ڈرون حملوں کی نئی امریکی پالیسی

16 مارچ 2017
ڈرون حملوں کی نئی امریکی پالیسی

امریکی صدر ٹرمپ نے سی آئی اے کو ڈرون حملوں کے نئے خفیہ اختیارات دے دیئے ہیں۔ امریکی اخبار وال سٹریٹ جرنل کا دعویٰ ہے کہ ایجنسی اب مشتبہ دہشت گردوں پر دنیا میں کہیں بھی ڈرون حملے کر سکے گی۔ اوباما دور میں ایسے حملوں کا اختیار صرف پینٹاگون کے پاس تھا۔
گو ٹرمپ کی پالیسی سابق صدر اوباما کی پالیسی کے برعکس ہے جس میں سی آئی اے کا عسکری کردار محدود کیا گیا تھا۔ اس سے سی آئی اے اور پینٹا گان کے مابین رسہ کشی پیدا ہو سکتی ہے جو ٹرمپ کا درد سر ہو گا۔ہمیں اس امر کا جائزہ لینا ہے کہ اس سے پاکستان پر کیا اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ امریکی ڈرون پاکستان میں حملے کرتے رہے ہیں۔ پاکستان نے ان پر کبھی دبے لفظوں اور کبھی کھل کر اختلاف کیا مگر امریکہ نے پاکستان کی خودمختاری کو کوئی اہمیت نہیں دی۔ پاکستان دہشت گردی کیخلاف جنگ میں امریکہ کا فرنٹ لائن اتحادی ہے‘ دونوں ممالک میں انٹیلی جنس شیئرنگ کا معاہدہ موجود ہے پاکستان نے اسی معاہدے کے تحت امریکہ سے ڈرون ٹیکنالوجی فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔ امریکہ ایسا کرنے پر تیار نہیں ہوا۔ اب پاکستان نے خود ڈرون بنا لئے ہیں جن سے دہشت گردوں کیخلاف کارروائی ہوتی ہے مگر امریکہ پھر بھی خود ڈرون حملوں پر مُصر ہے۔ پینٹاگون کی طرف سے پاکستان کے مخصوص علاقوں میں حملے ہوتے تھے۔ سی آئی اے اپنا دائرہ کار بڑھا سکتی ہے۔ پینٹاگان حملوں کو پاکستا ن نے کبھی قبول کیا نہ سی آئی اے کے ممکنہ حملوں کو قبول کیا جائیگا۔ پارلیمان پاکستان کی حدود میں غیر قانونی طور پر داخل ہونیوالے جہاز مار گرانے کی منظوری دے چکی ہے۔ اس پر اب تک عمل نہیں ہوا تاہم یہ آپشن ضرور موجود ہے جس کے نتائج و عواقب سے پاکستان آگاہ ہے۔ یہ آخری آپشن ہو سکتا ہے۔ پاکستان کو ممکنہ ڈرون حملے روکنے کیلئے سخت اور بے لچک حکمت عملی وضع کرنی چاہئے۔