کلین چٹ ، کاغذی نائو اور… !

16 مئی 2016

تیرہ مئی کو بھارتی تحقیقی ادارے ’’NIA‘‘ نے مالیگائوں بم دھماکے کے ملزموں کے خلاف عدالت میں چارج شیٹ داخل کی۔ اس کی خاص بات یہ ہے کہ خاتون ہندو دہشتگرد ’’سادھوی پرگیہ ٹھاکر‘‘ کو بھی اس گھنائونے جرم سے بے گناہ قرار دیتے ہوئے کلین چٹ دے دی گئی۔ اس سے پہلے انڈین آرمی کے حاضر سروس لیفٹیننٹ کرنل ’’پروہت‘‘ کو بھی معصوم قرار دیا جا چکا ہے۔ یاد رہے کہ مالیگائوں بم دھماکہ ستمبر 2008ء میں ہوا تھا جس کی تفتیش مہا راشٹر کے اینٹی ٹیرا رسٹ سکواڈ کے سربراہ ’’ہیمنت کرکرے‘‘ کی قیادت میں کی گئی جس میں ثابت ہوا کہ سمجھوتہ ایکسپریس، مالیگائوں بم دھماکہ، مکہ مسجد اور اجمیر بم دھماکوں میں ’’کرنل پروہت‘‘، ’’میجر اپادھیا‘‘، ’’سادھوی پرگیہ ٹھاکر‘‘ اور دیگر کئی ہندو دہشتگرد شامل تھے۔ اس ضمن میں سوامی آسیمانند اور سبھی ملزموں نے عدالت اور پولیس میں اقبالِ جرم بھی کر لیا تھا مگر مودی سرکار کے برسرِاقتدار آنے کے بعد زعفرانی دہشتگردوں کے اس نیٹ ورک کو یکے بعد دیگرے بے گناہ ثابت کرنے کا سلسلہ شروع ہو گیا اور NIA نے چند روز قبل جو چارج شیٹ داخل کی ہے اس میں تو الٹا ’’ہیمنت کرکرے‘‘ پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ اس نے غلط طور پر دہشتگردی کے مقدمات میں ہندو دہشتگردوں کو ملوث کیا۔ یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ چھبیس نومبر2008 کو ممبئی میں ہونے والی دہشتگردی کے واقعات میں ’’ہیمنت کرکرے‘‘ اپنے دیگر ساتھیوں سمیت مارے گئے تھے اور تبھی کانگرس کے جنرل سیکرٹری اور مدھیہ پردیش کے سابق وزیراعلیٰ ’’دگ وجے سنگھ‘‘ سمیت بہت سی بھارتی شخصیات نے ہیمنت کرکرے کے قتل میں ہندو دہشتگردوں اور سنگھ پریوار کو موردِ الزام ٹھہرایا تھا۔ NIA کی تازہ رپورٹ نے تو گویا ممبئی میں ہونے والے دہشتگردی کے واقعات کے ذمہ داران کے بارے میں بھی بہت سے سوالات کھڑے کر دیئے ہیں کیونکہ اکثر مبصرین کی رائے ہے کہ دہلی سرکار اپنے حالیہ طرز عمل سے بھارت کے اندر ہی نہیں بلکہ عالمی دہشتگردی کو بھی فروغ دینے کی موجب بن رہی ہے جس کے نتیجے میں آنے والے دنوں میں علاقائی سطح پر دہشتگردی کی نئی لہر جنم لے سکتی ہے۔ بعض تجزیہ کاروں کی رائے تو یہ ہے کہ اس صورتحال کے نتیجے میں ہندوستان کا ایٹمی پروگرام مزید غیر محفوظ ہو گیا ہے کیونکہ یہ کوئی راز کی بات نہیں کہ بھارت کی ایٹمی اور میزائل ٹیکنالوجی کے تمام بڑے مراکز ہندوستان کے ان علاقوں میں واقع ہیں جہاں پہلے سے ہی نکسلائٹ موومنٹ اپنے پورے عروج پر ہے اور سابق بھارتی وزیراعظم منموہن سنگھ‘‘ ایک سے زائد مرتبہ اس امر کا اظہار کر چکے ہیں کہ بھارت کی داخلی سلامتی کے لئے سب سے بڑا خطرہ نکسلائٹ دہشتگرد ہیں۔ آئے روز چندی پور، شری ہری کوٹ وغیرہ سے کوئی نہ کوئی نیا میزائل تجربہ ہوتا ہے اور گذشتہ کچھ ماہ کے دوران ہی نکسل دہشتگرد ’’مدھنا پور‘‘ اور ’’دانتے واڑا‘‘ میں پورے کے پورے فوجی کیمپ تباہ کر چکے ہیں۔ ایسے میں امریکہ اور اس کے چند اتحادیوں کی جانب سے ہندوستان کو نیوکلیئر سپلائر گروپ میں شامل کیے جانے کے موقف کی وکالت بھی اپنے اندر بہت سے سوالات اور تضادات کو جنم دیتی ہے، جس جانب عالمی برادری کے اعتدال پسند حلقوں کے ساتھ خود بھارت کے انسان دوست دانشوروں کو بھی توجہ دینی ہو گی۔ مقبوضہ کشمیر میں آزادی کی تحریک ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے اور اب وہاں پاکستانی جھنڈے لہرانا معمول کی بات ہی نہیں بن چکی بلکہ BBC ہندی نیوز ڈاٹ کام نے چودہ مئی کو انکشاف کیا کہ مقبوضہ کشمیر میں کشمیری مجاہدین کے نام پر باقاعدہ دو ماہ تک کرکٹ ٹورنامنٹ منعقد کیا گیا جس میں ٹیموں کے نام بھی مجاہدین کمانڈروں کے ناموں سے منسوب تھے ۔ یہ ٹورنامنٹ جنوبی کشمیر کے ضلع ’’پلواما‘‘ میں ہوا جس میں ٹیموں کے نام جہادی کمانڈروں مثلاً ’’خالد وانی‘‘، ’’برہان لائنز‘‘ اور ’’عابد قلندرز‘‘ وغیرہ کے ناموں پر رکھے جاتے ہیں جس پر بھارت نواز حلقوں نے سخت تشویش ظاہر کی ہے۔ دوسری جانب اخباری اطلاعات کے مطابق ’’نریندر مودی‘‘ اکیس مئی سے ایران کا دورہ کر رہے ہیں۔ اس حوالے سے غیر جانبدار مبصرین کی رائے ہے کہ بھارت کا ٹریک ریکارڈ دیکھیں تو اس نے سفارتی محاذ پر اپنی شاطرانہ چالوں کو ہمیشہ اس ڈھنگ سے چلا ہے کہ پڑوسی ممالک کے ساتھ ساتھ عالمی طاقتوں کو بھی اپنے حق میں استعمال کیا ہے اور یوں دہلی کے حکمران اس امر پر بجا طور پر فخر بھی کرتے ہیں کہ وہ ’’چانکیہ‘‘ کے جانشین ہونے کی حیثیت سے اپنے پتے بڑی مہارت کے ساتھ کھیلنا جانتے ہیں۔ ریاکاری پر مبنی اپنے اسی روایتی کردار پر عمل پیرا رہتے ہوئے وہ ان دنوں ایران کو اپنے جال میں پھنسانے کے حسین خواب دیکھ رہے ہیں۔ بعض حلقوں کی رائے ہے کہ ایران ایک ایسی ریاست ہے جو ایک بھر پور سیاسی اور سفارتی وراثت کی حامل ہے اور غالب امکان یہ ہے کہ وہ دہلی کے فریب کو اس کے صحیح پس منظر میں سمجھتے ہوئے اس کے پتے واپس اسی پر الٹ دینے کی صلاحیت سے مالامال ہے کیونکہ اکثر ایرانی دانشوروں کی رائے ہے کہ ایرانی قوم اور حکومت نے نہ تو ستائیس نومبر 2009 کو جمعے کا وہ دن فراموش کیا ہے جب بھارت نے IAEA میں ایران کے خلاف وووٹ ڈالا تھا ۔ اس کے علاوہ بھی 2002 میں گجرات میں ہونے والی مسلم نسل کشی کے دوران بھارتی حکومت خصوصاً مودی کا جو کردار رہا تھا، اسے ایرانی پالیسی ساز حلقوں نے تاحال فراموش نہیں کیا ہو گا اور شاید انھیں احساس ہو کہ مودی کی سر پرستی میں ہندو جنونیوں نے بھارتی لوک سبھا کے کانگرسی رکن ’’احسان جعفری‘‘ کو ان کے بچوں سمیت کس طرح زندہ جلایا تھا اور بد قسمت احسان جعفری شہادت سے پہلے اس وقت کے گجرات کے وزیراعلیٰ نریندر مودی اور اور اعلیٰ پولیس افسروں کو اپنی مدد کے لئے بار بار فون کرتے رہے مگر مودی کے پر وردہ پولیس افسروں نے آخری سانسیں لیتے احسان جعفری کی فریاد کو ہنسی میں اڑاتے ہوئے انھیں مشورہ دیا تھا کہ وہ اپنی مدد کے لئے یا تو اللہ سے مدد مانگیں یا پھر پاکستان اور ایران کی حکومتوں کو مدد کے لئے پکاریں۔ ان کے قاتلوں کی رہائی کے وقت احسان جعفری کی بیوہ بزرگ خاتون ’’ذکیہ جعفری‘‘ نے آسمان کی جانب ہاتھ اٹھا کر جو رقت آمیز الفاظ ادا کئے تھے وہ تاریخ کا حصہ ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق مجوزہ طور پر مودی اپنے دورہ ایران کے دوران روحانی پیشوا محترم ’’آیت اللہ خامینائی‘‘ سے بھی ملاقات کا پروگرام رکھتے ہیں۔ اکثر حلقوں کی رائے ہے کہ مودی سے ملاقات کے وقت ایران کے یہ باشعور روحانی اور سیاسی شخصیات اسلام اور مسلمانوں کے حوالے سے مودی اور ان کے حاشیہ برداروں کی جانب سے کی گئی ان حاشیہ آرائیوں کو کیا فراموش کر چکی ہوں گی؟ یہ اپنے آپ میں ایک سوالیہ نشان ہے جس کا جواب آنے والا وقت ہی دے گا۔ بہرکیف آنے والے دن ہی اس امر کو طے کریں گے کہ دہلی اور تہران کی دوستی کی یہ کاغذی نائو کس طرح ’’چاہ بہار‘‘ کے ساحل مراد تک پہنچتی ہے یا ریت پر لکھے جانے والے اس مصنوعی ہنی مون کے الفاظ کو باد خزاں کا کوئی ایک ہی جھونکا حرف غلط کی طرح مٹا کر رکھ دیتا ہے۔