حکومت پی پی پی کی حمایت کیلئے سرگرم: کندھا نہ دیا جائے، رہنما¶ں کی اکثریتی رائے

16 مئی 2016

اسلام آباد (سجاد ترین/خبرنگار خصوصی) پیپلزپارٹی پانامہ لیکس کے بحران میں وزیراعظم کو بے نقاب کرنے کے معاملے پر اختلافات کا شکار ہوگئی ہے۔ پارٹی رہنماﺅں کی اکثریت نے موجودہ بحران میں حکومت کو کندھا فراہم نہ کرنے کی تجویز پیش کی ہے جب کہ حکومت نے پیپلز پارٹی کی حمایت حاصل کرنے کے لئے سرتوڑ کوششیں شروع کر دی ہیں پیپلزپارٹی کے رہنماﺅں کا موقف ہے کہ اگر تمام آف شور کمپنیوں کا سرمایہ قانونی ہے تو اس کا ریکارڈ ایوان میں پیش کرنے میں کیوں تاخیر کی جا رہی ہے۔ کرپشن ملک کا سب سے بڑا مسئلہ بن گیا ہے پانامہ لیکس کے معاملے پر دو ممالک کے وزرائے اعظم مستعفی ہو چکے ہیں پاکستان میں بھی اپوزیشن کی جانب سے وزیراعظم پر مسلسل دباﺅ بڑھایا جا رہا ہے اپوزیشن نے پارلیمنٹ کی کارروائی کا بائیکاٹ کر رکھا ہے حکومت نے طویل مشاورت کے بعد وزیراعظم کے ایوان میں آنے کا فیصلہ کیا جب کہ اپوزیشن نے وزیراعظم کی آمد سے قبل ہی سات سوالات سامنے پیش کر دیئے ہیں۔ پیپلزپارٹی کے رہنماﺅں کا موقف ہے کہ جب سابق صدر آصف زرداری نے اینٹ سے اینٹ بجانے والا بیان دیا تھا تو وزیراعظم نے اسی شام طے شدہ ملاقات منسوخ کر دی اس کے بعد مفاہمت کی پالیسی کا خاتمہ کر دیا گیا اب کیسی مفاہمت ہے پیپلزپارٹی کے پارلیمنٹرین کے سیکرٹری اطلاعات فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ وزیراعظم کو اپنے خاندان کی کرپشن کے بارے میں حقائق سے ایوان کو آگاہ کرنا ہو گا۔
پی پی/اختلافات