”میں بھی اثاثے لاتا ہوں.... حسن اور حسین نواز بھی لائیں“

16 مئی 2016

مزے کی بات ہے ک انکم کی بنیاد پر پاکستان میں جب بھی زرعی ٹیکس کے نفاذ کا مطالبہ ہوا تو زمین کے ٹھیکے اور مزارعت کو گڈ مڈ کر دیا گیا۔ زمین کے ٹھیکے کی رقم خالصتاً انکم ہے اور اس پر انکم ٹیکس نہ لگانے سے ہماری معیشت بے راہ روی کا شکار ہے۔ پھر زمین کی غیر محدود ملکیت میں یہ آمدنی حد و حساب سے باہر ہو جاتی ہے۔ اسی طرح جب کسی سیاستدان کی کرپشن کا معاملہ سامنے آتا ہے تو جمہوریت کے نام پر دہائی شروع کر دی جاتی ہے۔ 1970ءمیں جب بھٹو نے اسلامی سوشلزم کا نعرہ لگایا اور روٹی، کپڑا، مکان کو ریاست کی ذمہ داری قرار دیا تو یار لوگوں کو اسلام خطرے میں دکھائی دینے لگا۔ اسلام کو خطرے کا فطری محاذ پر سب سے بہترین جواب حبیب جالب نے اپنی شاعری کی زبان میں دیا۔ خطرہ ہے زرداروں کو، رنگ برنگی کاروں کو، امریکہ کے پیاروں کو، خطرے میں اسلام نہیں۔ اس لمبی نظم کو جناب جالب ترنم سے پڑھتے تو اک سماں بندھ جاتا۔ اب جمہوریت کے فکر مند شور مچا رہے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ نے اپنی چھریاں تیز کر لی ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ یہ سچ ہو لیکن سوال پیدا ہوتا ہے کہ انہیں یہ موقع کس نے فراہم کیا ہے؟ پاکستان کے عوام جہاں یہ تسلیم کرتے ہیں کہ کرپشن ہماری سوسائٹی کا بنیادی مسئلہ ہے، وہیں وہ اسے ایک لا علاج مرض بھی قرار دیتے ہیں۔ وہ پوری دیانتداری سے سمجھتے ہیں کہ اسے جڑ سے اکھاڑنا ممکن ہی نہیں۔ ان حالات میں وہ کرپشن کو ایک ناگزیر برائی کے طور پر قبول کر چکے ہیں لیکن دنیا کے گلوبل ویلج ہونے کے ناطے اب حالات بدل چکے ہیں۔ ٹی وی اور انٹرنیٹ کے باعث خبروں کی ترسیل فوری اور آسان ہو گئی ہے۔ ان حالات میں کوئی آدمی دنیا کے حالات سے بے خبر اور متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ ہمارے لیڈروں کی لش پش اور شان و شوکت اتنی ہی ہے کہ امریکی سربراہ بھی انہیں دیکھ کر حیران رہ جاتے ہیں۔ ہیلری کلنٹن نے اپنی یادداشتوں میں بے نظیر کی شاہانہ شان و شوکت کا خاص طور پر ذکر کیا ہے۔ میاں نواز شریف کا مہنگی گھڑیوں کا شوق اور یوسف رضا گیلانی کے سوٹوں کی بہار پاکستانی عوام کیلئے کچھ خوش کن اثرات نہیں چھوڑتی۔ جبکہ وہ غیر ملکی سربراہوں کو معمولی کاروباری آدمی کی طرح خود اپنا بریف کیس اٹھائے جاتا ہو ا دیکھتے ہیں۔ اس عوامی بیداری کے موسم میں پانامہ لیکس نے سونے پر سہاگے کا کردار ادا کیا ہے۔ این آر او پاکستان کی سیاست کا ایک تاریک باب ہے۔ اس کے ذریعے ایک آمر نے اپنی آمریت قائم رکھنے کیلئے دونوں سیاستدانوں کی کرپشن کو قانونی قرار دے دیا۔ شاید ہی ایسی بے انصافی کسی ملک میں قانونی طریقے سے کی گئی ہو۔ این آر او ، اور میثاق جمہوریت کو اکٹھا پڑھنے کی ضرورت ہے۔ پھر کہیں سارا معاملہ واضح ہوتا ہے۔ ان دنوں عوامی بیداری کا یہ عالم نہیں تھا کہ اس لیے معاملہ نبھ ہی گیا۔ آج صورتحال یکسر مختلف ہے پھر 1993ءاور 2016ءمیں بھی بہت فرق ہے جناب؟ اب فوج کے سربراہ جنرل وحید کاکڑ نہیں، جنرل راحیل شریف ہیں۔ جنرل وحید کاکڑ 1993ءمیں جنرل آصف نواز کی پراسرار جواں موت پر فوج کی ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھے تھے۔ ڈرائیور بھی نیا اور گاڑی بھی غیر مانوس، پھر بریک اور ایکسیلیٹر میں بھلا فاصلہ بھی کتنا ہوتا ہے۔ اب آرمی چیف جنرل راحیل شریف ہیں۔ دو نشان حیدر کا اعزاز رکھنے والے خاندان کی وراثت کے امین، اس کمانڈر کی دیانت، ایثار، سیر چشمی اور جرا¿ت کی کئی کہانیاں سننے میں آ رہی ہیں لیکن کیا کیجئے؟

