اے ٹی ایم مشینیں تو اور بھی مل جائیں گی!

16 مئی 2016

یہ کوئی بہت زیادہ دور کی بات نہیں ہے ، ابھی دو سال قبل 2014ءکی ہی تو بات ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کو اچانک 2013ءکے عام انتخابات میں دھاندلی کا خیال ذہن میں آیا۔ یہ خیال ذہن میں آنے کی دیر تھی کہ پی ٹی آئی نے آن کی آن میں آر یا پار کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ آئینی اور قانونی طور پر حکومت انتخابی حلقے نہیں کھول سکتی اور یہ کہ یہ کام صرف اور صرف الیکشن کمیشن کا ہوتا ہے، پاکستان تحریک انصاف نے 2013ءکے عام انتخابات میںمبینہ دھاندلی کو بنیاد بناتے ہوئے حکومت سے چار انتخابی حلقے کھولنے کا مطالبہ کردیا۔ صرف یہی نہیں بلکہ عمران خان نے حلقے نہ کھولے جانے پر اگست کے حبس زدہ موسم میںلاہور سے اسلام آباد تک آزادی مارچ اور اسلام آباد پہنچ کر آزادی دھرنا دینے کا اعلان کردیا۔ بات یہاں بھی ختم نہیں ہوئی بلکہ عمران خان نے وزیراعظم نواز شریف سے مستعفی ہونے کا مطالبہ بھی کردیا۔ اِس سے قبل کہ 14 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کا آزادی مارچ شروع ہوتا یا یہ مارچ اسلام آباد پہنچ کرکے آزادی دھرنا دیتا، وزیراعظم نواز شریف نے 12 اگست کی شام قوم سے خطاب کیا اور عمران خان کی ننانوے فیصد شرائط تسلیم کرلیں۔ قوم سے خطاب میں وزیر اعظم نواز شریف نے بتایا کہ ”حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ 2013 کے انتخابات میں مبینہ دھاندلی کی تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ کا تین رکنی کمیشن بنایا جائے گا، اس مقصد کیلئے چیف جسٹس سے درخواست کی گئی ہے کہ انتخابات میں دھاندلی کے حوالے سے لگائے جانے والے الزامات کی تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ کے تین ججز پر مشتمل کمیشن تشکیل دیں“۔لیکن دوسری جانب عمران خان کسی اور ہی موڈ میں تھے، انہوں نے وزیراعظم کی اِس کھلی پیشکش کو مسترد کردیا اور 14 اگست کی کڑکتی دھوپ میں اپنے ”کزن“ ڈاکٹر طاہر القادری کے ہمراہ الگ الگ مارچ کی قیادت کرتے ہوئے اسلام آباد پہنچ کر ریڈ زون میں خیمہ زن ہوگئے۔ جس کے بعد پھر کئی ہفتوں تک ریڈ زون میں وہ طوفان بدتمیزی اُٹھایا گیا کہ الامان ، الحفیظ! ڈاکٹر طاہر القادری تو صورتحال اور اللہ کی رضا کو جلدی سمجھ گئے کہ ”اللہ ابھی نواز حکومت کو گرانا نہیں چاہتا“ اور تین نقد ناں نو اُدھار کے مصداق جو کچھ ”ملا یا بچا“ سمیٹ کر یہ جا اور وہ جا۔ البتہ ”امپائر“ کی انگلی اُٹھنے کے منتظر عمران خان کو اپنے ساتھ ہونے والا ہاتھ سمجھنے میں 128 دن لگ گئے۔ سوا چار ماہ کی خاک چھاننے کے بعد پاکستان تحریک انصاف کے ہاتھ جو کچھ لگا وہ دراصل وہی تحقیقاتی کمیشن تھا، جس کا اعلان وزیراعظم نواز شریف نے مارچ اور دھرنا شروع ہونے سے قبل ہی کردیا تھا اور اِس کے علاوہ اگر کچھ حاصل ہوا تھا تو وہ ریڈ زون میں سوا چار ماہ تک روزانہ صبح و شام ہونے والا ”اوئے نواز.... اوئے شریف“ کے سوا کچھ نہ تھا۔

