میڈیکل کے شعبے میں اسلامیت کونمایاں کرنے کی ضرورت ہے: حافظ سعید

16 مئی 2016

لاہور (خصوصی نامہ نگار) امیر جماعۃالدعوۃ پروفیسر حافظ محمد سعید نے کہا ہے کہ مسلم ملکوں کا باہم اتحاد دیکھ کر صلیبی و یہودی سخت پریشان ہیں، سعودی عرب اور پاکستان کو نقصانات سے دوچار کرنے کی سازشیں کی جارہی ہیں، صلیبی اور یہودی داعش کو خطرناک ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہے ہیں، داعش اندرونی اختلافات کے سبب تیزی سے غیر موثر ہو رہی ہے، منظم منصوبہ بندی کے تحت عالم اسلام میںفرقہ وارانہ مسائل کھڑے کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں ۔پاکستانی سائنسدانوں کی طرح ڈاکٹرز بھی میڈیکل سائنس کے شعبہ میں نمایاں کردار ادا کرسکتے ہیں۔ ہم نے اپنی ترجیحات طے کرنا اوردنیا کو تبدیل شدہ نصاب اور نظام دینا ہے۔ میڈیکل کے شعبہ میں اسلامیت کو نمایاںکرنے کی ضرورت ہے۔ وہ مسلم میڈیکل مشن کے زیر اہتمام ایوان اقبال میں دو روزہ میڈیکل کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ حافظ محمد سعید نے کہاکہ ہم نے مغربی غلامی کا طوق گلے سے اتارنا ہے، میڈیکل کے شعبہ میں جو رہنمائی ہمیں اسلامی شریعت سے ملتی ہے ہم نے اس کے مطابق کام کرنا ہے۔ ہمیں ایسے ادارے قائم کرنے چاہئیں جن سے ہم نوجوان نسل کی ذہن سازی کرسکیں۔ پورے معاشرے میں اس کے گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔ اس کیلئے ڈاکٹرز حضرات کو مل بیٹھ کر سوچنا چاہیے۔ اگر پاکستانی سائنسدان ایٹمی و میزائل ٹیکنالوجی میں دنیا میں اپنا لوہا منوا سکتے ہیں تو ہمارے ڈاکٹرز کو بھی اللہ تعالیٰ نے ایسی صلاحیتوں سے نواز رکھا ہے کہ میڈیکل سسٹم میں اسلامی اعتبار سے جو خرابیاں پائی جاتی ہیں ان کی اصلاح کرنی ہے۔ ہمیں فرقوں اور پارٹیوں کے نہیں اسلام کے نمائندے بن کر کھڑے ہونا ہے۔ انہوں نے کہاکہ عالم اسلام کا رخ مغرب کی بجائے ہمارے علاقہ کی طرف ہورہا ہے۔ 34 مسلم ملکی اتحادکے قیام میں سعودی عرب اور پاکستان کا نمایاں کردار ہے۔ شام میں اگرچہ روس کی بمباری سے بہت نقصانات ہورہے ہیں لیکن اسکے باوجود شام کے مظلوم مسلمانوں کے حوصلے بلند ہیں۔