بے لاگ احتساب کیلئے پارلیمنٹ اور آئینی ادارے ہی کردار ادا کر سکتے ہیں

16 مئی 2016

پاناما لیکس کا معاملہ قدرت کیطرف سے سامنے آیا، صدر کیطرف سے کرپٹ لوگوں کے کڑے احتساب کا عندیہ
صدر ممنون حسین نے کہا ہے کہ ہر شعبہ میں کرپٹ اور بد عنوان عناصر موجود ہیں۔ جو لوگ بڑے اطمینان سے بیٹھے ہیں، انہیں متنبہ کرتا ہوں کہ وہ ہوشیار ہوجائیں۔ پانامہ لیکس کا معاملہ قدرت کی طرف سے اٹھا ہے۔ کرپشن کے میدان مارنے والے اب بچ نہیں سکیں گے۔ یہ بات انہوں نے کوٹری ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹریز کی جانب سے دیئے گئے ظہرانے کی منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔کرپشن کرنے والوں کے چہرے منحوس ہوجاتے ہیں۔ جلد یا بدیر کرپشن کرنے والے ضرور پکڑ میں آنے والے ہیں۔ کرپٹ لوگوں کو سسٹم سے اکھاڑ پھینکا جائیگا تاکہ پاکستان میں تیزرفتار ترقی کو ممکن بنایا جا سکے۔ 70ء کی دہائی تک قومی ترقی کا سفر اطمینان بخش تھا۔ اسکے بعد بدعنوانی نے ترقی کی رفتار روکدی۔ پاکستان میں قابل اور اہل لوگوں کی کوئی کمی نہیں لیکن کرپشن اور سفارش کلچر نے کارکردگی کو متاثر کردیا۔ بدعنوان لوگ اب اللہ کی پکڑ میں آنیوالے ہیں، بدعنوانی کے خاتمے کے بھرپور امکانات پیدا ہورہے ہیں۔ صدر نے کہا کہ پانامہ لیکس قدرت کی جانب سے آئی جس میں کچھ ابھی کچھ ایک سال کے دوران پکڑے جائیں گے۔ ہر شعبے میں کرپٹ بدعنوان لوگوں کی بھرمار ہے۔ کرپٹ لوگوں کا بائیکاٹ کیا جائے انہیں اٹھا کر باہر پھینک دیا جائے۔ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح اور اقبال کے خوابوں کی تعبیر بن کر ابھرے گا۔ جب 2008ء کے انتخابات ہوئے تو ملک پر 67 بلین ڈالر قرضہ تھا جو 2014ء میں بڑھ کر 148 بلین ڈالر تک جاپہنچا۔ جنہوں نے جیبیں بھریں انکا وقت آنیوالا ہے جب تک کچھ مجرموں کو سزا نہیں ملے گی ملک درست نہیں ہوگا۔ کھربوں روپے تعلیم، صحت اور بجلی کے منصوبوں پر خرچ نہیں ہوئے۔ انہوں نے چین کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ 1978-79ء میں یہاں فی آدمی کو راشن کارڈ کے ذریعے انڈے، تیل اور دیگر کھانے کی اشیاء ملتی تھیں، آج 35 سال بعد یہی چین دنیا کا سب سے بڑا مالدار ملک بن کر سامنے آیا ہے۔
