نیب نے وی وی آئی پیز اعلیٰ حکام کے گھروں پر ملازمین سے نجی کام لینے کا نوٹس لے لیا

16 مئی 2016

لاہور (معین اظہر سے) نیب نے وی وی آئی پیز اعلی سرکاری و پولیس افسروں کے گھروں، فارم ہا¶سز پر سرکاری محکموں کے ملازمین سے غیر قانونی طور پر پرائیوٹ کام لینے کا نوٹس لیتے ہوئے چیف سیکرٹری پنجاب کو خط جاری کر دیا ہے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ نیب کے پاس کئی شکایات آئی ہیں کہ پولیس محکمہ جیل خانہ جات، تعلیم‘ محکمہ اری گیشن، محکمہ زراعت اور پی ایچ اے کے ملازمین سے سرکاری ڈیوٹی کی بجائے غیر قانونی طور پر پرائیویٹ کام لئے جارہے ہیں یہ سلسلہ کو فوری بند کر دیا جائے تمام محکموں کے ملازمین کو پرائیویٹ ڈیوٹی سے واپس بلا لیا جائے ورنہ نیب آرڈنینس 1999 کے سیکشن 33 کے تحت کارروائی کی جائے گی۔ نیب کے ذرائع کے مطابق پنجاب کے قریباً 45 ہزار پولیس دیگر محکموں کے ملازمین پرائیویٹ طور پر بااثر‘ اعلی سرکاری افسران کے گھروں، ان کے بچوں اور ان کے عزیز اور رشتہ داروں کے گھر غیر قانونی طور پر پرائیویٹ ڈیوٹی دے رہے ہیں۔ چیف سیکرٹری پنجاب کی جانب سے اس خط پر اظہار ناپسندیدگی کے بعد لکھا گیا ہے کہ نیب سے پوچھا جائے غیر قانونی ڈیوٹی کیا ہوتی ہے۔ نیب کی طرف سے چیف سیکرٹری پنجاب کو خط رانا محمد علی ایڈیشنل ڈائریکٹر نیب سٹاف لاہور کی جانب سے جاری کیا گیا۔ جس میں کہا گیا ہے کہ ان کے پاس بے شمار شکایات آئی ہیں جن کا جائزہ لیا جارہا ہے۔ موجودہ سکیورٹی صورتحال کے پیش نظر یہ حکومت کے گڈگورننس کے اقدامات کو نقصان پہنچا رہی ہے۔ اس طرح کرپشن شروع ہوتی ہے جس کے بعد محکموں میں سٹاف کی کمی کی وجہ سے عوام کو محکموں میں اپنے کاموں کے سلسلے میں پیسے دینے پڑتے ہیں۔ نیب نے چیف سیکرٹری پنجاب کو لکھا ہے کہ وہ اس بارے میں اقدامات کرتے ہوئے مانیڑنگ کا نظام وضع کریں۔ نیب کے ذرائع کے مطابق ان کے پاس جو شکایات ملی ہیں ان کے مطابق بعض سیاسی افراد کے رشتہ داروں کے گھروں پر پولیس کی بھاری نفری موجود ہوتی ہے سفر کے دوران پولیس کی دو گاڑیاں ان کے آگے پیچھے چلتے ہیں وفاقی وزیر سے زیادہ پروٹوکول ان کو دیا جاتا ہے اسی طرح بعض اہم افسر‘ بااثر افراد کے گھروں‘ ان کی زمینوں اور فارم ہا¶سز اور ان کے بچوں کے ساتھ پولیس اور دیگر محکموں کے ملازمین ڈیوٹی کر رہے ہیں جبکہ وہ تنخواہ پرائیویٹ طور پر لیتے ہیں۔ چیف سیکرٹری پنجاب دفتر کے ذرائع کے مطابق نیب کی درخواست پر محکموں کو خط جاری کیا جارہا ہے تاہم نیب کی ہدایات کے باوجود کسی محکمے سے رپورٹ نہیں مانگی گئی۔
نیب