مطالبات منظور‘ اساتذہ نے پنجاب اسمبلی کے باہر دھرنا 30 گھنٹے بعد ختم کر دیا

16 مئی 2016

لاہور (سٹاف رپورٹر) پنجاب اسمبلی کے باہر فیصل چوک میں 30گھنٹے بعد اساتذہ نے مطالبات کی منظوری کے بعد دھرنا ختم کر دیا۔ اساتذہ رہنماﺅں کا کہنا تھا کہ محکمہ تعلیم کی جانب سے گریڈ 14کے اساتذہ کی اپ گریڈیشن سمیت 80 فیصد مطالبات منظور کر لئے گئے جبکہ 20فیصد مطالبات کےلئے محکمہ تعلیم نے مذاکرات کی یقین دہانی کرائی ہے اور مذاکرات کے بعد سکولوں کی حوالگی کا عمل شروع ہو سکے گا۔ 80فیصدمطالبات کی منظوری اور محکمہ تعلیم کی یقین دہانیوں پر دھرنا ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ قبل ازیں ہفتہ کی رات اساتذہ نے سڑک پر ہی بسر کی گذشتہ روز بھی اساتذہ کی بڑی تعداد فیصل چوک میں موجود رہی دھرنے میں خواتین اساتذہ کی بھی بری تعداد نے شرکت کی دھرنے کے شرکاءمطالبات کی منظوری کےلئے نعرے بازی کرتے رہے اساتذہ نے دھوپ سے بچنے کے لئے فیصل چوک پر ٹینٹ لگایا اس دوران پولیس سے ان کی تلخ کلامی ہوئی اساتذہ نے بینرز اور پلے کارڈ بھی اٹھا رکھے تھے اساتذہ کے دھرنے کی وجہ سے گذشتہ روز بھی مال روڈ اور ملحقہ سڑکوں پر ٹریفک کےلئے بند رہی جس سے شہریوں کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ دوسری جانب گذشتہ روز دوپہر تک محکمہ تعلیم اور اساتذہ رہنماﺅں کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں 60فیصد مطالبات مان لئے گئے محکمہ تعلیم کی جانب سے اساتذہ کو دھرنا ختم کرنے کی ہدایت کی جاتی رہی لیکن اساتذہ رہنماءتمام مطالبات کی منظوری پر بضد رہے مذاکرات کا سلسلہ دن بھر جاری رہا اور 80فیصد مطالبات کی منظوری اور مذاکرات جاری رکھنے کی یقین دہانی پر اساتذہ نے دھرنا ختم کر دیا پنجاب ٹیچرز یونین کے مرکزی صدر سید سجاد اکبر کاظمی، رانا لیاقت علی، جام صادق، چودھری محمد سرفراز، رانا انوار،راناالطاف حسین، ساجد محمود چشتی، عبدالقیوم راہی اور دیگر کا کہنا تھا کہ وزیر اعلی پنجاب اساتذہ کے احتجاج کا نوٹس لیں اور تعلیمی نظام کو تباہی سے بچانے کے لئے پنجاب ٹیچرز یونین کی قیادت سے بات کریں۔ اب وعدوں سے کام نہیں چلے گا۔اساتذہ کا مزید استحصال برداشت نہیں کیاجائے گا۔ رہنماﺅں کا کہنا تھا کہ اگر تمام مطالبات منظور نہ کئے گئے تو دوبارہ بھی دھرنا دیا جا سکتا ہے۔آئی این پی کے مطابق اساتذہ کے دھرنے کے دوران شدید گرمی کے باعث 10 اساتذہ بے ہوش ہو گئے جبکہ دھرنے میں پیپلز پارٹی، (ق) لیگ اور پی ٹی آئی کے رہنماﺅں اور کارکنوں نے شرکت کی اور اظہار یکجہتی کیا۔ نوائے وقت رپورٹ کے مطابق صدر پنجاب ٹیچرز ایسوسی ایشن سید سجاد اکبر نے بتایا کہ حکومت نے ہمارے مطالبات تسلیم کر لئے کسی ٹیچر کو نوکری سے نہیں نکالا جائے گا۔ تین دن سے مذاکرات چل رہے تھے۔ نوائے وقت رپورٹ کے مطابق حکومت نے نجکاری کا فیصلہ واپس لے لیا، 14 ویں سکیل کے ٹیچرز کو اپ گریڈ کیا جائیگا۔ قبل ازیں چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے رہنماﺅں کو اساتذہ کے دھرنے میں شرکت کی ہدایت کی اور کہا کہ حقوق کیلئے سڑکوں پر نکلے اساتذہ کی جدوجہد کا ساتھ دیں گے۔
دھرنا ختم