شہید پاکستان ۔ مطیع الرحمن نظامی

16 مئی 2016

ڈاکٹر ہارون کمال کا منظوم خراج عقیدت ؎’’ مطیع الرحمنٰ نظامی ہے نام میر ا میں شہید پاکستان ہوں ‘‘ میرے پیش نظر ہے اس کا ہر شعر ایمان کو تازہ کر دیتا ہے مطیع الرحمن نظامی کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے دو قومی نظریہ کے محافظ مجید نظامی مرحوم بہت یاد آئے ۔ سابق مشرقی پاکستان اور حال بنگلہ دیش میں دو قومی نظریہ پر یقین رکھنے والے کسی’’ پاکستانی‘‘ کو کانٹا چبھ جائے تو وہ تڑپ اٹھتے تھے اور پاکستان کے حکمران طبقہ کا ضمیر جھنجوڑتے تھے لیکن آج تو کوئی بھی مجید نظامی نہیں ہے جو حکمران طبقہ کو ’’احساس ذمہ داری‘‘ دلا سکے ۔ جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے سابق امیر مطیع الرحمن نظامی کو پاکستان سے محبت کرنے کی’’ صلیب ‘‘پر لٹکائے جانے کی تیاریاں ہو رہی تھیں جماعت اسلامی پاکستان کے قائدین سراج الحق اور لیاقت بلوچ وزیر اعظم محمد نواز شریف اور وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان سمیت ہر اس شخص کا دروازہ کھٹکٹاتے رہے جو بنگلہ دیش کی وزیر اعظم حسینہ واجد کو ’’ پاکستانیوں‘‘ کے قتل عام سے روکنے میں کوئی کردار ادا کر سکتا تھا حتیٰ کہ انہوں نے ترکی سے بھی مدد کی درخواست کی لیکن ہمارے حکمرانوں نے مطیع الرحمنٰ کی جان بچانے میں دیر کر دی ہمارا ’’فارن آفس‘‘بنگلہ دیش کو ایک آزاد وخود مختار ملک قرار دے کر حکمرانوں کو 1974ء کا وہ سہ ملکی معاہدہ یاد دلانے سے روکتا رہا ہے جو جنگی جرائم کے مقدمات چلانے کی راہ میں حائل ہے ۔ بنگلہ دیش سے زوردار احتجاج اس کے اندرونی معاملات میں مداخلت تصور ہو گی اس لئے حکومت پاکستان نے اس وقت مصلحت پر مبنی’’خاموشی ‘‘اختیار کئے رکھی جب تک مطیع الرحمن کو تختہ دار پر لٹکا نہیں دیا گیا جب مطیع الرحمنٰ کو پھانسی دے دی گئی تو ہمارے ’’فارن آفس‘‘ کا ضمیر بھی جا اٹھا وزیر اعظم محمد نواز شریف نے وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان خان کی سربراہی میں کمیٹی قائم کر دی ہے جو بنگلہ دیش میں ان پاکستانیوں کی حفاظت کے سفارتی محاذ پر اقدامات تجویز کرے گی لیکن حکومت پاکستان نے ان’’ پاکستانیوں ‘‘ کی مدد کوپہنچتے بڑی دیر کر دی جنہوں نے اپنے آپ کو پاکستان پر قربان کر دیا یہ پہلے پاکستانی کا قتل نہیں ہے اس سے قبل ملا قادر، علی حسن مجاہد ،صلاح الدین قادر اور قمر زماں کو بھی پاکستان سے محبت کرنے’’ جرم‘‘ میں پھانسی دی جا چکی ہے پروفیسر اعظم جنہیں پاکستان سے محبت کرنے کے جرم میں کنگروکورٹ نے سزائے موت دی قید تنہائی میں جان جان آفریں کے
سپرد کر دی جماعت اسلامی کے ان رہنمائوں نے تو کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے پھانسی کے تختے پر چڑھ کر 21ویں کی سیاسی تاریخ میں جرات و استقامت کی نئی تاریخ رقم کر دی مطیع الرحمنٰ نظامی نے بھی رحم کی اپیل کی اور نہ ہی کنگرو کورٹ کے فیصلے کے سامنے سر جھکایا اور ہم سب کو یہ پیغام دے کر ’’میں انقلاب اسلامی کا باب روشن عنوان ہوں ۔