میں اپنی تسبیح روز و شب کا شمار کرتا ہوں دانہ دانہ

16 نومبر 2014
میں اپنی تسبیح روز و شب کا شمار کرتا ہوں دانہ دانہ

 شادی سے پہلے میں صرف شاید جمعہ کی نماز ہی باقاعدگی سے پڑھتا تھا مگرانہوں نے مجھے پانچ وقت نماز کا عادی بنا دیا۔ رات کو وہ مجھ سے زبردستی سورہ الملک پڑھوایا کرتیں اور خود سورہ الملک، سورہ یاسین سورہ واقع، سورہ مزمل اور سورہ السجدہ سمیت کئی تسبیات پڑھ کر سویا کرتیں تہجد باقاعدگی سے پڑھتیں اور اگر میں دیر سے نہ سویا ہوتا تو کبھی کبھی مجھے بھی پڑھوا دیا کرتیں۔ بے شمار بچوں کو قرآن پاک پڑھایا۔ انہوں نے گرین ٹاؤن میں بچوں کیلئے سکول بنا لیا تھا اور ہر کلاس کی فیس پانچ روپے رکھی بہت سے بچے اور بچیاں اس سکول سے فیض یاب ہوئے۔ ایک دن میں نے کہا پانچ روپے فیس کی بھی کیا ضرورت ہے۔ جواب دیا اس طرح بچوں بالخصوص والدین اس ’’خرچے‘‘ کی بنا پر تعلیم میں دلچسپی لیں گے۔ آکسفورڈ سیکنڈری سکول کے مالک میرے مرحوم دوست ملک شاہ دین نے ایک روز بتایا کہ میں نے پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن میں بات کر لی ہے آٹھ لاکھ روپے کا لون مل جائیگا بھابھی کو اچھا سکول بنوا دینا میں نے بڑی خوشی سے بتایا تو سپاٹ چہرے کے ساتھ سوال کیا سود بھی دینا پڑے گا؟ میرے اس جواب پر کہ ظاہر ہے فیصلہ کن انداز میں کہا یا تو یہ رقم اس گھر میں آئیگی یا میں رہوں گی۔ تب غلام حیدر وائیں وزیراعلیٰ تھے میں نے انکار کیا تو ملک شاہ دین حیران پریشان ہو گئے۔ یار! بخاری یہ سمجھ منظور ہو گئے ہیں، میں نے ان سے کہا۔ یار! ملک صاحب آپ کی مہربانی مگر مجھے ایسی بیوی نہیں ملے گی۔ وہ کوئی کٹھ ملانی نہیں تھیں وقت کے تقاضوں کا شعور رکھتی تھیں بڑی بیٹی کو ایم اے اور چھوٹی کو بی اے کرایا بیٹے کی چھٹی کے دن وہ بچیوں کو گھمانے پھرانے لے جاتیں مہینے دو مہینے میں پریس کلب میں انہیں کھانا کھلانے لے جاتا تو لیڈیز روم میں فرزانہ چودھری اور عطیہ زیدی سے گپ شپ رہتی ان دونوں نے جنازے میں پہنچ کر اپنے تعلق خاطر کا مظاہرہ کیا وہ عرصہ سے جگر کے عارضے میں مبتلا تھیں استطاعت بھر ہی علاج کرا سکا طویل مدت تکلیف میں گزاری مگر بہت ہمت والی تھیں تکلیف کے باوجود گھریلو کاموں میں جُتی رہتیں۔‘‘ یہ دن ایک بجے کا واقعہ ہے میں ایک میٹنگ کے سلسلے میں پریس کلب آیا ساڑھے تین بجے بیٹی نے فون کیا جلدی آئیں امی کی طبیعت بہت خراب ہے اس دوران بیٹا بھی آ گیا فوری طور پر شیخ زید ہسپتال لے گئے رات ایک بجے اس دنیا سے ناطہ ٹوٹ گیا شدید تکلیف کے باوجود وہ نہ جانے مسلسل کیا پڑھ کر خود پر دم کرتی رہیں۔ بیڈ کے نزدیک بیٹے اور بیٹی کو گہری نظر سے دیکھا اور ہمیشہ کیلئے آنکھیں بند کر لیں۔ وہ ہر رشتہ دار کی شادی میں ضرور شریک ہوتیں اور کبھی خالی ہاتھ نہیں جاتی تھیں۔ ایک دن کہنے لگیں عمرہ پر جانا ہے اور انشاء اللہ پانچوں جائینگے (ایک بیٹا اور دونوں بیٹیوں سمیت) بات آئی گئی ہوگئی۔ تین چار سال بعد ایک روز کہا کسی ٹریولنگ ایجنٹ سے پتہ کریں ان دنوں عمرہ کا پیکیج کتنا ہے میں نے کہا بھئی جب پیسے ہونگے پتہ کر لیں گے۔ ’’پیسے ہیں‘‘ یہ کہہ کر مجھے حیران کر دیا بعد ازاں پتہ چلا کمیٹیاں ڈال کر چار سال میں اتنے پیسے جمع کر لئے کہ گھر کے پانچوں افراد 2007ء میں عمرہ کر سکیں۔ عمرہ سے واپسی پر پھر کمیٹیوں کا سلسلہ چلا اور دوبارہ 2014ء میں دونوں بیٹیوں اور میرے ساتھ دوسرا عمرہ کر لیا۔ وفات سے صرف چار ماہ قبل شعبان المعظم میں عمرہ کی سعادت نصیب ہوگئی دوسرے عمرے کے موقع پر میں نے تجویز پیش کی کہ ایک عمرہ کرلیا ہے اب جو پیسے ہیں ان سے مکان میں باقی رہ جانے والا پلستر وغیرہ کرا لیں توکہا ’’پلیز‘‘ آپ اس مکان کی بجائے اس ہمیشہ کے مکا ن کی فکر کیا کریں، جتنا بن گیا۔ اس میں رہتے ہوئے ہمیں کیا پریشانی ہے کچھ اللہ کے بندے بغیر پلستر کی جھگیوں میں بھی تو رہتے ہیں۔ اب بھلا میں اس کا کیا جواب دیتا۔ علالت کے باعث قضا ہونیوالی نمازوں اور روزوں کی بہت فکر رہتی جب موقع ملتا ادا نماز کے ساتھ قضا بھی پڑھتیں اور روزوں کا فدیہ تو خود ہی ادا کر دیا تھا۔ قضا نمازوں کا حساب لگا کر لکھ رکھا تھا اور بیٹے کو بار بار تلقین کرتیں دیکھو میری نمازوں کا فدیہ ضرور ادا کر دینا انہیں شاید احساس ہوگیا تھا بیٹیوں کو بار بار نصیحت کرتیں دیکھو رونے دھونے سے مجھے کوئی فائدہ نہیں ہوگا اس کی بجائے ہو سکے تو کچھ پڑھ دینا۔ دعا کر دینا۔ بیٹیوں کی اس انداز سے تربیت کی کہ وہ کالجوں میں پڑھنے کے باوجود مدارس سے فارغ التحصیل لگتی ہیں لیکن بہرحال وہ کٹھ ملانی نہیں ہیں شاید یہ بات عجیب محسوس ہو کہ میرے گھر میں کیبل بھی ہے ٹی وی سیٹ بھی ہے مگر ایک مدت سے کونے میں پڑا ہے میری اہلیہ کی طرح بیٹیاں بھی ٹی وی دیکھنے کو وقت کا زیاں سمجھتی ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ جب کئی اخبارات سے جو گھر آتے ہیں اور مختلف رسائل بھی ان سے ساری معلومات مل جاتی ہیں تو پھر ٹی وی کے آگے بیٹھ کر وقت ضائع کرنے کی کیا ضرورت ہے میں کبھی کہتا کہ ٹی وی پر ہونے والی ٹاک وغیرہ سننا میری پیشہ ورانہ ضرورت ہے تو جواب ملتا یہ ضرورت آفس یا پریس کلب سے پوری کر کے آیا کریں اس سے یہ نہ سمجھا جائے کہ میر ا گھرانا کوئی بہت متشدد مذہبی سوچ کا حامل ہے۔ بلکہ عام گھروں جیسا ہی ماحول ہے بلکہ شاید زیادہ بے تکلفانہ کہ میرا رویہ کبھی روایتی باپوں جیسا نہیں رہا۔ ڈانٹ ڈپٹ کا شعبہ ماں کے پاس ہی رہا اور جہاں تک ماں کا تعلق ہے وہ بچوں کو جتنا مرضی ڈانٹ ڈپٹ کرے بلکہ خوب پھینٹی بھی لگا دے تب بھی بچوں کو برا نہیں لگتا۔ یہ سب ہی مائوں کے بچوں کا عالمگیر تجربہ ہے۔ میری اہلیہ اپنی اچھی یادیں چھوڑ کر دائمی زندگی کی جانب سدھار گئیں اور میرا جتنا خیال رکھتی تھیں ان کی جدائی سے مجھے اجمل نیازی کے نانا محترم کے جذبات سچے لگتے ہیں مجھے بھی محسوس ہو رہا ہے میں بھی یتیم ہوگیا ہوں۔ (ختم شد)