نواز شریف کا ویژن اور ترقی کا عملی مظاہرہ

16 مئی 2016

میاں نواز شریف اور دیگر پاکستانی حکمرانوں کے مابین سوچ اور ویژن کا فرق اس وقت محسوس ہوتا ہے جب انسان بوقت ضرورت سفر اختیار کرتا ہے۔ بات کو آگے بڑھانے سے پہلے یہ بتانا ضروری سمجھتا ہوں کہ جی ٹی روڈ کو کتنا ہی اچھا بنا دیا جائے۔ اس کا مقابلہ موٹروے سے ہرگز نہیں کیا جاسکتا ۔ گزشتہ 69 سالوں میں کتنے ہی فوجی اور سویلین حکمران آئے اور چلتے بنے، کسی ایک نے بھی موٹروے بنانے کی زحمت گوارہ نہیں کی۔ ایشیا میں سب سے پہلی موٹروے بنانے کااعزاز نواز شریف کو حاصل ہوا ۔ بے نظیر بےنظیر نے لاہور تا اسلام آباد موٹروے کو تین کی بجائے دو لائنوں تک محدود کرکے اپنی کمتر ذہنی صلاحیت کا اظہارکیا۔ نوازشریف بھی اپنی دھن کے پکے تھے انہوںنے دوبارہ اقتدار سنبھالتے ہی موٹروے کو تین لائن کاتعمیرکرکے پاکستانی قوم پر احسان عظیم کیا۔ گزشتہ ہفتے مجھے ائیر وائس مارشل (ر)فاروق عمر کے ساتھ لاہور سے اسلام آباد اور مانسہرہ سے بٹگرام جانے کااتفاق ہوا۔ تو حیرت اور تجسس کے کئی مناظر میری آنکھوں کے سامنے قطار در قطار ایک فلم کی مانند چلنے لگے۔ کلمہ چوک سے موٹروے تک کا سفر صرف پندرہ منٹ میں طے ہوا۔ جبکہ ماضی میں لاہور سے نکلتے ہوئے ہی دو گھنٹے صرف ہواکرتے تھے اور ذہنی تھکاوٹ الگ ۔ موٹروے پر قیام اور طعام گاہ کی وسیع سہولتیں دیکھ کر آنکھیں خیرہ رہ گئیں کہ کیا عالمی معیار کی ایسی سہولتیں پاکستانی قوم کو بھی میسر آسکتی ہیں یہ سب نوازشریف کا کارنامہ ہے۔ نواز شریف کویہ مسئلہ حل کرنے کے لیے پوری توجہ دینی ہوگی وگرنہ ساری ترقی مٹی کا ڈھیر ثابت ہوسکتی ہے۔ بہرکیف ہماری حقیقی منزل مانسہرہ سے بٹگرام تھی۔ جمعہ کی نماز فیصل مسجد اسلام آباد میں ادا کرنے کے بعد ہم جنرل ضیاءالحق کی قبر پر حاضر ہوئے اور عالم اسلام کے اس عظیم سپہ سالار کو خراج تحسین پیش کرکے اگلا سفر شروع کیا۔ کاش عمران خان رونے دھونے کی بجائے اپنے صوبے میں کوئی اچھی سڑک ہی بنادیں جس پر سیاحتی علاقوں میں جانے والوں کو آسانی رہے۔ یہاں بھی نواز شریف نے حسن ابدال تا حویلیاں اور حویلیاں سے تھاکوٹ تک موٹروے پر کام کاآغاز کرکے خیبرپختونخواہ کے اس علاقے کو نئی زندگی اور توانائی بخشی ہے۔ جس پر علاقے کے لوگ بہت خوش ہیں کیونکہ موٹروے کی تعمیر سے مانسہرہ سے بٹگرام کا سفر جو ابھی چھ گھنٹوں میں بمشکل طے ہوتا ہے وہ موٹروے پر صرف ڈیڑھ گھنٹے کا سفر رہ جائے گااسے کہتے ہیں نئی سوچ اور نیا ویژن۔ قدرت نے خیبر پختونخواہ کو اتنے خوبصورت سیاحتی مقامات سے نوازا ہے کہ اگر وہاں تک رسائی کے لیے موٹروے، ائیرپورٹ، فائیو سٹار ہوٹل تعمیر کردیئے جائیںتو دنیا دوبئی اور لندن جانے کی بجائے ہری پور حویلیاں اور مانسہرہ کے علاقے میں کہیں کہیں کرشنگ یونٹ دکھائی دیئے۔ چھترپلین کی پہاڑی چوٹی پر مجھے ایک مکان نظر آیا تو میں نے سوچا کہ اس کے رہنے والوں سے بات کرنی چاہیئے تاکہ مقامی حالات کے بارے میں نوائے وقت کے قارئین کو آگاہی فراہم کی جاسکے ۔اس مکان میں میاں بیوی کے علاوہ چار بجے بھی تھے۔ گھر کا سربراہ محنت مزدوری کرکے بچوں کا پیٹ پالتا۔ اس نے بتایاکہ کبھی مزدوری مل جاتی توکبھی نہیں ملتی جس سے کئی کئی دن بھوکا رہنا پڑتا ہے۔ اسی خاندان کا ایک دس سالہ بچہ بھی نظر آیا۔ جس سے میں نے پوچھا کہ تم بڑے ہوکر کیا بنو گے تو اس نے کہا فوجی بنوں گا فوجی پاکستان کی حفاظت کرتے ہیں ۔میں نے پوچھا پاکستان کس نے بنایا تھا ¾قائداعظم نے۔ اس وقت پاکستان کا وزیر اعظم کون ہے نواز شریف۔ میں نے کہا تم عمران خان اور نواز شریف میں سے کسے پسند کرتے ہو اور بڑے ہوکر کسے ووٹ دو گے۔ بچے نے جواب دیا کہ میں نوازشریف کو ووٹ دوں گا کیونکہ وہ ہمارے علاقے میں موٹروے بنا رہا ہے ۔میں نے پوچھا کیا تم موٹروے کے بارے میں جانتے ہو۔ اس نے جواب دیا ۔ جناب پورے ملک میں موٹروے بنانا ہی تو نواز شریف کا اصل کارنامہ ہے۔ اس نے کہا میں ابا کے ساتھ موٹروے پر سفر کرکے لاہور گیا تھا تو موٹروے پر سفر کا جو مزا آیا وہ آج تک مجھے نہیں بھولتا۔ اس وقت میرے دل سے دعا نکلی تھی کہ کاش نواز شریف ہمارے علاقے میں بھی موٹر وے بنادے۔ اب نواز شریف نے ہمارے علاقے میں بھی موٹروے کا افتتاح کیا ہے اس سے علاقے کے لوگ بہت خوش ہیں کیونکہ موٹروے پر یہاں سیر کرنے والوں کی بہت بڑی تعداد آئے گی اور ہمیں ان کی خدمت کرکے روزگار حاصل ہوگا۔ یہ تو اس بچے کی باتیں تھیں جو لاہور سے چھ سو کلومیٹر دور بیٹھ کر موٹروے کا دیوانہ تھا۔ لیکن حقیقت میں نواز شریف کے ویژن اور سوچ کا اندازہ اس وقت ہوگا جب پاک چائنہ اقتصادی راہداری گوادر سے کاشغر تک موٹرویز کی تعمیر، میرپور تا مظفر آباد، مری تا مظفرآباد تک ریلوے سروس، سکھر سے ملتان اور شور کوٹ سے ملتان موٹروے عملی طور پر تعمیر ہوجائےں گے۔ تب پاکستان کا شمار دنیا کے خوبصورت ترین ملکوں میں ہوگا ان شااللہ۔ کوئی سیاست دان اور حکمران فرشتہ نہیں ہے لیکن نواز شریف اگر کھاتا ہے تو کچھ لگاتا بھی ہے۔ یہی فرق نوازشر یف اور عمران کے علاوہ دیگر سیاست دانوں میں ہے۔

EXIT کی تلاش

خدا کو جان دینی ہے۔ جھوٹ لکھنے سے خوف آتا ہے۔ برملا یہ اعتراف کرنے میں لہٰذا ...