تحریک اسلامی نام میرا میں شہید پاکستان ہوں ‘‘ انہوں نے اپنی موت سے قبل ایک خط لکھا کہ’’آج میں مر رہا ہوں کل تم بھی مر جائو گے کبھی مت بھولوظالم نے بھی ایک دن مر جانا ہے کیونکہ اس دنیا میں آنے والا ہر شخص واپس جائے گا ‘‘ در اصل انہوں نے پیغام دیا ہے ’’ متحدہ پاکستان کے لئے جانوں کے نذرانے پیش کرنے والوں کے قتل پر کب تک خاموشی اختیار کئے رکھو گے‘‘ ۔یہ مارچ 1994کی بات ہے میں ڈھاکہ میں ہونے والی سارک ممالک پریس کلبز کی کانفرنس میں راولپنڈی اسلام آباد کے پریس کلب کے صدر کی حیثیت سے نمائندگی کرنے جا رہا تھا تو مجھے جناب مجید نظامی مرحوم نے بنگلہ دیش میں ’’پاکستانیوں ‘‘ کو تلاش کر کے ملاقات کرنے کی تاکید کی ۔سچی بات یہ ہے میرا کانفرنس میں تودل ہی نہیں لگا میں نے جتنے روز سابق مشرقی پاکستان میں قیام کیا ان’’ پاکستانیوں ‘‘ کی تلاش میں رہا جن کے دل میں اب بھی پاکستان بستا ہے یہ 21سال قبل کی بات ہے جس نسل نے اپنی آنکھوں سے پاکستان بنتے اور ٹوٹتے دیکھا ہے ، کے دلوں میں اب پاکستان کو بسے ہوئے دیکھا ہے لیکن اس وقت بھی بنگالی اس حد تک خوفزدہ دکھائی دئیے کہ وہ کسی دوسرے بنگالی کی موجودگی میں پاکستان کے بارے میں بات ٍ نہیں کرتے تھے جب سے پاکستان دو لخت ہوا ہے بھارت نے بنگلہ دیش پر اپنی گرفت مضبوط رکھنے کے لئے اپنے ’’ ہائی کمشنر‘‘ کو ڈھاکہ میں ’’وائسرائے ‘‘ کا درجہ دے رکھاہے بنگلہ دیش میں ’’بھارت نواز‘‘ عوامی لیگ کی حکومت نے ان بنگالیوں کو چن چن کر جیلوں ڈال رکھا ہے اس وقت دو ہزار سے زائد بنگالی مختلف جیلوں میں قید وبند کی صعوبتیں برداشت کر رہے ہیں مطیع الرحمنٰ تو ایک سوچ کا نام ہے جو پھانسیاں دینے سے تو ختم نہیں ہو سکتی در اصل شیخ مجیب الرحمنٰ کی صاحبزادی شیخ حسینہ واجد جو بنگلہ دیش میں فوجی انقلاب میں بیرون ملک ہونے کی وجہ سے زندہ بچ گئی تھیں نے پچھلے چند سالوں کے دوران سب سے پہلے ان لوگوں کو سزائے موت دلوائی جن پر ان کے باپ شیخ مجیب الرحمن اور خاندان کے دیگرافراد کو قتل کرنے کا الزام تھا ۔زمانہ طالبعلمی میں مجھے1969ء کے اوائل میں شیخ مجیب الرحمنٰ سے راولپنڈی میں واقع ’’ مشرقی پاکستان ہائوس ‘‘ میں ملاقات کرنے کا موقع ملا جب وہ اس وقت کے صدر فیلڈ مارشل محمد ایوب خان کی طلب کردہ ’’ گول میز کانفرنس ‘‘ میں شرکت کے آئے تھے میں نے کرنل فاروق سے ڈھاکہ چھائونی میں ملاقات کی جس کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ اس نے شیخ مجیب الرحمن کے خلاف فوجی انقلاب کی قیادت تھی اس نے متحدہ پاکستان میں کاکول سے گریجویشن کی تھی عظیم پاکستانی فضل القادر چوہدری جو متحدہ پاکستان کی قومی اسمبلی کے سپیکر رہے ہیں کے صاحبزادے صلاح الدین چوہدری سے بھی ان کے دفتر میں ملاقات کی فضل القادر چوہدری 1971ء کے عام انتخابات میں کنونشن مسلم لیگ کے صدر کی حیثیت سے انتخابی جلسہ سے خطاب کرنے کے لئے مری آئے تو ان سے گھوڑا گلی میں راجہ اشفاق سرور کے بزرگ راجہ غلام سرور کی رہائش گا ہ پر ظہرانہ میں ملاقات ہوئی مجھے ان کے اندر کوٹ کوٹ کر بھری ’’پاکستانیت ‘‘ کا ایک ایک لفظ آج بھی یاد ہے اسی طرح جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے سیکریٹری جنرل علی