ہند و نواز حسینہ

16 مئی 2016

اکھنڈ بھارت پر ایمان رکھنے والے برہمن راج کے پجاریوں کی بنیاد تعصب سے ہی عبارت ہے ۔ برہمن جاتی کی یہ خاصیت ہے کہ دوسرا مذہب تو درکنار اپنے ہندو جاتی کے غیر برہمن افراد کو بھی نیچ اور پلید مانتے ہیں ۔نچلی جاتی کا کوئی فرد اگر ان کا برتن چھو لے تو وہ نرش ہو جاتا ہے۔ اگر برہمن کا بھجن سن لیں تو اس کے کانوں میں سیسہ پگھلا کر ڈال دیتے ہیں ۔ روز اول سے ہی تخت بھارت پر یہی برہمن زادے براجمان ہیں ۔ تقسیم ہند کو پنڈت نہرو اور دوسرے کانگریسیوں کووقتی طور پر برداشت کرنا پڑا مگر دل سے تسلیم کرنا ان کے دھرم کے خلاف تھا لہذا رو ز اول سے ہی پاکستان کو دنیا کے نقشے سے مٹانے کا عزم ہی نہیں کیا بلکہ عملی طور پر سازشوں کے جال پر جال بن کر نئی سے نئی چالیں چلنا شروع کر دیں ۔ تقسیم کے دوران ہی کلکتہ اور گردو نواح سے پڑھے لکھے بنگالی نوجوانوں کو مشرقی پاکستان وسیع پیمانے پر منتقل کرنا شروع کر دیا جنہیں سرکاری محکمہ ذات خصوصا تعلیمی اداروں میں اس طرز پر جمایا گیا کہ وہ نئی نسل کو مسلم قومیت کی بجائے متعصب بنگالی بنالیں ۔ ایک تحقیق کے مطابق انہیں ایجنٹوں میں ایک نوجوان برہمن زادے کو مسلمان ظاہر کرکے بنگالیوں کا لیڈر بنانے کی ٹھان لی اور اس کی پشت پناہی کرتے ہوئے اسے عوامی لیگ کی سربراہی تک پہنچایا ۔ پاکستان کے مشہور قانون دان جناب ایس ایم ظفر کا کہنا ہے کہ اگر تلہ سازش کا فیصلہ ہو جاتا ہے تو نہ شیخ مجیب الرحمن بنگلہ بندو ( بنگالی رہبر) بنتا نہ پاکستان دو لخت ہوتا کیونکہ مشرقی پاکستان کی اکثریت پاکستان کو چاہنے والی تھی ۔

