لال حویلی سے اٹھے بقراط عصر

16 مئی 2016

لال حویلی سے اُٹھے بقراطِ عصر کچھ ہی ماہ پہلے تک انتہائی نفرت اورر عونت کے ساتھ ’’قربانی سے پہلے قربانی‘‘ کی نوید سنایا کرتے تھے۔ گزشتہ عید قربان کے روز مگر قربانی روایتی جانوروںہی کی دینا پڑی۔ نواز شریف اپنی جگہ موجود رہے۔
اب مگر پانامہ لیکس آچکی ہیں۔ ان کی وجہ سے ایک بار پھر ’’صبح گیا یا شام گیا‘‘ والا منظر بنایا جارہا ہے۔ یہ منظر تشکیل دیتے ہوئے لیکن اس بار لال حویلی سے اُٹھے بقراطِ عصر اکیلے نظر نہیں آرہے۔
عمران خان نے تو عرصہ ہوا ان کی سیاسی بصیرت پر کامل تکیہ کررکھا ہے۔ ان کے تازہ مریدین کی صفوں میں اب بلاول بھٹو زرداری، خورشید شاہ اور بیرسٹراعتزاز احسن بھی شامل ہوچکے ہیں۔ اپنی بصیرت کی ایسی پذیرائی نے بقراطِ عصرکے قلب میں کشادگی پیدا کردی ہے۔ بادشاہ ویسے بھی بادشاہوں کے ساتھ بادشاہوں والا سلوک کرنے کے عادی ہوتے ہیں۔ اپنی طاقت کی انتہاء پر پہنچے بقراطِ عصر کا انداز ان دنوں اسی لئے شاہانہ ہوچکا ہے۔
سپریم کورٹ نے کئی روز کے انتظار کے بعد جمعہ کی صبح حکومت کو ایک باقاعدہ چٹھی کے ذریعے مطلع کردیا کہ وہ اس کے طے کردہTORsکے مطابق پانامہ لیکس کے انبار میں چھپے حقائق کا سراغ نہیں لگاسکتی تو ہمارے 24/7چینلز والوں نے ’’اب کیا ہوگا‘‘ جاننے کے لئے بقراطِ عصر سے رجوع کیا۔
موصوف نے اینکرز خواتین وحضرات کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے آئندہ کے بارے میں کوئی واضح روڈ میپ ہرگز عنائت نہ فرمایا۔ انتہائی فراخ دلی سے بلکہ ایک ’’بریکنگ نیوز‘‘ فراہم کردی۔ اپنے مزاج کے برخلاف ذرا سنجیدگی اور مشفقانہ ہمدردی کے ساتھ انہوں نے انکشاف کیا کہ ’’بہت عرصے کے بعد میں نے شہباز شریف کو ایک پیغام بھیجا ہے‘‘۔ اس پیغام کے ذریعے وزیر اعلیٰ پنجاب کو ’’بقول بقراطِ عصر کے،بتایا یہ گیا ہے کہ اگر ’’جمہوریت‘‘ کو بچانا ہے تو نواز شریف کو ’’قربانی‘‘ دینا ہوگی۔
وزارت عظمیٰ سے نواز شریف فوراََ استعفیٰ دیں۔ ان کے چلے جانے کے بعد پاکستان مسلم لیگ (نون)ہی کے ساتھ قومی اسمبلی کی نشستوں پر بیٹھا کوئی شخص نیا وزیر اعظم منتخب کروالیاجائے۔ چودھری نثار علی خان اس ضمن میں بقراطِ عصر کی واضح پسند ہیں۔ بہرحال ان کی جگہ کوئی اور بھی پاکستان مسلم لیگ (نون) نے وزیر اعظم کے منصب پر بٹھادیا تو ’’جمہوریت‘‘بچ جائے گی۔ موجودہ قومی اسمبلی بھی اپنی آئینی مدت مکمل کرلے گی۔2002ء کے بعد سے ویسے بھی وطن عزیز میں اسمبلیاں وقت سے پہلے گھر بھیجنے کا رواج باقی نہیں رہا۔ جنرل مشرف اور آصف علی زرداری کی چھتری تلے قائم قومی اسمبلیوں نے اپنی آئینی ٹرمز پوری کیں۔ اپنے پانچ سالہ دور کو یقینی بنانے کے لئے البتہ انہیں وزرائے اعظم کی قربانیاں ضرور دیناپڑیں۔
ابتداء ظفر اللہ جمالی سے ہوئی۔ وہ مستعفی ہوئے تو چند روز تک چودھری شجاعت حسین کووزیر اعظم کے دفتر میں بٹھا کر شوکت عزیز کا انتظار کیا گیا۔ وزیراعظم کا عہدہ سنبھالنے سے پہلے ان کا قومی اسمبلی کا رکن منتخب ہونا ضروری تھا۔ شوکت عزیز اس ملک میں اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد بہت کم رہے تھے۔ کئی غیر ملکوں میں بین الاقوامی شہرت کے حامل بینکوں کے لئے کام کرتے رہے۔ جنرل مشرف نے اقتدار سنبھالا تو بہت چھان بین کے بعد اس ہنر مند کو وطن لوٹ کر اس کی معیشت سنوارنے کی زحمت دی گئی۔ دن رات کی محنت شاقہ سے شوکت عزیز نے کئی معجزے یقینا برپا کئے ہوں گے۔ ان ہی معجزوں کے طفیل انہیں ایک نہیں بلکہ قومی اسمبلی کے دو حلقوں سے بھاری اکثریت کے ساتھ منتخب کرلیا گیا۔
