لندن کے میئر کو نہیں اسکے ویژن کو دیکھیں....

16 مئی 2016

ارادہ تو اس بار پانامہ لیکس کی جاری کی گئی حالیہ دوسری قسط پر عالمی رد عمل، وزیراعظم محمد نواز شریف اور اپوزیشن جماعت کے مابین شروع سیاسی دھینگا مشتی، تحقیقاتی کمشن کے بارے میں چیف جسٹس کی جانب سے عدالتی کمشن تشکیل نہ دینے پر اظہار معذوری، اور ”آف شور“ کمپنیوں میں پاکستانی سیاست دانوں اور ”راتو رات“ امیر ہونے والے شہریوں کی لگائی 50 ارب ڈالرز کی خطیر رقم کے بارے میں کچھ تازہ ترین انکشافات کرنے کا تھا۔ مگر ہوا یوں کہ لندن کے میئر کے حالیہ انتخابات میں 13 لاکھ 10 ہزار ایک سو 4 ووٹوں سے کامیاب ہونے والے میئر صادق خان کے بارے میں عالم برطانوی پاکستانیوں کی بڑھتی اس سوچ نے کہ صادق خان چونکہ پاکستانی نژاد اور پھر الحمد اللہ وہ مسلمان بھی ہیں اس لئے اب وہ پاکستانیوں کے ہی میئر ہیں۔ موضوع بدلنے پر محض اس لئے بھی مجبور کردیا۔ تاکہ ایسی سوچ رکھنے والے اپنے بزرگوں کی رہنمائی کرسکوں؟

