نریندر مودی کی نیتوں کا فتور

16 نومبر 2014

ہماری زبان میں ہر اذیت دینے والے انسان یا جانور کو موذی کہتے ہیں۔ اسی طرح بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی کو کوئی اگر مودی کے بجائے موذی کہے، تو غلط نہیں ہوگا۔ کہ جس قدر وہ بھارت کے مسلمانوں کیلئے اذیتوں کا باعث بلکہ ادھیکار بنا ہوا ہے، اس سے بڑھ کر اور کوئی موذی نہیں ہوسکتا۔ بھارت کے صوبہ گجرات کا جب وہ مکھ منتری بنا تو اپنے اس دور اقتدار میں اس نے وہاں کے مسلمانوں پر وہ بربریت برپا کی۔ اور ان پر مظالم کے پہاڑ توڑے وہ اسکے موذی پن کی انتہا تھی۔ اپنی اسی شناخت اور پاکستان دشمنی کے غلیط پر چار پر اب وہ بھارت کا وزیراعظم بنا ہے۔ تو اپنے موذی پن کی ساری توپوں کے دہانوں کا رخ پاکستان کی طرف کر رکھا ہے۔ یا وہ ایسا کوئی بہانہ ڈھونڈتے ہیں۔ جسے وجہ بنا کر وہ پاکستان پر چڑھ دوڑیں جبکہ دوسری طرف ہمارے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف اس قدر بھولے واقع ہوئے ہیں، یا جان بوجھ کر بھولے بنے ہوئے ہیں، جیسے جانتے نہیں، پہنچانتے نہیں، اور موذی سے دوستی کی امیدیں لگائے بیٹھے ہیں۔ کبھی انہیں پاکستانی آموں کے تحفے نذر کرتے ہیں تو کبھی انکے ہولی کے تہوار پر پاکستانی مٹھائیوں کے ٹوکرے بھجواتے ہیں تاکہ ان کا منہ میٹھا ہو تو وہ ہمارے لئے بھارت کے راستے کھول دیں، کہ یہ انکی ذاتی خواہش ہے، اور شاید وہ یہ نہیں جانتے کہ جس موذی کے منہ کو مسلمانوں کا خون لگ چکا ہے تو وہ اس سے کسی کمتر تحفے پر کیسے راضی ہوسکتا ہے۔ بالخصوص اس وقت جب پاکستان پوری طرح انکے نشانے پر ہے بلکہ نرغے میں ہے اور ہم اس گھمنڈ میں مگن ہیں، کہ ہم ایٹمی طاقت ہیں۔ ہمارے پاس ایٹم بم ہے اس لئے بھارت ہم پر حملہ کرنے کی جرأت نہیں کرے گا۔ تو کیا یہ نہیں جانتے، متحدہ روس جب ٹوٹنے پہ آیا۔ تو اسکے پاس کتنے ایٹم بم تھے‘ اسکے پاس تو ایٹم بموں اور ایسے دیگر مہلک ہتھیاروں کے انبار لگے ہوئے تھے۔ سب دھرے کے دھرے رہ گئے۔ تو اسکے ٹوٹنے کی وجہ بھی اس کا اندرونی معاشی اور معاشرتی خلفشار بنا۔ جیسا کہ بدقسمتی سے آج ہم بھی ایک ایسے ہی خلفشار میں مبتلا ہیں۔ اور اس میں کوئی شک بھی نہیں کہ اس میں دیگر دشمنوں کے ساتھ بھارت کا بھی ہاتھ ہے اور وہ پاکستان میں دامے، درمے، سخنے، ہر طرح سے ہر طرح کا بگاڑ پیدا کرنے میں مدد گار بنا ہوا ہے بلکہ اس نے کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی پاکستان میں کئی سالوں سے جاری، تخریب کاری اور دہشت گردی میں وہ برابر کا شریک ہے۔ جس سے پورے ملک میں بدامنی اور افراتفری کا دور دورہ تھے۔ تو ایسے لگتا ہے، یہاں حکومت نام کی کوئی چیز نہیں۔ جبکہ ہماری افواج ایک عرصہ سے ملک کے کئی اندرونی محاذوں پر ان سے ہی برسر بیکار ہے۔ تو یہی دشمنوں کا مشن بھی ہے۔ جبکہ دوسری طرف ہمارے سیاست دان، جمہوریت کے نام پر ایک دوسرے سے دست گریباں ہیں گویا حکمرانوں کو پاکستان کی نہیں، اپنی کرسیوں کی فکر ہیں۔ اور ان کا دھیان اس طرف جا ہی نہیں رہا کہ ہمارے ازلی دشمن بھارت کے اب کیا ارادے ہیں اور وہ موذی کی نیتوں کے فتور کو سمجھ ہی نہیں پا رہے جبکہ ہمارے لئے حکم ہے کہ ایسی صورت حال سے نبرد آزما ہونے کیلئے ہر وقت اپنے گھوڑے تیار رکھو تو اس وقت ہمارے حکمرانوں بالخصوص وزیراعظم پاکستان میاں نواز شریف پر یہ لازم ہے، بلکہ انکی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ذاتی اور سیاسی مفادات کو بالائے طاق رکھ کر، پاکستان کی بقا کیلئے ملک بھر میں یکسوئی اوریک جہتی کی فضا پیدا کرنے کی کوشش کریں اور اس کیلئے انہیں اقتدار کی قربانی بھی دینی پڑے تو یہ کوئی بڑی قربانی نہیں ہوگی، کہ حکومتیں تو آتی جاتی رہتی ہیں۔ خدانخواستہ جب ملک ہی نہ رہے تو حکومت اقتدار کہاں کا۔ تو یہی وقت کا تقاضا بھی ہے۔ کہ پوری قوم یہ باور کر لے، کہ یہ گھڑی ہے، اپنے سارے اختلافات بھلا کر یک جاں ہونے کی۔ کیا اچھا ہو کہ ایسے میں قوم اس خطرے کا ادراک کر لے اور اسی طرح متحد اور یکجاں ہو جائے جیسے وہ 1965ء کی جنگ میں ہوئی تھی اور دشمن کے دانت کھٹے کر دیئے تھے۔ ورنہ موذی کے تیور بتا رہے ہیں کہ وہ 1971ء جیسی صورتحال پیدا کر کے پاکستان کو خدانخواستہ ایک بار پر تہہ و بالا کردے۔ اللہ نہ کرے ایسا ہو۔ ہمیں ہر صورت اپنے گھوڑے تیار رکھنے چاہیں۔

نیتوں کا فتور

آزادی کی قیمت کا اندازہ لگانا ہو تو کوئی کشمیریوں کی لازوال جدوجہد سے لگائے، ...