پاناما لیکس، حکومت کا خوف یا بے تدبیری

16 مئی 2016

موجودہ ملکی منظر نامہ پر انتشار، خلفشار اور مار دھاڑ کے سائے پھیلے صاف دیکھے جا سکتے ہیں اس صورتحال کا ذمہ دار کون ہے، حکومت یا اپوزیشن؟ اس سوال کا جواب ان دونوں کے طرز عمل اور انداز سیاست کے آئینوں میں دیکھا جا سکتا ہے جہاں تک حکومت کا تعلق ہے ایک سیدھے سادھے قانونی معاملے کو سیاسی بنا کر خود کو الجھائوکا شکار کر لیا گیا ہے اور بعض اقدامات کے حوالے سے اس تاثر کو ازخود گہرا کر دیا گیا کہ حکومت یا وزیراعظم نواز شریف اس ملک میں اگر کسی سے خوفزدہ ہیں تو وہ صرف عمران خان ہے، اس تاثر میں صداقت کا عنصر اس لئے ضرور ہے کہ حکومتی حلقوں کی جانب سے سب سے زیادہ اور بڑا نشانہ عمران خان ہے لیکن یہ پورا سچ نہیں پورا سچ یہ ہے کہ نواز شریف رتی برابر بھی عمران خان سے خوفزدہ نہیں بلکہ دراصل وہ اس قوت سے ضرور خوفزدہ ہو سکتے ہیں جس کے عمران خان کی پشت پر ہونے کے تاثر سے پیدا شدہ احساس ہے اور یہ احساس دلانے والا خود تو ایک طرف ہو کر بیٹھ گیا ہے مگر اس خوف یا احساس کی پرچھائیاں پیچھے چھوڑ گیا ہے نیم تاریکی ہو تو پرچھائیاں ڈرائونے ہیولے بن جایا کرتی ہیں، نہ جانے کس عقل مند نے وزیراعظم کو ایک نہیں دو مرتبہ قوم سے خطاب کا مشورہ دیا مزید ’’دانشمندانہ‘‘ قدم یہ اٹھایا گیا کہ ریٹائر جج کی سربراہی میں تحقیقاتی کمیشن کا اعلان کر دیا گیا پھر اس کی ٹائمنگ نے بھی منفی تاثر پیدا کیا کیونکہ یہ اعلان عمران خان کے رائے ونڈ دھرنے کے اعلان کے فوراً بعد کیا گیا جس سے اس تاثر اور پراپیگنڈہ کو تقویت ملی کہ یہ عمران سے ڈر کر کیا گیا ہے اپوزیشن کی جانب سے اس کی مخالفت یقینی بات تھی پہلے تو حکومتی میڈیا ٹیم نے اس مخالفت کے خلاف مزاحمتی رویہ کا مظاہرہ کیا جبکہ اس کی بجائے مذاکرات کی پیش کش کا راستہ اختیارکرنے کی ضرورت تھی، لیکن شدید مزاحمتی رویہ کے فوراً بعد اپوزیشن کے مطالبے پر سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی سربراہی میں تحقیقاتی کمیشن بنانے کے لئے عدالت عظمیٰ کو خط لکھ دیا گیا عوامی سطح پر اسے حکومتی مزاحمت کی شکست اور اپوزیشن کے مطالبہ کی فتح سمجھا گیا اس مجوزہ کمیشن کے لئے جو ٹرمز آف ریفرنسز بنائے گئے اسے اپوزیشن نے تسلیم نہیں کیا اور اس کی تشکیل کی بنیاد ایکٹ 1956ء کو سپریم کورٹ نے قبول نہیں کیا یہ بات بھی حکومت کے خلاف اور اپوزیشن کے حق میں گئی۔ جس سے اپوزیشن کا حوصلہ بلند ہوا، وزیراعظم نواز شریف کے لئے سیدھا راستہ یہ تھا کہ وہ چند سطری بیان جاری کرتے ’’میرے بیٹوں کا نام آف شور کمپنیوں میں آیا ہے جو یہ سمجھتا ہے یہ غیر قانونی عمل ہے اس کے لئے عدالت کے دروازے کھلے ہیں‘‘ اور پھر خاموشی کی چادر تان لیتے اس پر اپوزیشن کے شور شرابے میں عوام کی جانب سے سوال اٹھایا جاتا کہ بلاجواز شور شرابے کی بجائے یہ عدالت میں کیوں نہیں جاتے اس طرح آف شور کمپنیوں کیلئے پیسہ کہاں سے آیا اور کیسے باہر گیا قسم کے سوالات کے جواب عدالت جانے والوں کی ذمہ داری ہوتی مگر وزیراعظم کے اقدامات نے ذہنوں میں ’’کچھ تو دال میں کالا ہے‘‘ قسم کے خیالات کو جنم دیا دوسرے خود تحقیقاتی کمیشن کے اعلان اور خود ہی اس کیلئے ٹی او آر سے بجائے نیک نیتی کا تاثر بنتا الٹا وزیراعظم بچنے کی کوشش کر رہے ہیں کا تاثر پیدا ہوا اور بالآخر اب اپوزیشن کے ساتھ بیٹھ کر ٹی او آر بنانے پڑیں گے، تو وزیراعظم اور میڈیا ماہرین کو ’’کیا کھویا کیا پایا‘‘ کا جائزہ ضرور لینا چاہیے۔ یہ قانون قدرت ہے انسان کو اپنے اعمال کے منفی، مثبت نتائج کو بھگتنا پڑتا ہے۔ ان سطور میں پہلے بھی نشاندہی کی گئی تھی کہ (ن) لیگ سمیت ہر جماعت میں سیاسی لیڈر تو بہت بڑے بڑے ہیں مگر پولیٹکل سائنٹسٹ کوئی نہیں ہے۔ جماعت اسلامی واحد جماعت تھی جس میں مجلس شوریٰ یا مجلس عاملہ اجتماعی ذہانت کے ساتھ معاملات کے حوالے سے حکمت عملی طے کیا کرتی تھی مگر بعض حوالوں سے لگتا ہے کہ جماعت اسلامی کی مجلس شوریٰ اور مجلس عاملہ تو ہے مگر شاید اس میں پہلی جیسی گرفت نہیں رہی۔ مجھے سو فیصد درست ہونے پر اصرار نہیں ہے مگر میرا گمان ہے جماعت اسلامی پر لیاقت بلوچ چھائے ہوئے ہیں پیرانہ سالی میں سرتاج عزیز کو اور طارق فاطمی کو بطور سفارت کار جن کے کریڈٹ میں کوئی سفارتی کارنامہ نہیں ہے خارجہ امور چلانے کا مشورہ کس نے دیا اور اگر وزیراعظم نے خود یہ فیصلہ کیا تو پھر مردم شناسی اور دور اندیشی بہرحال سوالیہ نشان ہے اس وقت ملک میں پانامہ لیکس کے حوالے سے جو فضا بنی ہوئی ہے ہر شخص متاثر ہے اور ہر زبان پر سوال ہے کہ کیا ہوگا؟ وزیراعظم پارلیمنٹ میں اپنا موقف بیان کریں گے اس پر اندازوں اور قیاس آرائیوں سے بہتر ہے انتظار کر لیا جائے ان کے بیان کی روشنی میں آئندہ کے منظر نامے کا زیادہ بہتر تجزیہ کیا جا سکے گا۔ پانامہ ٹیکس بچانے کی جنت اور پانامہ نہر امریکی جہازوں کے لئے سہولت کار ہے مگر پانامہ لیکس نے پاکستان میں ذہنی انتشار اور جذباتی خلفشار کی لہریں پیدا کر دی ہیں بعض سنگین حقیقتوں، ان کے منطقی نتائج اور حقیقی پس منظر کو جاننے کی کسی کو فرصت نہیں ہر طرف ایک دوسرے کو مارو، پکڑو، فنا کر دو کی جنونی کیفیت ہے، اگر ایسا نہ ہوتا تو کل بھوشن کے پکڑے جانے سے بھارت عالمی سطح پر جس شدید دبائو کا شکار ہوگیا تھا اس سے باہر نہ آتا۔ عزیر بلوچ کی سرگرمیوں کے ڈانڈلے کہاں کہاں تک پھیلے تھے، ڈاکٹر عاصم کے انکشافات سے کیا گل کھلنے تھے، بیرونی سرمایہ کاروں کے اعتماد میں رخنہ نہ پڑنے سے ملکی معیشت کے لئے کیسے روشن امکانات کے دروازے کھل سکتے ہیں۔ کیا یہ سوچنے کی کسی کو فرصت ہے جوایٹمی پروگرام پاکستان کی حفاظت کی ضمانت ہے آج خود اس کی حفاظت ایک مسئلہ ہے اسی طرح جس اقتصادی راہداری سے پاکستان اقتصادی معاشی ترقی کی رفعتوں کو چھو سکتا ہے اس کی تکمیل سے زیادہ اس میں اٹکائے جانے والے روڑے ہٹانا بڑا مسئلہ بن گیا ہے ایسا کیوں ہے اور ایسا کیسے ہوا۔ اگر آج کی انتشار آمیز جذباتی فضا سے نکل کر پاکستانی قوم اس کا ادراک کرلے تو اس ’’کیوں‘‘ کا جواب الجبرے کا مشکل سوال نہیں ہے لیکن اصل بات ’’اگر‘‘ کی ہے اور یہ سمجھنے کے لئے کسی بقراط کے دماغ کی ضرورت نہیں کہ جس بات کا آغاز ’’اگر‘‘ سے ہو یقین کی روشنی مدھم اور بے یقینی کے جھاڑ جھنکار توانا ہو جایا کرتے ہیں۔