مجھے آج بھی اچھی طرح یاد ہے گلاسگوسے چودھری سرور جب پہلے پاکستانی نژاد اور مسلمان برطانوی پارلیمنٹ کے رکن منتخب ہوئے تو میرے کئی ”بیچلر“ لیول دوستوں نے اپنی خوشی مجھ سے یہ کہہ کر شیئر کی تھی کہ پاکستان میں برطانیہ آنے کے منتظر انکے عزیز و اقارب کو چودھری سرور اپنی اتھارٹی سے اب جلد برطانیہ بلواسکیں گے۔ ایسے پڑھے دوست یہ بھول ہی گئے، کہ کوئی بھی رکن پارلیمنٹ ایسے معاملات میں ریفرنس خط و کتابت کے علاوہ ویزہ کے حصول میں آپکی کوئی مدد نہیں کرسکتا کہ ویزہ دینانہ دینا متعلقہ امیگریشن حکام کی ذمہ داری ہوتی ہے۔
اسی طرح برادرم طارق غفور لندن میں سکاٹ لینڈ یارڈ میں جب پہلے مسلمان اسسٹنٹ کمشنر تعینات ہوئے تو میرے کئی بزرگوں نے مجھ سے یہ پوچھتے ہوئے کہ طارق پولیس کے حوالہ سے ہماری ضرور مدد کریں گے، خوشی کا اظہار کیا تھا۔ انہوں نے ایسا کیوں سوچا اور ایسا ہم کیوں سوچتے ہیں؟ یہ تو مجھے معلوم نہیں تاہم اس بات سے ضرور آگاہ ہوں کہ کسی بھی پاکستانی نژاد شخصیت کو جب اعلیٰ کامیابی حاصل ہوتی ہے تو اس سے فوری رابطہ کرنے کا ایک فیصلہ ہمیں اس کے اختیارات سے فائدہ اٹھانا ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایسی ہی صورت حال شاید اب ہم میئر آف لندن صادق خان کے لئے پیدا کرنا چاہتے ہیں جو ممکن نہ ہوسکے گی۔ کیوں....؟ اس لئے کہ لندن میں ایک انتہائی محتاط اندازے کے مطابق 55 کے قریب مختلف نسلیں اور قومیں آباد ہیں۔ آبادی ڈیڑھ کروڑ کے قریب پہنچنے کو ہے۔ 2 اعشاریہ 4 فیصد یہاں مسلمان اور تقریباً 2 اعشاریہ 6 فیصد پاکستانی آباد ہیں۔ 300 مختلف زبانیں بولی جاتی ہیں۔ مسجدوں، گرجا گھروں، سینیگاگز، مندروں اور گردواروں میں عبادت کی بلاخوف و خطر آزادی اور ہم جنسی قوانین کے تحت دی گئی آزادی کے احترام کا تحفظ بھی ہے۔
ہمیں اب ملٹی کلچرل سوسائٹی کے تقاضے پورے کرنے ہوں گے۔ اسی لئے اگلے روز صادق خان نے مقامی گرجا گھر میں جب حلف برداری کی تقریب میں شرکت کی تو انہوں نے اپنا نام بتانے کے بعد صرف یہ کہا کہ I am the Mayor of London۔ اب یہ کہنا کہ پاکستانیوں اور مسلمانوں کے ووٹوں سے ہی وہ میئر منتخب ہوئے، درست نہیں۔ ادھر اس سوچ کو ذہن سے اب نکال بھی دینا چاہئے۔ صادق خان ایک Observant Muslim ہیں جنہیں یہودیت، عیسائیت اور اسلام کا اتحاد بنانا ہے۔ ہر مذہبی رہنما کو ساتھ لے کر چلنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اپنی کامیابی کے بعد انہوں نے Holocaust Memorial کا چیف رابی کے ہمراہ سرکاری دورہ کرنے کا فیصلہ کیا۔
میرے کچھ ”اللہ والے“ دوستوں کا خیال ہے کہ صادق خان ممکن ہے لندن اور اس کے قرب و جوار میں حضرت عمر بن خطابؓ کے فلاحی منصوبوں کواس انداز سے متعارف کروائیں کہ عیسائی خودبخود مسلمان ہونے پر مجبور ہوجائیں۔ ان دوستوں کی یہ سوچ تو درست ہے مگر بعض غیر مسلموں کا یہ سوال کہ مسلمان خود مسلمان کیوں نہیں بنتے؟ دوستوں کی سوچ میں رکاوٹ کا باعث بن سکتا ہے۔ سب سے پہلے ہمیں اپنے کردار و عمل سے خود کو مسلمان بنانا ہے۔ مسلمانوں کے خلاف دنیا میں شدت سے ابھرتی نفرت اور حقارت کو اپنے حسن اخلاق اور عمل سے ختم کرنا ہوگا۔ بیرسٹری کی اعلیٰ قانونی تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کا تعلق کسی مذہب سے کیوں نہ ہو مگر تربیتی مراحل سے گزرتے وقت انہیں یہ ضرور آگاہ کیا جاتا ہے کہ عمر بن خطابؓ کا فلاحی معاشی نظام ہی برطانوی فلاحی ریاست کے قیام کا مرکز ہے۔
صادق خان کو اپنے اِس فلاحی اور سیاسی سفر میں ابھی ایک طویل مسافت طے کرنا باقی ہے۔ لندن کی میئرشپ میں ان کا اب سیاسی امتحان اور سیاسی مستقبل بھی پنہاں ہے۔ یہ پرڈکشن نہیں بلکہ بحیثیت برطانوی پاکستانی میں دیکھ رہا ہوں کہ صادق خان کا انداز سیاست مستقبل قریب میں انہیں لیبر پارٹی کا لیڈر بھی بنا سکتا ہے۔ اسی طرح حالات یہ بھی بتا رہے ہیں کہ صادق خان کے ہاتھوں شکست کھانے والی ٹوری پارٹی کے میئر بورس جالسن مستقبل میں کنزرویٹو پارٹی کے لیڈر بن جائیں۔ ایسا اگر ہوا تو برطانوی پارلیمانی تاریخ میں ایک نئے سیاسی باب کا اضافہ ہوگا جس میں دونوں بڑی سیاسی پارٹیوں کے متوقع لیڈران اپنے اپنے وقت میں لندن کے ہردلعزیز میئرز رہ چکے ہوں گے۔

EXIT کی تلاش

خدا کو جان دینی ہے۔ جھوٹ لکھنے سے خوف آتا ہے۔ برملا یہ اعتراف کرنے میں لہٰذا ...