پند ِ سود مند

16 مئی 2016

علم حدیث کے مشہور امام حضرت محی الدین ابُو زکریا یحییٰ بن شرف النووی تحریر فرماتے ہیں، اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: ’’میں نے جنوں اور انسانوں کو نہیں پیدا کیا مگر اسلئے کہ وہ میری عبادت کریں، میں ان سے رزق نہیں مانگتا اور نہ یہ چاہتا ہوں کہ وہ مجھے کھلائیں‘‘ (۱۵/۵۶۔۵۷)۔ اس آیت سے واضح ہوتا ہے کہ جن اور انسان عبادت کیلئے پیدا کئے گئے ہیں۔ ان کیلئے ضروری ہے کہ وہ اپنے مقصدِ تخلیق کیطرف توجہ دیں اور دنیاوی زیب و زینت سے کنارہ کشی اختیار کریں، کیونکہ یہ دارِفانی ہے، ہمیشہ رہنے کی جگہ نہیں، راہ ہے منزل نہیں۔ یہ مٹ جانیکی چیز ہے ہمیشگی کا وطن نہیں۔ اسیلئے اہلِ دنیا میں سے بیدار مغز وہی لوگ ہیں جو عبادت میں مشغول رہتے ہیں اور وہی سب سے زیادہ زیرک ہیں۔ جو دنیوی زیب و زینت سے کنارہ کش رہتے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں: ’’دنیا کی مثال تو ایسی ہے جیسے کہ وہ پانی کہ ہم نے آسمان سے اتارا تو اسکے سبب زمین سے اگنے والی چیزیں سب گھنی ہو کر نکلیں جو کچھ آدمی اور چوپائے کھاتے ہیں۔ یہاں تک کہ جب زمین نے سنگار لے لیا اور خوب آراستہ ہو گئی، ہمارا حکم اس پر آیا رات میں یا دن میں تو ہم نے اسے کر دیا کاٹی ہوئی گویا کل تھی ہی نہیں۔ ہم یونہی آیتیں مفصل بیان کرتے ہیں غور کرنے والوں کیلئے‘‘۔ (یونس/۲۴) اس مفہوم کی آیت بے شمار ہیں۔ کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے:۔ اللہ تعالیٰ کے بندوں میں ایسے ذی ہوش بھی ہیں جنہوں نے دنیا کو چھوڑ دیا اور فتنوں سے ڈرے۔ انھوں نے دنیا کے متعلق غور و فکر کیا اور جب انھیں معلوم ہو گیا کہ دنیا قیام کی جگہ نہیں ہے تو انھوں نے اس دنیا کو موجِ دریا تصور کیا اور اعمالِ صالحہ کی کشتی پر سوار ہو کر اس دریا کو عبور کرنیکا مقصد کر لیا۔ جب دنیا کی حالت یہ ہے جو بیان کی گئی، اور ہماری حالت اور ہمارا سبب تخلیق وہ ہے جسکا ابھی ذکر ہوا تو پھر انسان کو چاہیے کہ اس رستہ پر چلے جو نیک لوگوں کا راستہ ہے۔ اوراس مسلک کو اپنائے جو ذی ہوش اور عقلمند لوگوں کا مسلک ہے اور جس چیز کیطرف میں نے اشارہ کیا ہے اس کیلئے تیاری کرے۔ اور جس چیز سے میں نے اسے متنبہ کیا ہے اسکا اہتمام کرے۔ اس سلسلے میں صحیح مسلک اور راہ ہدایت یہ ہے کہ انسان اس رستے پر چلے جو حضور اکرم محبوب خداﷺ سے ثابت ہے جو اولین و آخرین کے سردار ہیں اور تمام اگلوں اور پچھلوں سے زیادہ معزز ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی رحمتیں اور سلامتی نازل ہو آپﷺ پر اور تمام انبیاء کرام پر اور حضور اکرم رحمت عالمﷺ سے یہ حدیث صحیح مروی ہے کہ آپﷺ نے فرمایا: ’’جب تک اللہ تعالیٰ کا کوئی بندہ اپنے کسی بھائی کی مدد کرتا رہتا ہے اللہ تعالیٰ اسکا مدد گار ہوتا ہے‘‘۔ (ریاض الصالحین)

EXIT کی تلاش

خدا کو جان دینی ہے۔ جھوٹ لکھنے سے خوف آتا ہے۔ برملا یہ اعتراف کرنے میں لہٰذا ...