ایک حوالے سے ایسا کرتے ہوئے وہ پنجاب اور سندھ کے درمیان ایک زنجیر بھی ثابت ہوئے کہ ایک حلقہ شوکت عزیز کا اٹک تھا اور دوسرا تھرپارکر۔ اگرچہ ہماری بدقسمتی کہ جب 2008ء کے انتخابات کا طبل بجا تو وطن عزیز کے ایسے ہونہار اور معجزے برپا کرنے والے ماہر معیشت کو اس وقت کی حکمران مسلم لیگ نے کسی ایک حلقے میں انتخاب لڑنے کے لئے ٹکٹ بھی نہ دیا۔ شوکت عزیز اداس ہوکر دوبارہ بیرون ملک چلے گئے۔
’’جمہوریت‘‘ بچانے کے لئے آصف علی زرداری کو بھی یوسف رضا گیلانی کی ’’حیف ہے اس قوم پر‘‘ والے فیصلے کے ذریعے فراغت اور نااہلی ٹھنڈے پیٹوں برداشت کرنا پڑی۔ راجہ پرویز اشرف کو وزیر اعظم ہائوس بھیج کر ’’جمہوریت‘‘ کو بچالیا گیا۔بقراطِ عصر کی بصیرت اب نواز شریف کے ضمن میں تاریخ اپنے آپ کو دہراتی نظر آرہی ہے۔سپریم کورٹ کے بنچ نمبر 1پر بیٹھ کر ’’جمہوریت‘‘ کو تگنی کا ناچ نچانے والے افتخار چودھری کو بھی ان دنوں ’’جمہوریت‘‘ صرف اسی صورت بچتی نظر آرہی ہے اگر نواز شریف اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیں۔
نواز شریف’’جمہوریت‘‘ بچانے کی خاطر قربانی دینے کو تیار ہوتے ہیں یا نہیں۔ اس سوال کا جواب ڈھونڈنے میں مجھے کوئی دلچسپی نہیں۔ اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر آپ کے سامنے سرنگوں کرتے ہوئے البتہ یہ اعتراف کرنا ضروری ہے کہ ذاتی طورپرمجھے دو نمبر کا موجودہ بندوبست بچانے میں ہرگز کوئی دلچسپی نہیں جسے ’’جمہوریت‘‘ کا الزام دیا جارہا ہے۔ نواز شریف کی جگہ کوئی اور شخص بھی وزیر اعظم منتخب ہوگیا تو یہ بندوبست دونمبری ہی رہے گا۔
موجودہ بندوبست کو دونمبری کہتے ہوئے میں ہرگز شرمندہ نہیں۔ پنجابی محاورے والے دیگ کا صرف ایک دانہ آپ کو چکھاتا ہوں۔ باقی فیصلہ آپ خود کرلیجئے۔ گزشتہ ہفتے پیر کے دن سے جمعہ کی دوپہر تک پاکستان کو افغانستان سے ملانے والا درہّ خیبر ہر نوعیت کی آمدورفت کے لئے مکمل طورپر بند رہا۔ سینکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں افراد طورخم کی دونوں جانب حیران وپریشانی میں اپنے اپنے مقام پر سحرزدہ علاقوں میں پتھر ہوئے جمے رہے۔
پاکستان کا سب سے ’’بالادست‘‘ہونے کے دعوے دار ادارے میں موجود ’’عوام کے نمائندوں‘‘ میں سے کسی ایک نے بھی ہمارے لئے حکومت سے یہ معلوم کرنے کا تردد ہی نہ کیا کہ درہّ خیبر پر آمدورفت کیوں بند ہے۔ صحافیوں نے اِدھر اُدھر فون گھماکر چند وجوہات کا پتہ ضرور چلالیا۔ ان وجوہات کا مداوا اب حکومتِ وقت کی ذمہ داری تھی اور ہمارے ہاں باور کیا جاتا ہے کہ ان دنوں کی حکومت عوام نے منتخب کی ہے۔ چونکہ اسے عوام نے چنا ہے لہذا اس حکومت کا ایک بہت ہی بااختیار اور طاقت وزیر اعظم بھی ہے۔
اس وزیر اعظم نے ملک کے تحفظ کا حلف لیا ہوا ہے۔ کسی بھی ملک کی پہچان اس کی سرحدیںہوا کرتی ہیں۔ پاک-افغان سرحد بند ہو تو کوئی سچ مچ کا وزیر اعظم اس سے لاتعلق رہ ہی نہیں سکتا۔نواز شریف نے مگر اس قصے میں کوئی دلچسپی ہی نہ دکھائی۔ بالآخر پاکستان میں مقیم افغان سفیر ہمارے آرمی چیف سے ملنے چلے گئے۔ ان دونوں میں کیا بات چیت ہوئی اس بارے میں مجھے کوئی علم نہیں۔ اس ملاقات کے نتیجے میں البتہ درہّ خیبر ہر قسم کی ٹریفک کے لئے کھل چکا ہے۔
پاکستان میں طاقت واختیار کے ’’اصل منبع‘‘ کی ایسی واضح نشان دہی کے بعد میں ’’جمہوریت‘‘ کے نام پر جاری بندوبست کو ’’دونمبری‘‘ کے علاوہ اور کیا نام دے سکتا ہوں۔سوال یہ بھی ہے کہ میںایسی دونمبری کو بچانے کے نسخے ڈھونڈنے میں اپنا وقت کیوں ضائع کروں؟