کہیں پیسہ بھی ہیکر نہ اٹھا لیں

16 مئی 2016

مجیب الرحمن شامی پاکستانی ایڈیٹروں کی تنظیم کے سربراہ ہیں، ایک اخبار کے چیف ایڈیٹر ہیں اور ایک ٹی وی چینل کے تجزیہ کار بھی۔ الفاظ کے چنائو میں ان کی مہارت مسلمہ ہے۔ ان کے ا توار کو چھپنے والے کالم کا عنوان ہے: ولدیت کے بغیر سرمایہ۔
اس سے ایک سوال اٹھتا ہے جوکہ میں اپنے کالموں میں کئی بار اٹھا چکا ہوں کہ آج آپ کے پیسے کی ولدیت مشکوک بنائی جا رہی ہے، کل کوخود آپ کی ولدیت کو مشکوک بنایا جا سکتا ہے۔ اللہ تعالی نے اسی لئے یوم حشر کو ہمیں مائوں کی ولدیت سے بلانا ہے، باپ کا ذکر وہاں نہیں آئے گا۔
بغدادکے زوال کا وقت قریب تھا، ہلاکو یا چنگیز کی خون آشام فوجیں سونامی کی رفتار سے چڑھی آ رہی تھیں اور بغداد کے منطقی یہ بحث کر رہے تھے کہ کوے کی چونچ حلا ل ہے یا حرام۔ ہم آج اس بحث میں پھنسے ہیں کہ فلاں کا پیسہ حلا ل ہے کہ حرام۔ایک کہتا ہے تیرا پیسہ حرام ہے، دوسرا جواب میں کہتا ہے،، تیرا پیسہ حرام ہے۔
اور ڈریں اس وقت سے جب آف شور کمپنیوں والوں پر یہ راز کھلے گا کہ ان کے اکائونٹس تو خالی ہو چکے، جو ہیکر آج یہ پتہ چلا سکتے ہیں کہ کس کا پیسہ کس آف شور اکائونٹ میں پڑا گل سڑ رہا ہے تو وہی ہیکر اس بات پر بھی قادر ہیں کہ آپ کے پا س ورڈ اور بنک کوڈ چوری کر کے سارا پیسہ کہیں اور منتقل کر لیں۔
اس وقت آپ جو کمپیوٹر، لیپ ٹاپ، موبائل فون وغیرہ استعمال کرتے ہیں ، ان کے ذریعے کسی کو ای میل بھیجتے ہیں یا اپنے کسی جائز اکائونٹ سے کسی کو آن لائن جائز ادائیگی کرتے ہیں تو یہ ساری اطلاعات ہیکروںکے ہاتھ لگ سکتی ہیں۔آپ گھر یا دفتر میں وائی فائی استعمال کرتے ہیں، اس کا پاس ورڈ ہیک کر کے آپ کے ساتھ کا ہمسایہ بھی ا ستعمال کر سکتا ہے۔
میں نے ابھی ابھی برین نیٹ کے باسط علوی سے بات کی ہے۔ ان کے دو بھائی اور ہیں، ڈاکٹر شاہد علوی ا ور امجد علوی، اسی کی دہائی میں انہوں نے پہلا وائرس ایجاد کیا تھا اورا سکے ذریعے کسی بھی دوسرے شخص کے کمپیوٹر میں رسائی حاصل کی تھی،ا س وائرس کو برین وائرس کا نام دیا گیا ور ان تین بھائیوں کے ا س کارنامے پرہفت روزہ ٹائم نے ٹائٹل اسٹوری شائع کی۔یہ پہلا اشارہ تھا کہ ڈیجیٹل دور کی دنیا انتہائی غیر محفوظ ہے۔
امریکی محکمہ جاسوسی کے ایک سابق ملازم سنوڈن کے انکشافات نے تودنیا کو لرزہ بر اندام کر دیا۔اس نے تو امریکی نیشنل سیکورٹی ایجنسی کا ڈیٹا چوری کیا۔ امریکی محکمہ دفاع پینٹیگان کا کمپیوٹر بھی ہیک ہو چکا ہے، چھوٹی موٹی ہپیکنگز کا سلسلہ تو ہر لحظہ جاری رہتا ہے مگر اب ہیکنگ کی دنیا میں چھوٹو گینگ نہیں ، کوئی موٹو گینگ در آیا ہے، وہ ڈیٹا چوری کرتا ہے ، پھر متعلقہ لوگوں یا اداروں کو ڈراتا، دھمکاتا اور بلیک میل کرتا ہے، اگر گھی سیدھی انگلیوں سے نکل آئے تو وہ انکشافات سے باز رہتا ہے،اور اگرمعاملہ طے نہ ہو سکے تو وہی ہو تا ہے جو پانامہ لیکس میں پھنسے ہوئے لوگوں کا ہو رہا ہے، پاکستان میں کچھ زیادہ ہی ہو رہا ہے۔