پاکستان تحریک انصاف دھاندلی کے تحقیقاتی کمیشن میں اپنے دلائل اور ثبوت لے کر تو گئی لیکن انتخابی دھاندلی کی تحقیقات کیلئے اپنی شرائط اور منشاءو مرضی کے مطابق بنائے جانے والے عدالتی کمیشن کو صرف 2013ءکے انتخابات میں ہونے والی مبینہ دھاندلی کی تحقیقات تک محدود کرکے پی ٹی آئی نے ملک میں انتخابی اصلاحات کا بہترین موقع ہی ضائع نہیں کیا، بلکہ آئندہ کیلئے انتخابی دھاندلی اور بے ضابطگیوں کے راستے مسدود کرنے کا سنہری موقع بھی کھودیا۔اس کمیشن میں اپنے غیر سیاسی بچگانہ رویے اور دور اندیشی کے فقدان کی وجہ سے پاکستان تحریک انصاف کو دو بڑے نقصان اٹھانا پڑے۔ اول ، یہ کہ کمیشن نے بڑے پیمانے پر منظم دھاندلی کے پی ٹی آئی کے الزام کو دھودیا اور دوم یہ کہ پاکستان تحریک انصاف نے کمیشن کے نتائج پر اعتراضات اور انگلیاں اُٹھاکر عدلیہ میں اپنے خلاف عدم قبولیت کا غیر مرئی جذبہ خود پیدا کرلیا کہ آئندہ کبھی تحقیقاتی کمیشن بنانے کا موقع آئے تو عدلیہ کمیشن بنانے سے پہلے سو بار سوچے! دھاندلی والے کمیشن کی رپورٹ پر پی ٹی آئی کے رویے کو سامنے رکھیں تو پانامہ لیکس پر کمیشن تشکیل دینے سے عدالت عظمیٰ کے انکار کی سمجھ آجاتی ہے۔عدلیہ کے انکار کو کوئی کسی بھی معنی کا جامہ پہنادے لیکن حقیقت یہی ہے کہ پانامہ لیکس میں شامل پاکستانیوں کے ناموں اور آف شور کمپنیوں کی تحقیقات کے معاملے میں یہی ہوا ہے۔ حکومت نے پانامہ لیکس کی تحقیقات کیلئے کمیشن تشکیل دینے کیلئے سپریم کورٹ کو جو خط لکھا، اس کا جو جواب سامنے آیا ، اس میں انتخابی دھاندلی والے کمیشن پر پی ٹی آئی کی جانب سے کی جانے والی تنقید کا اثر صاف محسوس کیا جاسکتا ہے۔ ماہرین نے اس پر واضح طور پر کہا ہے کہ عدالت کا جواب دراصل پی ٹی آئی کے رویے کی وجہ سے ہے، ورنہ ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کے خلاف امریکی آپریشن کی تحقیقات کیلئے تو عدلیہ نے کسی قانون سازی کا کہا نہ ہی ٹی او آرز کا کوئی ”رولا“ پڑا اور حکومتی خط کے جواب میں فوری کمیشن تشکیل دے دیا گیا تھا۔ جس طرح پاکستان تحریک انصاف کو 2014ءمیں مارچ اور دھرنے کے باوجود آخر میں وہی عدالتی کمیشن قبول کرنا پڑا تھا، جو حکومت نے مارچ اور دھرنے سے پہلے ہی ”آفر“ کردیا تھا، بالکل اُسی طرح کی غلطی اب بھی کی جارہی ہے، لیکن اب یہ غلطی صرف اکیلی تحریک انصاف نہیں کررہی بلکہ پوری اپوزیشن مل کر وہی غلطی دہرا رہی ہے۔ ہوسکتا ہے کہ اپوزیشن کو آخرکار تھوڑے بہت ردوبدل اور ترمیم کے ساتھ وہی عدالتی کمیشن قبول کرنا پرے، جو حکومت پہلے ہی ”آفر“ کرچکی ہے۔لیکن سوال تو یہ ہے کہ اگر اپوزیشن نے چاروناچار وہی ٹی او آرز قبول کرکے عدالتی کمیشن میں جانا ہے تو پھر اتنا شور شرابہ مچانے اور اس قدر بھاگ دوڑ کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ کیا اپوزیشن کو ادراک نہیں کہ اِس بار پھر اگر دو سال پہلے والی غلطی دہرائی گئی تو اُس کا نقصان صرف حکومت کو نہیں ہوگا بلکہ مجموعی نقصان میں اپوزیشن اور ملک و قوم بھی شامل ہوں گے۔
قارئین کرام!!پانامہ لیکس پر عدالتی کمیشن کی تشکیل کیلئے بھجوائے گئے حکومتی ٹی او آرز کے بارے میں یہ بھی کہا گیا کہ اِس طرح تو تحقیقات میں برسوں لگ جائیں گے، لیکن جہاں پاکستانیوں نے سات دہائیاں لٹنے میں گزار دیں، وہاں اگر سارا گند صاف کرنے میں چار پانچ سال مزید بھی لگ جائیں تو اس میں کیا مضائقہ ہے۔ سارا گند صاف کرنے کی بجائے اگر صرف وزیراعظم کا ہی احتساب کرنا مقصود ہے تو صاف ظاہر ہے کہ اپوزیشن مخلص نہیں ہے۔اپوزیشن بے شک حکومت کے ٹی او آرز میں میں اپنے نکات بھی شامل کرالے، لیکن سارا گند صاف کرنے کا بہترین موقع ضایع نہیں کرنا چاہیے۔ کیا کوئی اپوزیشن کے بڑے رہنماءکو یہ نکتہ سمجھائے گا کہ جعلی ٹکسال کا ہر صورت خاتمہ ہونا چاہیے، اے ٹی ایم مشینیں تو اور بھی مل جائیں گی!