قومی اسمبلی سے اپوزیشن کا واک آؤٹ, وزیراعظم نے موقع ضائع کر کے ہمارے 7 سوالوں کو 70 کردیا:خورشید شاہ، سچ بولا نہ سچائی دی: عمران خان

16 مئی 2016 (22:02)

 پانامہ لیکس سے متعلق قومی اسمبلی کے اہم اجلاس میں وزیراعظم نواز شریف کے خطاب کے بعد حزبِ اختلاف نے اجلاس سے واک آؤٹ کر دیا۔ قومی اسمبلی سے نواز شریف کی تقریر کے بعد قائد حزب اختلاف خورشید شاہ نے کہا کہ ’ہم سات سوالوں کے جواب مانگنے آئے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کی جانب سے دی جانے والی وضاحت نے ان سات سوالات کے جواب میں 70 سوالات کو جنم دیا ہے۔ خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ سوالات کا جواب نہ ملنے پر ایوان کا وقت ضائع نہں کیا جا سکتا۔ ’قوم سوالات کے جواب مانگتی ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ وہ لندن کے فلیٹس کے جواب مانگ رہے تھے اور وزیر اعظم کی تقریر کے بعد دبئی اور جدہ سے متعلق بھی سوالات اٹھ گئے ہیں۔ خورشید شاہ کی تقریر کے وقت اپوزیشن ارکان کی جانب سے نعرے بازی بھی کی گئی ان کی مختصر تقریر کے اختتام کے بعد پاکستان تحریک انصاف کے ارکان سمیت اپوزیشن ارکان نے واک آو¿ٹ کردیا۔ خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کی وضاحت نے سات سے 70 سوالات اور بڑھا دیئے ہیں۔ ہمارے سوالوں کا جواب نہیں دیا۔ اپوزیشن وزیراعظم کے خطاب سے مطمئن نہیں اس حوالے سے مزید وقت ضائع نہیں کیا جا سکتا۔ اس سے قبل خورشید شاہ نے قومی اسمبلی کوبتایا کہ اگر وزیراعظم نواز شریف اسمبلی کے اجلاس میں آئے تو وہ بھی شرکت کریں گے۔ ہم وزیراعظم کا خطاب پرامن طریقے سے سنیں گے اور اگر وہ سیشن میں شریک ہوئے تو احتجاج نہیں کیا جائے گا۔ ہم نے انتہائی آسان اور ایمانداری سے سوالات کئے امید ہے کہ وزیراعظم ہمارے تحفظات دور کریں گے۔ حکومت اور وزیراعظم کو بہت بڑا موقع دیا جو انہوں نے ضائع کر دیا۔ وزیراعظم کے وضاحت نامے میں ہمارے سوالوں کے جواب نہیں تھے۔ پانامہ پیپرز میں وزیراعظم کے خاندان اور دیگر پاکستانیوں کا ذکر تھا۔ وزیراعظم کا اسمبلی میں خطاب وضاحت دینے کی کوشش تھی، وزیراعظم نے خود بہت سے انکشافات کئے، ہمارے 7 سوال 70 سوالات بن گئے۔ وزیراعظم کے پاس ہمارے 7 سوالات کا جواب نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ انکشافات کا ذکر ہمارے سوالات میں نہیں تھا، ایک بھی ایسا سوال نہیں جسے زیادتی کہا جا سکے یا سوال نہ کہلایا جا سکے، ہم نے محسوس کیا کہ تقریر کرنے کی بجائے عوام میں جائیں، ہم سمجھتے ہیں کہ آج کے اس ایونٹ کے سب سے بڑے جج عوام ہیں، آج صبح 10 بجے بیٹھیں گے اور مزید لائحہ عمل بنائیں گے۔ اس سے قبل خورشید شاہ نے کہا تھا کہ ہمارے سوال بہت آسان اور معصومانہ تھے، ہم سمجھتے تھے ان 7 سوالوں میں مسئلہ حل ہو جائے گا، ہم نے پانامہ کا پوچھا تھا یہاں دبئی اور جدہ آ گیا، اس کہانی میں ہم نہیں جانا چاہتے، سوالات کے جوابات نہ ملنے پر ایوان کا وقت ضائع نہیں کرنا چاہتا، اس لئے اسمبلی سے واک آﺅٹ کیا۔ میڈیا سے گفتگو میں خورشید شاہ نے کہا کہ ایک بھی ایسا سوال نہیں جسے زیادتی کہا جا سکے یا سوال نہ کہلا سکے۔ حکومت اور وزیراعظم کو بہت بڑا موقع دیا ہے بتایا جائے کہ ہمارا کونسا سوال قابل اعتراض ہے۔ آج اسمبلی میں وزیراعظم نے جو وضاحت دی ہے اس میں بھی کئی انکشاف کیے۔ ہم نے سوچا آج کے ایونٹ کا سب سے بڑا جج عوام ہوں گے۔ وزیراعظم کے وضاحت نامے میں ہمارے سوالوں کے جواب نہیں تھے۔ بیروزگاری حد سے بڑھی ہوئی ہے۔ کسان تباہ مزدور ختم ہونے کو ہے۔ ہم نے محسوس کیا کہ تقریر کرنے کی بجائے عوام میں جائیں۔ آج صبح 10 بجے بیٹھیں گے اور مزید لائحہ عمل بنائیں گے۔ اعتزاز احسن نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم نے بتایا 2003 میں شریف خاندان نے لندن میں فلیٹ خریدے۔ چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے کہا کہ مجھ پر لندن میں فلیٹ آف شور کمپنی کے ذریعے لینے کا الزام لگایا گیا۔ ہمیں معلوم ہے وزیراعظم کو کتنی تکلیف اٹھانا پڑی۔ مجھ پر لندن میں فلیٹ آف شور کمپنی کے ذریعے لینے کا الزام لگایا گیا۔ اکتیس جولائی 1995ءکو دوسرا فلیٹ خریدا گیا۔ شریف خاندان نے پہلا فلیٹ یکم جون 1993 کو خریدا۔ وزیراعظم کو اتنی لمبی کہانیاں سنانے کی ضرورت نہیں تھی۔ میرے پاس شریف خاندان کے لندن کے تمام فلیٹس کی خریداری کی سیل ڈیڈ ہیں۔ وزیراعظم میاں صاحب نے پانچواں فلیٹ 2004ءمیں لیا۔ بیٹی کا ذکر نہیں کیا۔ نواز شریف نے 2 کروڑ 40 لاکھ روپے مریم نواز کو تحفے میں دیے۔ نواز شریف کہتے ہیں ان کی بیٹی ڈی پینڈنٹ ہے۔ مریم نواز 2 کمپنیوں کی مالک ہیں۔ دستاویز میں ذکر نہیں کیا گیا۔ 1981-93 تک میاں صاحب اپنی اوسط آمدنی 22 ہزار 600 ظاہر کی۔ مریم نواز دو آف شور کمپنیوں کی مالک ہیں۔ نواز شریف نے سچ نہیں بولا نہ ہی صفائی پیش کی۔ وزیراعظم نے آدھی تقریر مجھ پر کر دی۔ اگر چھپانے کو کچھ نہیں تو 5 منٹ میں سب کچھ نہیں تو 5 منٹ میں سب بتایا جا سکتا تھا۔ میں نے 1982 میں نواز شریف سے زیادہ ٹیکس دیا۔ پی ٹی آئی کے رہنما جہانگیر ترین نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ آف شور کمپنی رکھنا کوئی جرم نہیں۔ عمران خان کے فلیٹ کا سب کو علم تھا۔ عمران خان اپنی آف شور کمپنی کے بارے میں اسمبلی کو بتائیں گے۔ نواز شریف کو سوالوں کے جوابات دینا ہوں گے۔ امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے پارلیمنٹ کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کرپشن کرنے والوں کو اقتدار کا حق نہیں۔ وزیراعظم کی تقریر مسئلے کا حل نہیں۔ صرف وزیراعظم کا احتساب ناانصافی ہو گی۔ حکومت وقت ضائع کئے بغیر اپوزیشن کے ٹی او آرز پر بات کرے۔ اپوزیشن کے بھی کچھ لوگوں کے نام پانامہ لیکس میں آئے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ روڈ میپ بنے۔ کمشن بنے، لائحہ عمل طے ہو اور سب کا احتساب ہو۔ اے این پی کے شاہی سید نے کہا ہے کہ اپوزیشن مینڈک کی طرح ادھر ادھر اچھل رہی ہے۔ میں بھی اپوزیشن میں ہوں۔ پی ٹی آئی کے شفقت محمود نے کہا کہ نواز شریف ادھر ادھر کی باتیں کریں گے سوالوں کا جواب نہیں دیں گے۔ عمران خان احتساب کے لیے تیار ہیں۔