام دیا جاتا ہے۔اب کرپشن کو کمیشن کا نام بھی دیا جاتا ہے۔ اسے مزید جائز قرار دینے کیلئے Facilitation FeeیاFacilitation Payment کا نام دیا جاتا ہے ۔بعض ممالک میں اسے قانونی تحفظ بھی دیا گیا ہے ۔ترقیاتی کاموں میں عوامی نمائندوں کا تین چار فیصد کمیشن تو حق قرار دیا گیا ہے ۔اکثرپچاس فیصد تک بھی نگل جاتے ہیں۔ چین اور اس کی کمپنیاں کمیشن کی فراہمی یاFacilitation Feeکی ادائیگی میں دنیا میں سب سے زیادہ فراخ دل ثابت ہوئی ہیں۔ حالیہ دنوں چین کے ساتھ بجلی کے منصوبوں کیلئے 42 ارب ڈالر کے معاہدے ہوئے ہیں۔ عوامی نمائندے مقامی سطح پر ترقیاتی منصوبوں سے کمیشن لیں یا حکمران غیر ملکی کمپنیوں سے Facilitation Payment وصول کریں اگر یہ جائز ہے توبھی اس کا اعتراف کرتے ہوئے یہ شرم محسوس کرتے ہیں۔
 چین سے آپ 42 ارب روپے کے معاہدے توانائی بحران پر قابو پانے کیلئے کر رہے ہیں۔ آپ کے پاس 24 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔ آج کی ضرورت 12ساڑھے بارہ ہزار میگا واٹ ہے۔مزید ایک بھی پاور پلانٹ لگائے بغیر آپ لوڈشیڈنگ ایک دن میں ختم کر سکتے ہیں۔ تیل مہنگا ہونے کی وجہ سے بجلی بھی مہنگی پیدا ہوتی ہے۔ اب عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں 35 فیصد کمی ہوئی۔ آپ پاکستان میں اسی تناسب سے کمی کردیں۔ گاڑیوں کیلئے سی این جی کی ضرورت نہیں رہے گی، بجلی کی پیداواری لاگت بھی کم ہو جائے گی۔کاسا 100معاہدے کے تحت آپ وسط ایشیائی ریاستوں سے بجلی درآمد کررہے ہیں۔بجلی کی پیداوار کیلئے چین سے کوئلہ درآمد کیا جائیگا۔وہاں سے کوئلہ اگر فری ملے تو بھی مال برداری پر بے حد اخراجات ہونگے۔ شہباز شریف کہتے ہیں کہ کچھ عرصہ بعد یہی پلانٹ پاکستانی کوئلہ پر چلیں گے۔ابھی سے کیوں نہیں،کیا کچھ عرصہ بعد اپنا کوئلہ خود بخود بجلی چھوڑنے لگے گا؟میٹرو جتنے میں بھی پڑے، عوامی مفاد کا منصوبہ ہے۔پنڈی میں اس منصوبے کی نگرانی پرحنیف عباسی کوبٹھا دیا گیا ،ان پرایفیڈرین کیس میں فرد جرم لگ چکی ہے، اس پہلے وہ الیکشن ہار گئے تھے۔میجر نذیر کہتے ہیں کہ منصوبے پر 20  ارب روپے  لاگت آئیگی باقی سب کرپشن کی نذر ہوجائینگے۔لاہور کراچی موٹر وے کی تعمیر کا اعلان ہوچکا،جن کو پتہ ہے موٹروے کہاں کہاں سے گزرے گی انہوں پٹواریوں کو ارد گرد کی زمینوں کی خریداری پر لگا دیا۔یہ عمل جانے وائٹ کالر میں آتا ہے یا بلیک کالر میں۔
عمران خان کے نعروں پر پی ٹی آئی والے گو نواز گو کہہ سکتے ہیں۔ نواز لیگ کے قائدین کے فلسفے پر ن لیگ والے ہی واہ واہ کہتے ہیں۔غیر جانبدار حلقے خدا لگتی بات کرتے ہیں ۔اس پر اشتعال اور جلال میں آنے کے بجائے،اگر ہوسکے تو اپنی سمت درست کرنے کی کوشش کی جائے۔تجزیہ کار کہتے ہیں کہ گزشتہ حکومت کے رینٹل پلانٹس کی طرح آج  ہزاروں میگاواٹ بجلی کی پیداوار کے معاہدے کمیشن اورکک بیک کیلئے  ہورہے ہیں۔
 آج ہمارے مسائل کی بنیادی وجہ کرپشن ہے جس کی پیپلز پارٹی کی سابق حکومت نے اخیر کر دی تھی۔ نواز لیگ حکومت سے اصلاح کی امیدیں تھیں، اس کی قیادت اپنے پیشروئوں کے احتساب کے  بلند بانگ دعووں کے باوجود احتساب کے بجائے خود اسی ڈگر پر چل پڑی۔ عدلیہ پر افسوس ہے کہ اسے کرپشن کے خاتمے میں جو کردار ادا کرنا چاہئے تھا وہ ادا نہیں کیا۔ اقتدار میں آنے والوں نے پورے سسٹم کو کرپٹ کر دیا۔ اس سسٹم کو اوورہال کرنے کی ضرورت ہے جس کی بات عمران خان کرتے ہیں۔عمران خان کو شہر شہر جا کر مسائل کا ذمہ دار حکمران پارٹی کو قرار دیتے ہیں۔ عوام عمران خان کی بات کو سچ مان کر ان کے جلسوں میں ہجوم در ہجوم جاتے ہیں۔پی پی پی کی کرپشن کے باعث نواز لیگ کی حد اور توقعات سے بڑھ کر پزیرائی ہوئی تھی ۔آج پی پی پی کی جگہ ن لیگ نے لے لی اور ن لیگ کا خلا پی ٹی آئی نے پُر کردیا۔نواز لیگ اپنے دامن پر لگے داغ وہی کچھ کر کے کسی حد تک دھو سکتی ہے جس کا لارا  عمران خان لگا کر اپنے گرد لوگوں کا ہجوم اکٹھا کر رہے ہیں۔