شوکت خانم ہسپتال غریبوں کا بھی ہسپتال ہے

16 مارچ 2010
مکرمی! میرا نام محمد یٰسین ہے اور میں رکشہ چلا کر اپنا اور بچوں کا پیٹ پالتا ہوں۔ کچھ عرصہ قبل جب میری طبیعت خراب ہوئی تو میں گورنمنٹ کے ہسپتا ل گیاجہاں غلط تشخیص کی بنا پر میرا آپریشن کردیا گیا۔ بیماری تو اپنی جگہ پر رہی لیکن میں نے آپریشن کی وجہ سے بہت تکلیف دیکھی۔ کچھ عرصہ بعد جب دوبارہ تکلیف ہوئی تو پھر ایک سرکاری ہسپتال کا رخ کیا۔ یہاں ایک دفعہ پھر آپریشن ہو ا لیکن وہ بھی کامیاب نہ ہوا۔ میں بیماری کے ہاتھوں بہت پریشان تھا کہ ایک مہربان ڈاکٹر نے کہا کہ اِ دھرادھر دھکے کھانے کی بجائے شوکت خانم کینسر ہسپتال کیوں نہیں جاتے۔ میں اللہ کا نام لے کر شوکت خانم کینسر ہسپتال آگیا۔ جہاں کچھ مزید ٹیسٹ کروانے کے بعد مجھے علاج کے لئے داخل کر لیا گیا۔ پہلے میرا آپریشن ہو ا اور اب گزشتہ پانچ ماہ سے کیمو تھراپی دی جارہی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ میری طبیعت اب بہت بہتر ہے۔ سوچتا ہوں کہ اگر پہلے ہی یہاں آجاتا تو اس قدر تکلیف تو نہ دیکھتا۔ خیر جو میرے مولا کو منظور! خدا کی ذات کے سوا ہمارا کوئی سہارا نہیں۔ عمران خان صاحب کا بھلا ہو، ہسپتال کی انتظامیہ کا بھلا ہو ، جن سب کی مہربانی سے میرا لاکھوں کا علاج بالکل مفت ہورہا ہے۔ ہم غریبوں کے پاس تو دعاووں کے سوا کچھ نہیں جو ہم ہر وقت کررہے ہیں۔ بس آپ لوگوں سے یہ گزارش ہے کہ اس ہسپتال کی بھر پور امداد کیجئے کیونکہ یہاں میرے جیسے بے شمار غریب مریضوں کا مفت علاج ہو رہا ہے۔ (محمد یٰسین]میڈیکل ریکارڈ نمبر83516] [ ، فیروزپور روڈ،لاہور)