امنڈتے ہوئے خطرات اور پاکستان

16 مارچ 2010
مکرمی! پاکستان جو کہ اسلامی ممالک میں سے اہم ترین اسلامی مملکت ہے جس کے پاس ایٹمی طاقت موجود ہے۔ جس کے پاس ایک اعلی صلاحیتوں کی حامل فوج موجود ہے۔ جس کی عوام محنتی اور جفاکش ہے اور جو ملک مستقبل میں تمام عالم اسلام کی قیادت کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یعنی پاکستان کی ترقی اور پاکستان کا استحکام عالم اسلام کے استحکام کا باعث بن سکتا ہے۔ اسی لئے یہ ملک دل دشمناں میں کانٹے کی طرح کھٹک رہا اور دشمنان اسلام ہر وہ سازش کر رہے ہیں ہر وہ حربہ استعمال کر رہے ہیں جو کہ پاکستان کی معیشت کو تباہ کر دے جو کہ پاکستان کو غیر مستحکم کرنے میں معاون ثابت ہو پاکستان کو ایٹمی صلاحیت سے محروم کرنا بھی ان کے منصوبے میں شامل ہے اور وہ اس منصوبے کے ابتدائی مرحلے کا آغاز کر چکے ہیں۔ ملک میں بڑھتے ہوئے دہشت گردی کے واقعات اور غیر ملکی فوجیوں اور جاسوسوں کی آمد اسی منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کا ذریعہ ہے۔ اس لئے پاکستانی فوج‘ عوام اور حکمرانوں پر یہ لازم ہے کہ ان بڑھتے ہوئے خطرات کا احساس کریں اور ان کے تدارک کے لئے غور و فکر کریں اور ایسے اقدامات کریں کہ جن سے پاکستان کی سلامتی اور استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔ اس سلسلے میں سب سے پہلا کام جو کرنا چاہئے وہ ہے بڑھتی ہوئی دہشت گردی کی روک تھام‘ یہ ایسے اقدامات ہیں جو کہ پاکستان کی ترقی اور استحکام کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن چکے ہیں۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ ان دہشت گرد عناصر پر قابو کیسے پایا جائے‘ کیونکہ اب تک اس سلسلے میں جتنی کوششیں کی گئی ہیں۔ ان سب کا کوئی خاص نتیجہ برآمد نہیں ہو سکا جس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لئے کئے گئے حکومتی اقدامات ناکافی ہیں اور ان میں کوئی نہ کوئی موجود ہے اور وہ ہے فکری و نظریاتی طور پر دہشت گرد عناصر کا مقابلہ کرنا‘ جس کی طرف پچھلے دنوں ایک دو کالموں میں شفق کے نام لکھنے والے ہمارے دوست توجہ دلا چکے ہیں کہ دہشت گرد عناصر کو اپنی تعلیمات کے ذریعے نوجوانوں کو اس حد تک گمراہ کر چکے ہیں کہ وہ اپنی جان دینے اور معصوم لوگوں کی جان لینے کو جہاد اور جنت میں جانے کا وسیلہ سمجھتے ہیں اور ہماری حکومت ایسی زبردست اور خطرناک تعلیم و تربیت کا مقابلہ فتویٰ نویسی سے کر رہی ہے جو کہ حماقت کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔ اس لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ ان لوگوں کے تصور جہاد اور نفاذ شریعت کے طریقہ کار کی اصلاح کی جائے اور عوام کو باور کرا دیا جائے کہ جہاد کے نام پر یا نفاذ شریعت کے نام پر کوئی بھی ایسا عمل جو پاکستان کی سلامتی اور استحکام کے خلاف ہو وہ بذات خود شریعت کی خلاف ورزی ہے کیونکہ پاکستان وہ ملک ہے جو کہ اسلام دشمنوں کے عزائم کی راہ میں بہت بڑی رکاوٹ ہے۔ اس ملک کو کمزور اور غیر مستحکم کرنا ”اسلام دشمنوں کے خطرناک عزائم کے لئے راہ ہموار کرنے کے مترادف ہے۔ (ملک شہباز احمد 0321-4967268)