افغانستان :اختر منصورملا رسول گروپوں میں جھڑپ حملے طالبان سمیت 39 شدت پسند 52 اہلکار ہلاک

16 مئی 2016

کابل (اے پی پی + آئی این پی) افغانستان کے جنوبی صوبے ہلمند میں پولیس چیک پوسٹ اور تربیتی کیمپ پر طالبان کے حملوں اور جھڑپوں کے دوران 52سیکورٹی اہلکار ہلاک ہوگئے جبکہ امریکی ڈرون حملے، افغان فضائیہ کی کاروائی اور طالبان گروپوں کے درمیان جھڑپوں کے نتیجے میں داعش کے 8جنگجوئوں سمیت 39شدت پسند ہلاک اور 19 زخمی ہوگئے۔ صوبہ ہلمند میں پولیس چیک پوسٹ اور تربیتی کیمپ پر طالبان کے حملوں میں 30 سیکورٹی اہلکار ہلاک ہوگئے۔ صوبائی حکا م کا کہنا ہے24 گھنٹوں کے دوران جھڑپوں میں 22 اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی بھی ہوئے۔ افغان سکیورٹی حکام نے ہلمند میں طالبان حملوں اور جھڑپوں کے واقعات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ موسی قلعہ ڈسٹرکٹ میں حملہ آوروں نے پولیس چیک پوسٹ پر اندھا دھند فائرنگ شروع کی جس کے نتیجے میں27 پولیس اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے جب کہ حملہ آوروں نے پولیس کی 3 گاڑیاں بھی جلا دیں، اس کے علاوہ حملہ آور اسلحہ سے بھری 2 گاڑیاں اور متعدد پولیس اہلکاروں کو اغوا کرکے اپنے ساتھ بھی لے گئے۔ ادھر مغربی صوبہ گوہر میں افغان فضائیہ کی کارروائی میں 18شدت پسند ہلاک اور 7دیگر زخمی ہوگئے۔ 18شدت پسند مارے گے۔ مغربی صوبہ ہرات کے ضلع شینداند میں طالبان کے دو گروپوں کے درمیان تصادم کے نتیجے میں 13جنگجو ہلاک اور 12دیگر زخمی ہوگئے ۔صوبائی پولیس کے ترجمان جیلانی فرہاد کا کہنا ہے کہ جھڑپ ملا اختر منصور گروپ کے کمانڈر ملا صمد اور ملا رسول گروپ کے کمانڈر ننگلائی کے حامیوں کے درمیان ہوئی جس میں دونوں جانب سے بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا۔ افغانستان کی وزارت دفاع نے اعلان کیا ہے کہ افغانستان کے10 سے زائد صوبوں میں طالبان کے خلاف وسیع پیمانے پر آپریشن کیا گیا ہے۔