گورنمنٹ گرلز سکولوں کی نجکاری ظلم ہے

16 مئی 2016

سکول پرائیویٹائز کر دیئے گئے تو وزیر تعلیم برادرم رانا مشہود کیا کریں گے۔ اس صورتحال میں ٹیچرز کے مظاہرے میں سب سے آگے رانا صاحب کو ہونا چاہئے۔ جس ملک میں ٹیچرز اور لیڈی ٹیچرز اپنے مطالبات کیلئے سڑکوں پر آ جائیں تو اس ملک کا انتظام چلانے والوں سے پوچھا جائے کہ ان کا کیا کام ہے۔ کبھی یہاں نیشنلائزیشن ہوئی تو کبھی پرائیویٹائزیشن ہوئی۔ دونوں طرح سے کام خراب ہوا۔ پاکستان میں کبھی کوئی اچھا کام بھی ہو گا۔ سارے مہذب ملکوں میں صحت اور تعلیم کے شعبے حکومت کے پاس ہوتے ہیں تاکہ آئندہ نسلیں صحت مند اور تعلیم یافتہ ہوں۔ حکومت اگر بچوں اور بچیوں کو کاروباری لوگوں کے حوالے کر دیں گے تو کیا بنے گا۔
نجکاری اتنی ہی اچھی ہے تو ملک ہی پرائیویٹ لوگوں اور تاجروں کی تحویل میں دے دیا جائے۔ اس معاملے میں سیاستدانوں اور حکمرانوں کا قصور کیا ہے۔ جو افسران ہیں جنہیں بیوروکریٹس کہا جاتا ہے۔ تمام پالیسیاں انہی کے دفتروں میں بنتی ہیں۔ کبھی کسی نے دیکھا کہ افسران اپنے مطالبات کیلئے سڑکوں پر نکلے ہوں۔ انہوں نے اپنی کسی مشکل یا ضرورت کیلئے کبھی مظاہرہ نہیں کیا۔ میں بیوروکریسی کو برا کریسی کہتا ہوں۔ برا کریسی چنگا نہ کریسی۔ جو صرف ملازمین ہیں۔ انہیں نوکر کہا جاتا ہے۔ آج بھی اکثر جگہوں پر ملازمت کو نوکری کہا جاتا ہے۔
تیری دو ٹکیاں دی نوکری
تے میرا لاکھوں کا ساون جائے
بلکہ افسران ملازمین کو نوکر کی بجائے اپنا ذاتی نوکر سمجھتے ہیں۔ وہی ان کی قسمت کا فیصلہ کرتے ہیں۔ میں نے ٹیچرز اور لیڈی ٹیچرز کو ننگی تپتی زمین پر دھرنا مارے بیٹھا ہوا دیکھا تو مجھے شرم آئی۔ مجھے اپنے آپ سے شرم آئی۔ افسران کے بچوں بچیوں کی ٹیچرز تو بڑے بڑے سکولوں کی ہوں گی۔ جہاں ہزاروں روپے فیس لی جاتی ہے اور ٹیچرز کی تنخواہ بھی معقول ہوتی ہے۔
میرے پاس گورنمنٹ کمپری ہینسو گرلز ہائی سکول وحدت روڈ کی کچھ ٹیچرز تشریف لائیں۔ میری بھابھی ساجدہ بی بی اس سکول میں پڑھاتی ہیں۔ میری بچی بھی اس سکول میں پڑھتی رہی ہے۔ اس سکول والوں کا بہت حق میرے ذمے ہے۔ مگر میں ایک بے بس لکھاری ہوں۔ یہ بہت اچھا سکول ہے۔ بہت کشادہ خوبصورت اور صاف ستھرا۔ چھوٹی بڑی بچیاں معصوم پریاں بن کر اڑتی پھرتی نظر آتی ہیں۔ میں اس سکول میں کئی دفعہ گیا ہوں۔ کم و بیش یہاں 2500 بچیاں پڑھتی ہیں۔ تقریباً 75 لیڈی ٹیچرز یہاں تعینات ہیں۔ میں نے ان کی شخصیت میں مامتا کی روشنی دیکھی۔ یہاں اکثر بچوں کے والدین بڑی بڑی فیسیں ادا نہیں کر سکتے۔ پنجاب حکومت رحمدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے لیڈی ٹیچرز اور بچیوں کے ماں باپ کو مصیبت میں نہ ڈالے۔