صدر مملکت ممنون حسین نے کوٹری میں اپنے خطاب کے دوران حکومت کے ترقیاتی منصوبوں، پاک چین اقتصادی راہداری اور گوادر پورٹ پر کام کی پیشرفت پر اطمینان کا اظہار کیا مگر میڈیا میں ان کے اس بیان کے حصے کو زیادہ اہمیت دی گئی جس میں انہوں نے پاناما لیکس اور کرپشن کے خاتمے کا ذکر کیا۔ پاناما لیکس میں اپوزیشن کے کئی رہنمائوں اور خود وزیراعظم کے خاندان کے لوگوں کے نام ہیں اور کوئی بھی بالخصوص مسلم لیگ ن کے زعماء اور اکابرین صدر سے حکومت کی طرف انگلی اٹھانے کی توقع نہیں رکھتے تھے اس لئے کہا جا رہا ہے…؎
بدلے بدلے سے سرکار نظر آتے ہیں
پاکستان قدرستی وسائل سے مالا مال ملک ہے۔ 1968ء تک کئی شعبوں میں پاکستان چین کی معاونت کرتا رہا ہے۔ اس کے بعد چین نے تیزی سے ترقی کی اور پاکستان معاشی تنزلی اور انحطاط کا شکار ہوتا چلا گیا۔ بقول صدر مملکت ’’پاکستان میں قابل اور اہل لوگوں کی کمی نہیں ہے مگر کرپشن اور سفارش کلچر نے کارکردگی کو متاثر کیا۔ ہر شعبہ میں بدعنوان لوگوں کی بھرمار ہے‘‘۔ کرپشن کے آگے کبھی تو بند باندھا جانا تھا مگر اس کی راہیں مسدور ہونے کے بجائے ہر نئے دور میں وسعت پذیر ہوتی گئیں۔ آج صورت حال یہ ہے کہ ملک قرضوں کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔ ہر پاکستانی ایک لاکھ سے زائد کا مقروض ہے۔ لوگ غربت کے باعث کہیں انفرادی اور کہیں اجتماعی خودکشیاں کر رہے ہیں۔ بجلی اور گیس کی بدترین لوڈشیڈنگ کے پیچھے بھی کرپشن، بدعنوانی اور بے ایمانی نظر آتی ہے۔ گزشتہ دور حکومت میں ایسے منصوبوں میں اربوں روپے کی ادائیگیاں کر دی گئیں جن کا کوئی وجود ہی نہیں تھا۔ آج بھی توانائی منصوبوں میں شفافیت پر میڈیا اور اپوزیشن کی طرف سے سوال اٹھائے جا رہے ہیں۔ اس کے ساتھ پانامہ لیکس نے کئی لوگوں کو بے نقاب کر دیا۔ ان لوگوں کی کھربوں ڈالرز کی آف شور کمپنیاں سامنے ہیں جو ابتدائی طور پر ٹیکس بچانے کیلئے کھولی گئیں، بعض سیاستدانوں اور بیورو کریٹس نے قومی خزانے کو لوٹ کر بھی آف شور کمپنیاں بنائیں۔ کچھ لوگوں کی جائز اور ناجائز سرمائے سے بیرون ملک خریدی گئی جائیدادوں اور شروع کئے گئے کاروباروں سے بھی پردہ اٹھا ہے۔ سوئس بنکوں میں پاکستانیوں کے دو سو ارب کی موجودگی کے انکشاف پر آج کی حکومت نے یہ رقوم پاکستان لانے کا اعلان کیا مگر اس پر ہنوز عمل نہیں ہوا جبکہ پاکستانیوں کے مزید اثاثے بیرون ممالک موجود ہونے کے انکشافات ہو رہے ہیں جن کی مالیت 2 سو ارب ڈالر سے کہیں زیادہ ہے۔ اندازہ کیجئے پاکستان پر 148 ارب ڈالر کے اندرونی و بیرونی قرضے ہیں ان قرضوں کے مقابلے میں زر مبادلہ کے ذخائر صرف 20 ارب ڈالر ہیں۔ قرضوں کی ادائیگی کے لئے بھی حکومت کو قرض لینا پڑتا ہے۔ پیپلز پارٹی کی حکومت کے اقتدار میں آنے سے قبل تک حکومتوں نے جو قرض حاصل کئے تھے ان کی مجموعی مقدار سے زیادہ پانچ سال میں قرض حاصل کیا اور اس کی جاں نشیں مسلم لیگ ن کی حکومت نے محض ڈیڑھ دو سال کے دوران ہی قرضوں کے حصول میں پیپلز پارٹی کے دور کا ریکارڈ توڑ دیا۔ یہ قرض حکومت میں آنے والے لوگ اس ملک میں حاصل کر رہے ہیں جس ملک سے سیاستدان، بیورو کریٹ، تاجر، سرمایہ کار اور دیگر حلقوں کے لوگ کئی سو کھرب ڈالر کا سرمایہ بیرون ملک لے گئے جس میں کالے دھن کی تعداد اور مقدار زیادہ ہے۔ اگر یہ دولت پاکستان میں واپس آ جائے تو نہ صرف سارے قرضے ادا ہو جائیں گے بلکہ ملک خوش حال اور غربت و افلاس کا جڑ سے خاتمہ ہو جائے گا۔
بیرون ملک پاکستانیوں کے پڑے سفید اور کالے دھن کی واپسی کیلئے ایک بہترین لائحہ عمل ترتیب دینے کی ضرورت ہے۔ عموماً سوال کیا جاتا ہے کہ جب کرپشن میں حکمرانوں، سیاستدانوں، ججوں، جرنیلوں، بیورو کریٹس اور دیگر با اثر لوگوں کا نام آتا ہے تو پھر احتساب کون کریگا؟ اس سوال کا جواب مشکل ہے نہ احتساب کیلئے حکمت عملی یا لائحہ عمل ترتیب و تشکیل دینے کے لئے بڑی ذہانت اور تگ و دو کی ضرورت ہے۔ پارلیمنٹ میں بھی کرپٹ لوگ موجود ہو سکتے ہیں مگر ہر پارلیمنٹرین بدعنوان نہیں ہے۔ جبکہ پارلیمنٹرین کی اکثریت کی حب الوطنی شک و شبہ سے بالاتر ہے۔ پارٹی وابستگی اور شخصیات سے وفاداری کے بجائے ملکی مفاد میں سوچیں گے تو احتساب کیلئے پارلیمنٹ کے اندر اتحاد بن سکتا ہے۔ جس کے راستے اب ہموار ہوتے نظر آ رہے ہیں۔
ممنون حسین مسلم لیگ ن کے منتخب کردہ صدر ہیں۔ آخر وہ بھی کرپشن کو کرپشن کہتے اور اس کے سدباب کی بات کر رہے ہیں۔ نیب کے چیئرمین کا تقرر اسی حکومت نے اپوزیشن کے ساتھ مل کر کیا۔ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی دونوں جماعتوں کی قیادتوں پر کرپشن کے الزامات ہی نہیں کرپشن کے کیسز اور ریفرنس بھی ہیں۔ قمر زمان چودھری کو نیب کا چیئرمین بنانے کے پیچھے بھی بادی النظر میں بڑی پارٹیوں کی کرپشن کا تحفظ تھا مگر اب چیئرمین نیب بھی احتساب کی اور بلاامتیاز احتساب کی بات کرتے ہیں۔ چیف جسٹس پاکستان مسٹر جسٹس انور ظہیر جمالی بھی کرپشن کو ناسور قرار دیکر حکومت پر اس کے خاتمے کیلئے زور دیتے رہتے ہیں۔ آرمی چیف جنرل راحیل شریف ملک میں امن کے قیام اور دہشتگردی کے خاتمے کے لئے ہر کسی کے کڑے احتساب کا کہہ رہے ہیں۔ انہوں نے اپنے ادارے سے کرپٹ لوگوں کے احتساب کا سلسلہ شروع کر کے پورے ملک میں احتساب کا پیغام دیا ہے۔ آرمی چیف کے بلا امتیاز احتساب کے بیان کو جمہوری حکومت کے دوران اپنی حیثیت سے تجاوز قرار دیا جا سکتا ہے مگر چیف جسٹس، چیئرمین نیب اور اب صدر مملکت کے کرپٹ لوگوں کے احتساب کے بیانات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ کرپٹ لوگوں کے احتساب کے لئے قوم کی امنگوں کے عین مطابق آئینی ادارے بھی یکسو ہیں۔
