چھٹی کے روز بھی طویل لوڈ شیڈنگ، شہریوں کا احتجاج، گوجرانوالہ میں روڈ بلاک، نعرے بازی

16 مئی 2016

لاہور +گوجرانوالہ+ کراچی (نیوز رپورٹر + نامہ نگاران + نمائندہ خصوصی + ایجنسیاں) چھٹی کے روز بھی بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ جاری رہی جس پر شہریوں نے شدید احتجاج کیا ہے۔ مختلف علاقوں میں غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کا سلسلہ بھی عروج پر رہا، پانی کی قلت نے عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا جس کے خلاف مختلف مقامات پر احتجاجی مظاہرے بھی کئے گئے۔ تفصیلات کے مطابق وزارت پانی وبجلی کی طرف سے لوڈ شیڈنگ کے جاری کردہ شیڈول کی بجائے غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ بھی جاری رہی جس سے عوام کو تعطیل کے روز شدید مشکلات کا سامنا رہا ۔ گزشتہ روز مختلف شہری علاقوں میں 8سے 10جبکہ دیہی علاقوں میں 14گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ ریکارڈ کی گئی۔ علاوہ ازیں بجلی کی بندش کی وجہ سے مختلف علاقوں میں پانی کا بحران بھی شدید ہو گیا ہے اور عوام پینے کے پانی کی بوند بوند کو ترس گئے۔ پانی کی عدم دستیابی کے خلاف فیاض کالونی کینال روڈ، بوگی روڈ، وائرلیس کالونی سمیت دیگر مقامات پر احتجاجی مظاہرے کئے گئے جس میں مظاہرین نے واسا کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ آن لائن کے مطابق وزیر اعلیٰ پنجاب کی خصوصی ہدایت پر محکمہ واپڈا اور بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کو ایک مراسلہ ارسال کیا گیا ہے جس میں رمضان المبارک کے دوران پنجاب بھر میں لوڈشیڈنگ نہ کرنے کے حوالے سے حکمت عملی جلد از جلد تیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ واپڈا ذرائع کے مطابق ممکنہ حکمت عملی کے مطابق شہری علاقوں میں سحری و افطار سمیت تمام نمازوں جبکہ دیہی علاقوں میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ نہیں ہوگی۔ علاوہ ازیں بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں نے بھی واجبات کے حوالے سے اپنی رپورٹ حکومت کو ارسال کر دی ہے۔ سمندری سے نامہ نگار کے مطابق شہر میں گیس کی لوڈشیڈنگ کے خلاف شہریوں نے احتجاجی مظاہرہ کیا، کلاک ٹاور سے شہریوں نے گیس کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے خلاف احتجاجی ریلی نکالی جو تھانہ چوک میں اختتام پزیر ہوئی۔ نوائے وقت رپورٹ کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ نے صوبے میں طویل لوڈشیڈنگ پر افسوس کا اظہار کیا۔ وزیراعلیٰ سندھ نے مراد علی شاہ کا وفاق سے لوڈشیڈنگ میں کمی کیلئے بات کرنے کی ہدایت کی۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ وفاق کو بتائیں کہ سندھ پر رحم کریں شدید گرمی میں لوڈشیڈنگ کم کی جائے۔ نیوز رپورٹر کے مطابق صوبائی دارالحکومت میں بجلی اور پانی کی مسلسل بندش نے شہریوں کی زندگی اجیرن بنا دی۔ دوسری طرف ملک میں بجلی کی طلب بڑھنے پر بجلی کا خسارہ 41 سومیگاواٹ تک ہے جس کو پورا کرنے کیلئے 10 گھنٹے تک بجلی بند کی جا رہی ہے۔ لاہور میں بجلی 6 سے 8 گھنٹے تک بند رہی۔ 30 فیصد بجلی چوری والے علاقوں میں 10 گھنٹے جبکہ تعمیر و مرمت کی غرض سے بند کئے جانے والے فیڈرز سے متاثرہ علاقوں کی بجلی بھی 10 گھنٹے تک بند رہتی ہے۔ پنڈی بھٹیاں سے نامہ نگار کے مطابق غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ 12سے 14گھنٹے تک پہنچ گیا شدید گرمی میں طویل لوڈشیڈنگ کے باعث گھروں میں بچے اور ہسپتالوں میں مریض بلبلا اٹھے مساجد میں نمازیوں کو وضو کیلئے پانی میسر نہیں۔ شہری تنظیموں نے مطالبہ کیا ہے کہ غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ کم سے کم کر کے لوڈ شیڈنگ شیڈول کے مطابق کی جائے۔ قلعہ دیدار سنگھ سے نامہ نگار کے مطابق شہر اور گرد و نواح میں بجلی کی طویل بندش سے شہریوں کو پریشانی کا سامنا رہا جبکہ پانی کی بھی قلت رہی۔ حافظ آباد سے نمائندہ نوائے وقت کے مطابق گیپکو کی جانب سے بجلی کی دن رات کئی کئی گھنٹے غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا سلسلہ جاری ہے جس کی وجہ سے شہریوں کے کاروبار شدید متاثر ہو رہے ہیں۔گوجرانوالہ سے نمائندہ خصوصی کے مطابق بجلی کی کئی گھنٹے سے مسلسل لوڈشیڈنگ کیخلاف شہریوں نے ٹائروں کو آگ لگا کر شدید احتجاج کیا اور گیپکو کیخلاف شدید نعرے بازی کی اور روڈ بلاک کر دی۔ دھلے کے علاقہ اسلام پورہ میں 8گھنٹے تک بجلی کی لوڈشیڈنگ کیخلاف شہری مشتعل ہوگئے۔ گیپکو کیخلاف شدید احتجاج کیا، دھلے روڈ پر ٹائروں کو آگ لگا کر ٹریفک بلاک کر کے شدید احتجاج کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے علاقوں میں بجلی کی سپلائی بند ہے جس کے باعث گھروں میں پانی ختم ہو چکا ہے جبکہ شدید گرمی کے باعث خواتین اور بچوں کو پریشانی کا سامنا ہے۔ احتجاج کی اطلاع ملنے پر پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی اور مظاہرین کے ساتھ مذاکرات کئے۔ پولیس سے مذاکرات کے بعد مظاہرین منتشر ہوگئے۔