تاہم برہمن زادوں کی سازش کامیاب ہونے لگی ۔ بھارت نے پہلے مکتی باہنی کے روپ میں اپنے غنڈے بھیجے جو پاکستان کے اداروں پر حملہ کرتے بعد ازاں بھارتی افواج بین الاقوامی سرحدیں عبور کرکے لاکھوں محب وطن پاکستانیوں کو تہ تیغ کرتے ہوئے مشرقی پاکستان پر قابض ہوگئیں اور وہاں کٹھ پتلی حکومت قائم کر دی ۔ مغربی پاکستان سے شیخ مجیب الرحمن کو رہا کرکے وہاں کا سربراہ مملکت بنایا گیا جس نے پاکستان سے وفا کرنے والوں اور عوامی لیگ کا ساتھ نہ دینے والوں کے خلاف مقدمات قائم کرائے ۔ بعدازاں نومبر 1973ءمیں ہندو نواز بنگلہ دیش حکومت نے عام معافی کا اعلان کیا جو سزایافتہ لوگوں کےلئے بھی تسلیم کی گئی ۔9اپریل 1974ءکو بھارت پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان دہلی میں ایک سہ فریقی مذاکرات کے بعد معاہدہ قرار پایا جس میں معروف بھارتی وزیرخارجہ سردار سورن سنگھ پاکستان کے وزیر خارجہ عزیز احمد اور بنگلہ دیش کے ڈاکٹر کمال حسین شامل تھے جس میں یہ طے پایا کہ 195فوجی افسروں پر انسانیت سوز جرائم کی پاداش میں مقدمہ نہیں چلے گا اور 1973ءکا قائم شدہ خصوصی ٹربیونل کو ختم تصور کیا جائے گا ۔ معاہدے میں طے پایا کہ پاکستان او ربنگلہ دیش دونوں ممالک میں ایک دوسرے کے ہاں پھنسے ہوئے شہریوں کی آبادی کاری اور محفوظ واپسی کا پابند ہونگے اور اس کے بعد اگست 1975کو ہندو مخالف قوتوں نے شیخ مجیب الرحمن اس کے خاندان سمیت صفحہ ہستی سے مٹادیا صرف ایک بیٹی حسینہ واجد وہاں موجود نہ ہونے کی بنا پر زندہ بچ سکی پھر بھارت نے اپنی حمایتی قوتوں کو ایک بار پھر منظم کیا جس کی سربراہ ہندو پرور حسینہ واجد تھی جس نے برسر اقتدار آنے کے بعد 2010ءمیں پاکستان سے بغاوت کرنے والے عناصر کے خلاف پاک فوج کے دست و بازو بننے والوں کو سزائیں دینے کا سلسلہ شروع کیا ۔ اس برہمن سوچ کی عورت نے 12دسمبر 2013ءکو جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رہنما عبدالقادر ملا، 11اپریل 2015 کو جناب قمر الزماں،22ستمبر 2015 کو جماعت کے مرکزی رہنما علی احسن مجاہد بنگلہ دیش نیشنل پارٹی کے صلاح الدین اور قادر چوہدری کو تختہ دار پر لٹکا دیا گیا اور اب امیر جماعت اسلامی مولانا مطیع الرحمن کو بھی تختہ دار پر لٹادیا گیا ۔ علاوہ ازیں دو بزر گ رہنما عارضہ قلب کے باعث جیل میں ہی انتقال فرما گئے ۔ تین مزید بزرگ رہنما پھانسی گھاٹ کی قطار میں دکھائی دے رہے ہیں ۔ ان میں سے کوئی شخص ستر برس سے کم عمر کا نہیں ۔ اکثریت کا تعلق بنگلہ دیشی پارلیمنٹ سے ہے جو عکاسی کرتا ہے کہ یہ لوگ بنگلہ دیش اور اس کے آئین کو تسلیم کرتے ہوئے زندگی گزار رہے تھے اور ان میں سے اکثریت کا تعلق جماعت اسلامی سے تھا ۔ غور طلب بات یہ ہے کہ پھانسی پانے والوں میں کسی کا تعلق مسلم لیگ سے نہ تھا ۔کیا بنگلہ دیش میں مسلم لیگ نہ تھی ۔ کیا نواب سلیم اللہ ، خواجہ ناظم الدین ، شیر بنگال فضل حق اور حسین شہید سہروردی اور ان کے لاکھوں ساتھیوں کی اولاد بنگلہ دیش بننے کے مخالفوں میں نہ تھی ۔ کیا پاکستان میں موجود مسلم لیگیوں کی خاموشی معنی خیز نہیں ؟ موجودہ مسلم لیگی حکومت کا مشیر خارجہ سرتاج عزیز اسے بنگلہ دیش کا اندرونی معاملہ قرار دے کر دو قومی نظریے پر ضرب نہیں لگا رہا ؟ پاکستان کو توڑنے کا ایوارڈ لینے والا مودی آج کے مسلم لیگی وزیر اعظم کا دوست آخر کیوں ہے ؟ یہ وہ سوال ہیں جو پاکستان کی خالق جماعت کے دامن پر بدنما داغ ثابت ہو رہے ہیں ۔ بنگلہ دیش اور پاکستان دونوں ملکوں میں مودی دوست حکومتیں مستقبل میں کیا کرنے والی ہیں یہ سوچ کرمحب وطن طبقہ لرز اٹھتا ہے ۔بنگلہ دیش میں پاکستان پر قربان ہونے والے شہیدوں کے لئے اقوام متحدہ نے جنبش کی نہ او آئی سی کا ضمیر بیدار ہوا ۔ فقط ایک ترک رہبر طیب اردگان ایسی شخصیت ہیں جنہوں نے نہ صرف سخت ترین الفاظ میں بنگلہ دیشی حکومت کی مذمت کی بلکہ ان سے اپنے سفارتی تعلقات قطع کرنے کا اعلان کرکے مسلم دنیا کا وارث اور قائد ہونے کا ثبوت دیا جہاں پاکستانی قوم اپنی حکومت کی بزدلی اور بھارت نوازی پر شرمندہ ہے وہاں طیب اردگان کی بہادری او رمسلم دوستی پر انہیں خراج تحسین پیش کرتے ہیں ۔ کاش پاکستان کو ایسی قیادت نصیب ہو جو مشرق مغرب پاکستانی بازو کو ایک کرسکے تاکہ نفرت کی دیواروں کو گرایا جا سکے اور پاکستان کو ایک اسلامی جمہوری فلاحی ریاست بنایا جاسکے ۔