صدر مملکت کی طرف سے یہ کہنا بھی معنی خیز ہے کہ ملکی ترقی کے لئے قوم فوج کا ساتھ دے۔ متعدد اخبارات میں یہی رپورٹ ہوا ہے۔ جب صدر کہتے ہیں کہ ہر شعبے میں بدعنوان لوگوں کی بھرمار ہے تو کسی اور کی گواہی کی ضرورت نہیں رہتی، شواہد بھی یہی ہیں۔ صدر نے مشورہ دیا ہے کہ کرپٹ لوگوں کا بائیکاٹ کیا جائے۔ انہیں اٹھا کر باہر پھینک دیا جائے۔ وہ کہتے ہیں کہ کرپٹ لوگوں کے چہرے منحوس ہو جاتے ہیں۔ صدر کی طرف سے ایسے ریمارکس ایک اخلاقی درس ہے۔ کرپٹ لوگ اخلاقیات کو سمجھتے ہیں نہ ہی عوام کی طرف سے کرپٹ لوگوں کے بائیکاٹ پر کسی غیر معمولی ردعمل کی توقع ہے۔ خود صدر کے اردگرد بڑے عہدوں پر براجمان کتنے کرپٹ لوگ موجود ہیں۔ ان میں سے انہوں نے خود کتنے لوگوں کا بائیکاٹ کیا ہے۔ ضرورت دو ٹوک، بے لاگ اور بلاامتیاز احتساب کی ہے۔ جس پر اکثر پارلیمنٹرین اور آئینی ادارے متفق ہیں۔ صدر نے وثوق سے کہا ہے کہ کرپشن میں میدان مارنے والے اب بچ نہیں سکیں گے تو قوم کیلئے یہ امید کی کرن ہے۔
آج وزیر اعظم نواز شریف قومی اسمبلی میں آ رہے ہیں۔ سپریم کورٹ کی طرف سے جوڈیشل کمشن کے قیام کیلئے بھجوائے گئے ٹی او آرز پر عملدرآمد سے انکار کر دیا گیا ہے۔ ان ٹی او آرز سے حکومت کی نیت کا بخوبی اندازہ ہو جاتا ہے۔ پانامہ لیکس پر وزیراعظم کے احتساب کرنے کا مطالبہ کرنے والے بھی مستوجب احتساب پائے گئے ہیں۔ وزیراعظم اپوزیشن کے سات سوالوں کے جواب دینے سے گریز کے بجائے ثبوتوں کے ساتھ جواب دیں اور اپنے صدر کی طرح کرپٹ عناصر کے احتساب کے لئے جس حد تک بھی جانا ممکن ہے جانے سے احتراز نہ کریں۔ کسی کیلئے بھی اپنے چند ارب ڈالر کے کالے دھن کو چھپانے کیلئے دوسروں کے کھربوں ڈالر کو تحفظ دینا ملک و قوم کے ساتھ محبت نہیں دشمنی ہے۔ ملک میں ایمانداری اور دیانتداری سکہ رائج الوقت ہو جائے تو پاکستان قائد اعظم اور علامہ اقبال کے خوابوں کی تعبیر بن کے ابھرے گا۔ پانامہ لیکس کا معاملہ اگر کرپشن کے خاتمے اور کرپٹ لوگوں کے احتساب کیلئے قدرت کی طرف سے سامنے آیا ہے تو آئینی ادارے اور پارلیمنٹ اسے منطقی انجام تک پہنچانے کی بلاتاخیر کوشش کریں۔

EXIT کی تلاش

خدا کو جان دینی ہے۔ جھوٹ لکھنے سے خوف آتا ہے۔ برملا یہ اعتراف کرنے میں لہٰذا ...