کبھی آپ نے سوچا کہ یہ بل گیٹس کیوں ایدھی کے نقش قدم پر چل نکلا ہے، اور ہر فلاحی پروگرام کی سربراہی بھی کر رہاہے ا ور اس میں اپنا پیسہ بھی لگا رہا ہے۔ سیٹھ کبھی اپنا پیسہ ضائع نہیںکرتا، بس انتظار کیجئے ، کسی روز یہ حقیقت آپ پر عیاں ہو جائے گی کہ بل گیٹس نے دنیا کے ساتھ کیا ہاتھ کیا ہے۔کچھ لوگ تو ابھی سے سر پیٹ رہے ہیں کہ ان کے دوتین بچوں کے بعد جو بچہ پیدا ہوتا ہے، وہ مر جاتا ہے۔یاد کیجئے کہ آپ کے دادا اور پرداد کی کتنی اولاد تھی اور آپ کی کتنی ہے، جتنی بھی ہے، اسے بھی پالنا آپ کے لئے مشکل ہو رہا ہے، مگرآپ کے دادا اور پرداد کی نسل میں سے کسی نے بھوک کے مارے خود کشی نہیںکی تھی، اب تو مائیں اپنے بچوں کے ساتھ نہر میںکود جاتی ہیں۔یا دہکتے تنور میں جھونک دیتی ہیں۔ ایک طرف بل گیٹس ہیںجن کے پاس ان گنت سرمایہ ہے ا ور دوسری طرف تھر میں پانی کے ایک قطرے کو ترستے، بلکتے بچے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ مگر بل گیٹس ان کو پانی کا یہ قطرہ فراہم نہیں کرتا ، وہ آپ کے بچوں کے منہ میں وقفے وقفے سے قطرے ضرور ڈلواتا ہے۔
بل گیٹس کی ٹیکنالوجی نے دنیا کوترقی کی انتہا پر بھی پہنچا دیا ہے اور ساتھ ہی ا نسان سے ا سکی نجی زندگی کی راز داری کا حق بھی چھین لیا ہے، اسی بل گیٹس کے ہاتھوں ستایا ہوا ایک سابق امریکی صدر جمی کارٹر مجبور ہے کہ اپنے ہاتھ سے کاغذ پر خط لکھے اور پھرا سے لفافے میں بند کر کے خودپیدل چل کرپوسٹ باکس میں ڈالنے جائے ، مگراسے تسلی نہیں کہ ا سکی تحریر راستے میں ہی کسی کے ہتھے نہیں چڑھے گی۔
پاکستان میں آف شور کمپنیوں کا شورو غوغا بند کر نے کے لئے ضروری کے جس طرح ہمیشہ سے ہوتا چلاا ٓیا ہے کہ سرمایہ داروں کے لئے پر کشش مراعات کا اعلان ہوتا رہتا ہے،اسی طرح اب بھی ایک قانون بنا دیا جائے کہ جوشخص اپنا بیرونی سر مایہ واپس لا کر پاکستانی بنکوں میں رکھ دے گا،ا س سے کوئی پوچھ گچھ نہیں ہوگی،بس کوئی واجبی سا ٹیکس وصول کر لیا جائے جیسا کابل ا ور قندھار سے اسمگل کی جانے والی کروڑوں کی گاڑی کو قانونی بنانے کے لئے وصول کیا جاتا ہے۔اس قانون سازی سے عمران بھی احتساب سے بچ جائے گااورا س کی اے ٹی ایم مشینیں بھی ا ور حکمران ٹولہ بھی۔
اگر یہ شورو غوغا بند نہ کیا گیا تو کسی کے ہاتھ کچھ نہیں آئے گا۔ یہ سارا پیسہ وہی ہیکر اٹھا کر اپنی تجوریوں میں لے جائیں گے جنہوں نے ان آف شور اکائونٹوں کا سراغ لگایا ہے ا ور ان کا انکشاف کیا ہے ، یقین جانئے ، وہ اس بات پر قادر ہیں کہ آپ کے اس جائز یا ناجائز سرمائے کو آپ کے زیر تصرف نہ رہنے دیں اور اس کے بل بوتے پر خود عیاشی کریں۔جو بنک اپنی معلومات کو صیغہ راز میںنہیں رکھ سکے، وہ ا س پیسے کی منتقلی کو بھی نہیں روک سکیں گے ا ورا ٓپ سب سر پیٹتے رہ جائیں گے۔ آپ کرتے رہیں یہ فیصلہ کہ پیسہ حلال تھا یا حرام، اس کی ولدیت کا فیصلہ نادرا سے کروائیں یا کسی ڈی ا ین اے ٹیسٹ سے ۔