مرد اس کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔ گرلز سکولوں کا ماحول ذرا مختلف ہوتا ہے۔ وہ اپنے بچوں کو چھوڑ کر یہاں آتی ہیں۔ نامساعد حالات میں بھی دل لگا کر کام کرتی ہیں۔ اب انہیں پریشان دیکھ کر میں بہت پریشان ہوا۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم حکومت کے سب احکامات کی تعمیل کرتی ہیں۔ سو فیصد رزلٹ کے لئے بہت محنت کرتی ہیں۔ سب بچیوں کو اپنی بچیوں کی طرح سمجھتی ہیں۔ پیار کرتی ہیں اور ان کے مستقبل کو سنوارنے کے لئے بے تاب رہتی ہیں۔ پھر بھی ان کے سروں پر تلوار لٹکا دی جاتی ہے کہ وہ عام کاروباری لوگوں کی نوکری اختیار کریں۔ اس زیادتی پر ردعمل کے طور پر کئی لیڈی ٹیچرز نے قبل از وقت ریٹائرمنٹ لے لی ہے۔ کئی لیڈی ٹیچرز سکول چھوڑنے کے لئے تیار بیٹھی ہیں۔ پرائیویٹ کاروباری لوگ نجانے ان کے ساتھ کیا سلوک کریں۔ چھوٹے چھوٹے کاروباری لوگ فیسیں بہت لیتے ہیں اور ٹیچرز کو تنخواہیں بہت کم دیتے ہیں۔
میں حیران ہوں کہ ایسے سکول جن کی نیکنامی اور کامرانی میں کوئی شک نہیں ہے۔ تعلیم اور صحت کے شعبے میں خسارے اور نفع کی بات اضافی ہے۔ زندگی کے سب شعبے پرائیویٹائز کر دیئے گئے تو حکومت کے پاس باقی کیا رہ جائے گا۔
حکومت کے لوگوں نے احتجاج کرنے والوں سے کوئی رابطہ نہیں کیا۔ انہوں نے رات کھلے آسمان تلے پنجاب اسمبلی کے سامنے گزاری ہے۔ وہ دن کو بھی یہاں رہیں گے۔ اور رہیں گی۔ قیامت کی گرمی کا مقابلہ بھی کر لیا جائے گا۔ مگر افسران کو رحم نہیں آئے گا۔ میڈیا کے ذریعے یہ مناظر پوری دنیا والے دیکھ رہے ہوں گے۔ میری گزارش ہے کہ اگر مظاہروں کے بعد مطالبات تسلیم کرنا ہیں تو ابھی سے کر لیں۔ زندگی کو شرمندگی اور درندگی نہ بنائیں۔
مگر افسران کی طرف سے یہ بات سننے میں آ رہی ہے کہ 2018ء تک تمام سکولز کو پرائیویٹائز کر دیا جائے گا۔ ان محکموں میں سالہا سال سے خدمات سرانجام دینے والوں اور والیوں کا کیا بنے گا۔ سکولوں میں سٹاف بھی کاروباری لوگ اپنی مرضی سے لائیں گے۔ ایسی اکھاڑ پچھاڑ ہو گی کہ سول سوسائٹی بھی اس مظاہرے میں شریک ہو جائے گی۔
اس لئے میری گزارش افسران سے ہے کہ وہ اس معاملے میں دلچسپی لیں۔ مجھے برادرم رانا مشہود سے بھی زیادہ امید نہیں ہے جبکہ ان کے ساتھ دوستی بہت پرانی ہے۔ آخرکار شہباز شریف ہی کچھ کریں گے تو بات بنے گی۔ مہذب ملکوں میں سب سے زیادہ تنخواہ پانے والا طبقہ ٹیچرز کا ہے۔ ہمارے ملک میں ٹیچرز کو کمی کمین سمجھا جاتا ہے۔