بے نیازی سے مدارات سے جی ڈرتا ہے
جانے کیا بات ہے ہر بات سے جی ڈرتا ہے
پھر جانے کی باتیں جانے دو، کے نعروں کے شور میں جنرل راحیل شریف کا ملازمت میں توسیع نہ لینے کا اعلان اور پھر اس پر اصرار، ضرب عضب میں بے پناہ کامیابی، سلیمان تاثیر اور یوسف رضا گیلانی کے بیٹوں کی رہائی اور دو جرنیلوں سمیت فوج کے اعلیٰ افسروں کے خلاف کارروائی نے ان کی عوامی مقبولیت میں اضافہ اور قدکاٹھ کو سیاستدانوں کے مقابلے میں اونچا کر دیا ہے۔ پھر ان کے اس اعلان نے کہ بے لاگ اور بلا امتیاز احتساب کے بغیر دہشت گردی پر قابو نہیں پایا جا سکتا، سیاستدانوں کی گویا جان ہی نکال دی ہے۔ سیاستدانوں کے کریکٹر کا یہ عالم ہے کہ اعتزاز احسن سرے محل کا ذکر نہیں کرتے۔ وہ صرف میاں نواز شریف کی کہانیاں سناتے ہیں۔ ادھر مسلم لیگی میاں نواز شریف کے معصوم عن الخطاءہونے کا راگ الاپ رہے ہیں۔ اپوزیشن نے میاں نواز شریف سے سات سوال پوچھے ہیں۔ یہ پوچھ گچھ ایک جمہوریت میں اپوزیشن کا استحقاق ہے۔ ان کے سوالوں کا جواب دینے کی بجائے (ن) لیگ نے بھی جواب میں سات سوال ڈھونڈ لیے ہیں۔ ان سوالوں پر مجھے ایک واقعہ یاد آ گیا۔ اس میں سوچنے سمجھنے والوں کیلئے بہت کچھ موجود ہے۔ ایک پیشہ ور خاندانی چور ایک رات حسب معمول اپنے کام پر نکلا۔ اندھیری رات کے باعث وہ غلطی سے اپنے سسرال کے گھر ہی دیوار پھلانگ کر داخل ہو گیا۔ اب اس چور کے سسرال کون سے بھلے مانس اور شریف لوگ تھے۔ وہ بھی چوری چکاری کے کام پر نکلنے کیلئے تیار بیٹھے تھے۔ انہوں نے اندھیرے میں اس اکیلے چور کو جھٹ سے قابو کر لیا۔ اگلے روز وہ چور اپنے ہمجولیوں کو رات کا قصہ سنا رہا تھا۔ ”وہ مجھے قابو کرکے لگے شور مچانے، لالٹین لاﺅ، کوئی بتی ڈھونڈو لیکن پھر روشنی میں مجھے پہچان کر شرم کے مارے ڈوب مرنے کی جگہ ڈھونڈنے لگے“۔ لیکن ایک بات ہے کہ (ن) لیگ کے سات سوالوں میں عمران خان کے بارے کوئی سوال نہیں۔ یہی بات سب سے اہم ہے اور یہی عمران خان کی طاقت بھی ہے۔ بڑے مضحکہ خیز انداز میں جہانگیر ترین اور عبدالعلیم خان کو عمران خان کی اے ٹی ایم مشینیں کہا جا رہا ہے۔ کسی سیاست جماعت کو چندہ دینا کوئی غیر اخلاقی بات نہیں۔ بھاری چندہ دینے والے لوگ کس جماعت میں موجود نہیں ہیں؟ سیاسی جماعت جتنی تگڑی ہو گی، فنانس کرنے والے لوگ بھی اتنے ہی تگڑے ہوں گے۔ ن لیگ جہانگیر ترین کی وجہ سے بینکوں کے قرضوں کی معافی کا ایشو بھی اٹھنا چاہتی ہے۔ اس طرح وہ معاملے کو لٹکانا بھی چاہتی ہے۔ انہیں بینک کا قرضہ معاف کروانے والوں کے خلاف کارروائی کرنے میں کس نے روکا ہے۔ عمران خان دو ٹوک لہجے میں کہہ رہے ہیں کہ جس کے بھی کوئی غیر قانونی معاملات ہیں اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہونی چاہیے۔ سو سنار کی اور ایک لوہار کی، عبدالعلیم خان کی سنو۔ ”میں بھی اپنے اثاثے پاکستان لے آتا ہوں۔ حسن اور حسین نواز بھی تو اپنے اثاثے لائیں“۔ اب دیکھئے عبدالعلیم خان کے اس سوال کے جواب میں کیا سوال آتا ہے۔ جب بھی ایک سوال کا جواب ایک دیگر سوال سے دیا جائے گا تو ایک جج کا کمرہ عدالت سے اٹھ کر چلے جانا ہی بنتا ہے۔ ہمارے چیف جسٹس سپریم کورٹ جناب انور ظہیر جمالی یہ بات خوب جانتے ہیں۔