حسن مجاہد کو سزائے موت دی جا چکی ہے حسینہ واجد حکومت جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے سیکریٹری جنرل قمر الز ماں کو سزائے موت دے چکی ہے ملا قادر’’ اللہ اکبر‘‘ کا نعرہ لگاتے ہوئے پھانسی کے پھندے کو چوم چکے ہیں اس کھلم کھلا ریاستی دہشت گردی پر حکومت پاکستان نے جس انداز میں ’’تشویش‘‘ کا اظہار کیا ہے وہ کسی طور پر عوام کے جذبات کی ترجمانی نہیں کرتی وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان جو ’’ کرداروگفتار‘‘ کے غازی ہیں نے بھی مطیع الرحمنٰ کی
شہادت کے بعد ہی اپنے رد عمل کا اظہار کیا پاکستان میں یہ بات برملا کہی جاتی ہے کہ موجودہ حکومت میں متحدہ پاکستان سے محبت کرنے والے بنگالیوں کے لئے آواز اٹھانے والوں کے سرخیل چوہدری نثار علی خان ،راجہ محمد ظفرالحق ، خواجہ سعد رفیق اور مشاہد اللہ خان ہیں لیکن ان میں سب سے زیادہ بلند آواز چوہدری نثار علی خان کی ہے لیکن اب کی بار ان سے کچھ کوتاہی ہو گئی ہے یہی وجہ اب وہ اپنی اس کوتاہی کا ازالہ کر رہے ہیں ان سے جماعت اسلامی والوں کا گلہ جائزہے کیوں انہوں نے ان سے بے پناہ توقعات وابستہ کر رکھی ہیں چوہدری نثار علی خان کی قدرو منزلت میں جتنا اضافہ ہوا ہے اس کا انہیں اندازہ ہی نہیں مجبور اور بے بس ’’پاکستانیوں‘‘ کے حق میں چوہدری نثار علی خان ہی بیان دے سکتے ہیں سو ماضی میں انہوں نے اس کا حق ادا کیا اب بھی وہ اس بات کی توقع رکھتے وہ ان کی آواز بن کر ہر وہ دروازہ اٹھائیں گے جہاں سے ان بنگالیوں کے انسانی حقوق کی حفاظت کی ضمانت مل سکتی ہے چوہدری نثار علی خان بنگلہ دیش میں’’ پاکستانیوں ‘‘ کے قتل عام پر عالمی قوتوں کا ضمیر بیدار کرنے کے لئے وفود کی قیادت کریں تو مثبت نتائج برآمد ہو سکتے ہیں دفتر خارجہ کے ’’بابوئوں‘‘ نے وزیر اعظم محمد نواز شریف کو کوئی بیان دینے سے روک رکھا ہے اور ترکی بنگلہ دیش سے اپنا سفیر واپس بلا سکتا ہے تو ہمارے ہاں ’’قبرستان‘‘ کی سی خاموشی کیوں؟ ا چوہدری نثار علی خان بنگلہ دیش میں ’’ پاکستانیت ‘‘ کے قتل عام پر تڑپ اٹھے ہیں انہیں دکھ ہے کہ وہ تختہ دار پر لٹکا دئیے جانے والے پاکستانیوں کے لئے کچھ نہ کرسکے۔ بنگلہ دیش کی حکومت یہ سب کچھ اس وقت کیا ہے جب پاکستان میں مسلم لیگ کی حکومت ہے جو پاکستان کی خالق جماعت کی سیاسی وراثت کی’’ دعویدار‘‘ بھی ہے بنگلہ دیش کے قیام کے بعد پاکستان بنگلہ دیش اور بھارت کے درمیان 9اپریل 1974ء میں ا یک معاہدہ ہوا تھا جس کے تحت 1971ء کی جنگ کے حوالے سے پاکستان اور بنگلہ دیش میں پیش آنے والے واقعات کے حوالے سے کسی بھی شہری کے خلاف کارروائی نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا اس معاہدے پر بھارت کی طرف سے سورن سنگھ ،پاکستان کی طرف سے عزیز احمداور بنگلہ دیش کی طرف سے ڈاکٹر کمال نے دستخط کئے تھے بنگلہ دیش کی جیلوں میں قیدو بند کی صعوبتیں برداشت کرنے والوں کی آخری امید پاکستان ہے چوہدری صاحب یہ پاکستانی پاکستان سے ٹھنڈی ہوا کے جھونکے کے منتظر ہیں۔

EXIT کی تلاش

خدا کو جان دینی ہے۔ جھوٹ لکھنے سے خوف آتا ہے۔ برملا یہ اعتراف کرنے میں لہٰذا ...