کشمیری نوجوانوں کی مجاہدین سے عقیدت، کرکٹ ٹیموں کو کمانڈروں سے منسوب کر دیا

16 مئی 2016

سری نگر (بی بی سی) مقبوضہ کشمیر میں حال ہی میں منعقد ہوئے کرکٹ ٹورنامنٹ میں حصہ لینے والی بعض ٹیموں کے نام مجاہدین کے نام پر رکھے جانے کے بعد تنازع کھڑا ہو گیا ہے۔ایک طرف بھارتی فوج اور پولیس اس اقدام کے اثرات کے حوالے سے فکر مند ہے تو دوسری جانب حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اس بارے میں الزام تراشی شروع ہو گئی ہے۔ شہید خالد کرکٹ لیگ کا انعقاد جنوبی کشمیر کے ترال میں مجاہد کمانڈر برہان کے بھائی کی شہادت کے بعد اپریل میں کیا گیا تھا۔ ٹورنامنٹ کی تین ٹیمیں ایسی تھیں جن کے نام حزب المجاہدین کے کمانڈروں کے نام پر رکھے گئے۔ ان میں کمانڈر برہان وانی کے نام پر ’برہان لائنز‘ جبکہ ایک اور ٹیم کا نام برہان ہی کے شہید بھائی خالد مظفّر وانی کے نام پر ’خالد آریئنز‘ رکھا گیا۔ یہی نہیں ایک اور ٹیم ’عابد قلندرز‘ کا نام 2014 میں ایک تصادم میں جام شہادت نوش کرنیوالے مجاہد عابد خان کے نام پر رکھا گیا تھا۔ برہان وانی کو ریاست میں جہاد آزادی کا نیا چہرہ مانا جاتا ہے۔ گذشتہ برس سوشل میڈیا پر آنے والے ان کے ایک ویڈیو نے میڈیا میں دھوم مچا دی تھی۔ اس ویڈیو میں وہ نوجوانوں سے مجاہدین کے گروپوں میں شامل ہونے کی اپیل کرتے دیکھے گئے تھے۔ خالد کی موت گذشتہ برس اس وقت ہوئی تھی جب وہ پلوامہ کے جنگلوں میں اپنے بھائی سے ملاقات کے لیے گئے تھے اور بھارتی فوج نے انہیں گھیر کر مار ڈالا تھا۔ ’کشمیری میڈیا سروس‘ کا کہنا ہے کہ کرکٹ ٹیم کا نام مجاہد کمانڈروں کے نام پر رکھنے کا یہ چلن ظاہر کرتا ہے کہ کشمیری حریت پسندوں کو ’کس حد تک چاہتے‘ ہیں۔ وہ لکھتا ہے: ’مقبوضہ کشمیر کے مجاہدین کو کشمیری لوگ کس حد تک چاہتے ہیں اس کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ وہ لوگ اب کرکٹ ٹیم کا نام بھی بڑے مجاہدین کے نام پر رکھنے لگے ہیں۔ ’ترال کے ٹورنامنٹ میں کھیلنے والی برہان لائنز، عابد خان قلندرز اور خالد آریئنز، تینوں کشمیری کرکٹ ٹیموں کے نام صرف ان سے اپنی محبت کا اظہار کرنے کے لیے ہی رکھے گئے۔‘تاہم انڈین قومی میڈیا کے ایک اور ادارے ’ون انڈیا‘ کا کہنا ہے کہ یہ کشمیر کے لوگوں کی طرف سے جاری ’سول نافرمانی‘ کی طرف ہی ایک اور اشارہ ہے۔ یہ ایک طرح سے ’شدت پسندوں کو شہید‘ بنانے کی ایک کوشش ہے۔نیشنل کانفرنس کے ایگزیکیٹو چیئرمین عمر عبداللہ نے کرکٹ ٹیم کا نام مجاہدین کے نام پر رکھنے کے لیے وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔تاہم ریاست کے وزیر تعلیم نعیم اختر نے کہا ہے ’یہ قدم تو کافی حوصلہ افزا ہے۔ کیونکہ نوجوان حریتپسندوں کو آئیکون مانتے ہوئے، ان سے متاثر ہونے کے باوجود بندوق اٹھانے کی جگہ کرکٹ کا انتخاب کر رہے ہیں جو کسی کو نقصان پہنچانے والا کھیل نہیں۔‘ادھر انڈین فوج اور مقامی پولیس نے اس پر اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے۔اخبار ڈی این اے نے ایک سکیورٹی افسر کے حوالے سے لکھاہے: ’اگر اس سلسلے کو شروع میں ہی روکا نہیں گیا تو آنے والے دنوں اور سالوں میں یہ ایک بہت بڑا مسئلہ بن سکتاہے۔‘مقامی اخبار ’کشمیر ریڈر‘ نے ٹورنامنٹ جیتنے والی ٹیم کے کپتان محمد مقبول مکّہ کے حوالے سے معلومات دی: ’ٹورنامنٹ کے بعد سب کچھ معمول پر تھا۔ لیکن اب ہمیں پولیس کے فون آنے شروع ہو گئے ہیں۔ وہ ہم سے پوچھ رہے ہیں کہ ہم نے یہ ایونٹ کیوں کیا۔‘کشمیر ریڈر کا کہنا ہے کہ ٹورنامنٹ کے بعض منتظمین کو پولیس نے پوچھ گچھ کے لیے بلایا ۔ تاہم منتظمین نے ٹورنامنٹ کے لیے فنڈز جمع کرنے میں حزب المجاہدین کے کسی بھی کردار سے انکار کیا ۔
کشمیری /کرکٹ