دریاوں کے نام

16 مارچ 2010
راوی کے کناروں کو آکاش نہ ترساو
لب پانی کو نہ ترسیں مینہ اتنا تو برساو
چناب کی لہروں سے پھر گھڑا کوئی ٹکرائے
داستاں رقم ہو پھر کوئی مہینوال تو لے آو
آئے تخت ہزارہ سے پھر رانجھا یہاں کوئی
پھر ہیر پکارے کھیڑو! میرا سودائی تو لے آو
جہلم تری لہروں سے پھر بجنے لگے شہنائی
کہسار سنیں نغمے اس بلبل کو تو لے آو
نہیں دوش ترا ستلج پکارا تھر کا صحرا بھی
سندھ ساگر ترے بجروں سے پھر بانسریا سر چھیڑے
گائے جو کیکر پہ وہ پپیہا تو لے آو
آکاش کا ہے یہ کہنا پاک دھرتی کے سپوتو!
گر چاہتے ہو سانسیں تو کشمیر کو لے آو
یہ برہاں کا نہیں نوحہ‘ ہے قوم کا دکھڑا
شہ رگ کو فقط اپنے غداروں سے بچاو
برہان الدین برہان