74 ء کے سہ فریقی معاہدے پر اسکی روح کے مطابق عمل کرنیکی ضرورت!

16 مئی 2016

بنگلہ دیش کے وزیر قانون انیس الرحمن نے گزشتہ روز کہا کہ 1974 ء کا معاہدہ اب موثر نہیں رہا پاکستان اس معاہدے کے مطابق بنگلہ دیش میں پھنسے اپنے شہر ی واپس لیجانے کا پابند تھا جو اس نے پورا نہیں کیا جس سے معاہدہ غیر موثر ہوگیا ہے۔
بنگلہ دیشی وزیر قانون کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دونوں ملکوں کے سفارتی تعلقات بنگلہ دیش میں ایک نام نہاد متنازعہ خصوصی ٹربیونل کی طرف سے جماعت اسلامی کے ایک رہنما کو پھانسی دینے کے حوالے سے کشیدگی اور تنائو کا شکار ہیں۔بنگلہ دیش میں پاکستانی محصورین 71 ء کی جنگ کے بعد سے کیمپوں میں کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ اس دوران ایک نئی نسل نے ان کیمپوں میں آنکھ کھولی اور پروان چڑھی ہے، لیکن تمام تر مصائب وآلام کے باوجود ان کے دلوں میں پاکستان سے محبت کا جذبہ سرد نہیں پڑا۔ پاکستان کا اپنے ان شہریوں کو بنگلہ دیش سے واپس نہ لانا واقعی ایک سوالیہ نشان ہے۔ محصور پاکستانیوں کی بنگلہ دیش سے واپسی ہونی چاہئے اور جلد ہونی چاہئے یہ پاکستانی حکمرانوں کی ذمہ داری ہے۔ ماضی میں پنجاب کے وزیراعلیٰ مرحوم غلام حیدر وائیں کی کوششوں سے چند محصور گھرانوں کو واپس لاکر یہاں بسایا گیا تھا۔ اس طرح کی کوشش دوبارہ کی جانی چاہیے۔ تاہم ان محصورین کی واپسی کو بنیاد بناکربنگلہ دیشی وزیر قانون کی طرف سے 74 ء کے سہ فریقی معاہدے کو یکطرفہ طور پر غیر موثر قرار دینے کیلئے دوسرے حقائق کو جھٹلانا اور نظر انداز کرنا بھی قرین انصاف نہیں۔ وزیر موصوف کو یاد رکھنا چاہیے کہ نام نہاد خصوصی جنگی ٹربیونل کے ذریعے 45 سال بعد سیاسی مخالفین کو انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بنانا 74 ء کے سہ فریقی معاہدے ہی نہیں، بنیادی انسانی حقوق کی بھی کھلی اور سنگین خلاف ورزی ہے جس پر پاکستان کا احتجاج بلاجواز نہیں ، آخر بیگناہ انسانوں کو پھانسیاں چڑھانا کہاں کا انصاف ہے۔