الیکٹرانک مشینوں کی خریداری میں تاخیر، 2018ءکے الیکشن کی شفافیت پر سوال برقرار

16 مئی 2016

اسلام آباد (مقبول ملک/ نیشن رپورٹ) حکومت کی جانب سے الیکشن کمشن کو ووٹنگ کے نظام کو بائیو میٹرک سسٹم میں تبدیل کرنے کی اجازت دینے کے حوالے سے مسلسل تاخیر کے باعث 2018ءکے انتخابات کے شفاف ہونے کے حوالے سے سوالات اب بھی باقی ہیں۔ ذرائع کے مطابق الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کی خریداری کیلئے بین الاقوامی کمپنیوں سے بولی حاصل کرنے کے حوالے سے سمری 3 ماہ قبل وزیراعظم کو بھجوائی گئی تھی تاہم اب تک وزیراعظم آفس کی جانب سے اسکی منظوری نہیں دی گئی ہے۔ دوسری طرف انتخابی اصلاحات کیلئے قائم پارلیمانی کمیٹی کا حتمی اصلاحاتی پیکج کے حوالے سے الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں اور بائیو میٹرک سسٹم 2018ءکے انتخابات میں استعمال ڈیڈلاک پیدا ہوگیا ہے۔ تحریک انصاف اور دیگر چند پارٹیوں کا موقف ہے کہ اس ٹیکنالوجی کا استعمال 2018ءکے جنرل انتخابات میں ہی کیا جائے تاکہ غیر قانونی سرگرمیوں سے بچا جاسکے۔ انکا موقف منطقی ہے تاہم اس حوالے سے یہ بات بھی مد نظر رہنما چاہیے کہ الیکشن کے عمل میں ضوابط کی خلاف ورزی کو صرف ٹیکنالوجی کی مدد سے نہیں روکا جاسکتا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق الیکشن کمشن کو شفافیت یقینی بنانے کیلئے بائیومیٹرک سسٹم اور الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کے استعمال کے علاوہ دیگر تخلیقی ذرائع بھی استعمال کرنا ہونگے۔ مدثر رضوی کے مطابق بھارت میں بائیو میٹرک سسٹم اور الیکٹرانک مشینوں تک آنے میں 15 سال لگے ہیں۔ پاکستان میں بھی اس ٹیکنالوجی کا استعمال ابھی قبل از وقت ہے۔ انکی جانب سے جاری رپورٹ کے مطابق بعض ممالک میں الیکٹرانک مشینوں سے دوبارہ پیپرز کے طریقہ پر واپس آیا جا رہا ہے۔ لہذا اس ٹیکنالوجی کا استعمال انتہائی احتیاط سے کرنا ہوگا۔ دوسری طرف 2018ءکے الیکشن میں ٹیکنالوجی کے استعمال کی مخالفت کرنے والوں کے مطابق ان مشینوں کی خریداری کی بڑی لاگت ایک اہم مسئلہ ہے۔ 2013ءکے الیکشن میں 69,801 پولنگ سٹیشن اور 193459 پولنگ یوتھ قائم کئے گئے تھے۔ اس طرح 386918 مشینیں درکار ہونگی۔ 6 لاکھ سے زائد افراد پر مشتمل الیکشن عملے کی تربیت پر بھی ایک بڑی لاگت آئے گی۔ مدثر رضوی کے مطابق پاکستان میں ووٹنگ کا عمل موثر اور شفاف ہے اگر اسی پر 1976 کے عوامی نمائندگی ایکٹ کی شق 33 کے مطابق عمل کیا جائے۔ دوسری طرف ٹیکنالوجی کا غلط استعمال بھی ممکن ہے۔
شفاف الیکشن