پاکستان، بھارت سمیت 5 سارک ممالک حساس لسٹ کو 100 آئٹم تک لے جانے پر راضی

16 مئی 2016

اسلام آباد(صباح نیوز)سارک ممالک کے درمیان حساس فہرست پراختلافات برقرار،سارک کے 3ملکوں نے حساس فہرست سے متعلق فیصلے کی مخالفت کر دی جبکہ پاکستان اور بھارت سمیت 5ممالک حساس لسٹ کو 100آئٹم تک لے جانے پرراضی ہوگئے ہیں جس پر رواں سال کے آخر تک عملدرآمد شروع کر دیا جائے گا، پاکستان نے سارک ممالک سے تجارت کو بڑھانے کے لیے بھارت سمیت سافٹا اراکین کے لیے ٹیرف کم کر کے 5فیصد بھی کر دیا ہے۔حکومتی دستاویزات کے مطابق ساتھ ایشین فری ٹریڈ ایریا کے معاہدے پر سارک کی اسلام آباد میں جنوری 2004میں منعقدہ 12ویں سمٹ کے دوران دستخط کیے گئے تھے، ٹریڈ لبرالائزیشن پروگرام (ٹی پی ایل)کے تحت ٹیرف کی پہلی کمی یکم جولائی 2006سے موثرہوئی، ماہرین کی کمیٹی ایل ڈی سی اور نان ایل ڈی سیز کے علیحدہ ٹی ایل پی پر آمادہ ہوئی، پاکستان نے سافٹا اراکین کیلیے ٹیرف کم کر کے 5 فیصد کر دیا ہے اور سافٹا کیلیے چھوٹی حساس فہرست کی تیاری جاری ہے، دیگر ممالک کو بھی رواں سال ٹیرف کو 5 فیصد تک لے کر آنا ہے، سافٹا رول آف اوریجن کے مسائل کی وجہ سے باہمی تجارت ابھی تک 4ارب ڈالر تک پہنچی ہے، سافٹا رول میں اوریجن خامیاں دور کرنے کی ضرورت ہے۔بنگلہ دیش، سری لنکا اور نیپال نے حساس لسٹ 100آئٹم تک محدود کرنے کی مخالفت کر دی ہے جبکہ پاکستان، بھارت سمیت 5ممالک نے رضامندی ظاہر کر دی ہے اور اس پر عملدرآمد شروع کر دیا ہے۔ سارک چیمبر آف کامرس کے حکام کے مطابق سافٹا رول میں اوریجن خامیاں دور کرنے کی ضرورت ہے، تمام ممالک رواں سال ٹیرف0.5تا 5فیصدلانے کے پابند ہے، پاکستان میں نومبرمیں سارک کانفرنس سے قبل سافٹا کمیٹی آف ایکسپرٹ کا اجلاس ضروری ہے جس میں حساس لسٹ سے متعلق بنگلہ دیش، سری لنکا اور نیپال کی مخالفت کا جائزہ لیا جائے۔