طاقتوروں کے مقابلہ میں کمزوروں کو درپیش مسائل حل کرنے میں ناکامی دہشت گردی کا باعث بنی : پاکستان

16 مئی 2016

نیو یارک(اے پی پی) پاکستان نے دہشتگردوں کے خاتمہ کیلئے بین الاقوامی سطح پر جامع اقدامات کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے اور کہا ہے کہ طاقتوروں کے مقابلہ میں کمزوروں کو درپیش حقیقی مسائل حل کرنے میں ناکامی دہشتگردی کے نتیجے کاباعث ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں خطاب کرتے ہوئے پاکستان کی سفیر ملیحہ لودھی نے دہشتگردی کے خاتمہ کیلئے اٹھائے جانے والے اقدام کو جامع بنانے کی ضرورت پر زور دیا ۔ انہوں نے کہا دہشتگردی کو کسی بھی مذہب ، ثقافت یا خطہ سے منسوب نہیں کیا جاسکتا ۔ پاکستانی سفیر نے سلامتی کونسل میں دہشتگردانہ کارروائیوں کے باعث بین الاقوامی امن اور سیکیورٹی کو لاحق ہونےوالے خطرات بارے بحث میں اظہار خیال کیا۔انہوں نے کہا کہ ہر ملک کو قومی سطح پر ملکی سیاسی ، اقتصادی اور مذہبی عوامل کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنے مسائل کا حل تلاش کرنا چاہئے اور ہمیں بین الاقوامی سطح پر ناانصافی ، عدم مساوات ، استحصال اور منافرت جیسے عوامل اور محرکات کو ختم کرناچاہئے۔ انہوں نے کہا کہ اگر تنازعات ہی دہشتگردی کا باعث ہوں اور ملکوں کے اندر یا ملکوں کے مابین تنازعات سے دہشتگردوں کو تقویت ملے تو پھر دہشتگردوں کو ان کی تقویت کاباعث بننے والے تنازعات کو فوری طور پر حل کرنا ہوگا تاکہ دہشتگردوں کو تقویت پہنچانے والا ذریعہ ہی ختم ہو جائے ۔انہوں نے کہا کہ عوام کو ان کا حق خودارادیت دینے سے انکار بھی دہشتگردوں کو پراپیگنڈہ کرنے کیلئے موافق ماحول کی فراہمی کا ذریعہ بنا ۔ انہوں نے کہا کہ اسلام فوبیا اور دیگر امتیازات کی روک تھام میں ناکامی سے دہشتگردوں کے عزائم خاک میں ملانے کے کئی مواقع ضائع ہوئے ہیں۔ ملیحہ لودھی نے سلامتی کونسل کو بتایا کہ دہشتگردی پر قابو پانے کیلئے پاکستان کا قومی لائحہ عمل 6مخصوص کارروائیوں کے نکات پر مشتمل ہے جس کا بالواسطہ یا براہ راست طورپر مقصد دہشتگردوں کے عزائم اور نظریات کو ناکام بنانا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے دہشتگردانہ سوچ کے خلاف جدوجہد کا بھرپور عزم کر رکھا ہے ۔
ملیحہ لودھی