جھڑپ میں مجاہد شہید 2بھارتی فوجی زبردست مظاہرے لاٹھی چارج بیسیوں زخمی وگرفتار

16 مئی 2016

سری نگر ( اے این این ) مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی فوج اور مجاہدین کے درمیان جھڑپ میں ایک مجاہد شہید ٗمجاہدین کی فائرنگ سے دو اہلکار زخمی ٗ بھارتی فوج کا مجاہدین کی پناہ گاہ سے اسلحہ و گولہ بارود برآمد کرنے کا دعویٰ ٗجھڑپ کے بعد علاقے میں تشدد بھڑک اٹھا ٗ مشتعل مظاہرین کاّ مجاہدین کے محاصرے پر مامور اہلکاروں پر پتھرائو ٗفورسز کی جانب سے آنسو گیس کا استعمال اور وحشیانہ لاٹھی چارج ٗ بیسیوں مظاہرین زخمی ٗ متعدد کو حراست میں لے لیا گیا ٗ ادھرلولاب کے درد پورہ جنگلوں میں بھارتی فوج اور مجاہدین کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ٗ کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ٗمجاہدین بچ نکلنے میں کامیاب ٗ بھارتی فوج نے سرچ آپریشن شروع کردیا ۔تفصیلات کے مطابق گڈورہ پلوامہ میں مجاہدین کی موجود گی کی مصدقہ اطلاع ملنے پر فوج نے علاقے کا محاصرہ شروع کیا۔ جونہی فورسز اہلکار تلاشی کاروائی شرع کرنے لگے تو ایک گلی میں موجود کچھ مجاہدین نے ان پر پہلے ایک گرنیڈ داغا اور بعد میںفائرنگ کی فورسز نے بھی جوابی فائرنگ کی ۔تقریبا ایک گھنٹے تک جار ی رہنے والی جھڑپ میں ایک مجاہد شہید جبکہ دو اہلکار زخمی ہوگئے ۔ چیئرمین حریت کانفرنس میر واعظ عمر فاروق نے مذاکراتی عمل کی پیشکش کا خیر مقدم کرتے ہوئے بھارت کی سیاسی قیادت پر زور دیا کہ وہ ہٹ دھرمی سے عبارت رویے اختیار کرنے کے بجائے ان کوششوں کا مثبت جواب دے۔ انہوں نے کہا کہ اس پورے خطے کے امن و استحکام کے مفاد میں کشمیر کے مسئلے کا حل تلاش کئے بغیر کوئی چارہ نہیں اور یہ بھارت اور کستان کی سیاسی قیادت کی ذمہ داری ہے کہ وہ کشمیر کے سوا کروڑ عوام کو مصائب اور مشکلات سے نکالنے کیلئے کشمیری حریت پسند قیادت کو اعتماد میں لے کر اس مسئلے کا ایک آبرومندانہ اور دیرپا حل تلاش کرنے کیلئے نتیجہ خیز کوششوں کا آغاز کرے۔ چیئرمین حریت کانفرنس اور بزرگ کشمیری رہنما سید علی گیلانی نے اقوامِ متحدہ کے امن کمشن کے سربراہ مچاریا کمائو کے کشمیر سے متعلق دیئے گئے بیان کو غیر واضح اور مبہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان، بھارت مذاکرات میں سیاسی فوقیت اور مقامی صورتحال کے بجائے کشمیر کے لوگوں کی خواہشات اور قربانیوں کا احترام کرنا زیادہ ضروری ہے اور ان کی رائے کو نظرانداز کرنا انصاف اور عدل کا خون کرنے کے مترادف اقدام قرار پائے گا۔ فریڈم پارٹی کے سربراہ شبیر احمد شاہ نے اقوام متحدہ امن کمشن کے سربراہ مچاریہ کاموکے تین نکاتی نقطہ نظر کوغیر حقیقت پسندانہ قرار دیتے ہوئے کہ تنازعہ کشمیر دوممالک کے درمیان کوئی سیاسی یا سرحدی نہیں بلکہ ایک کروڑ 25لاکھ لوگوں کے بنیادی حقوق اور آزادی سے جڑا مسئلہ ہے ۔