کیبل ایک معاشرتی ناسور

16 مارچ 2010
مکرمی! گزشتہ کئی سالوں سے کیبل کی بیماری پورے پاکستان میں ناسور کی شکل اختیار کرتی جا رہی ہے ہماری نوجوان نسل بڑے شوق سے کیبل پر انڈین چینلز دیکھتی ہے جبکہ ان چینلز پر دکھائے جانے والے ڈراموں کی کہانیاں سبق آموز ہونے کی بجائے چالاکی‘ دھوکہ دہی اور گلیمر پر مبنی ہوتی ہیں ان ڈراموں کے ذریعے ہمارے ملک میں انڈین کلچر فروغ پا رہا ہے جس سے نہ صرف ہماری نوجوان نسل جبکہ گھریلو خواتین بھی متاثر ہوتی نظر آتی ہیں۔ ان ڈراموں کے ڈائیلاگ لباس‘ زیورات مکمل طور پر ہندو کلچر کی عکاسی کرتے ہیں گھروں میں قرآن کی تلاوت کی بجائے بھجنوں کی آوازیں آتی ہیں جن سے ہماری نسل میں بے راہ روی‘ اسلام سے دوری اور اس سے بہت سے دوسرے مسائل جنم لے رہے ہیں۔ اس پر مزید یہ کہ کیبل آپریٹرز کے کئی پرائیویٹ چینلز ایسے ہیں جن پر انڈین فلمیں اور بے ہودہ انگلش فلمیں دکھائی جاتی ہیں جو کہ معاشرے پر منفی اثرات مرتب کر رہے ہیں میری حکام اعلیٰ سے گزارش ہے کہ نوجوان نسل کو تباہی سے بچانے اور انڈین کلچر کے فروغ کو روکنے کے لئے انڈین چینلز پر پابندی لگائی جائے(مدیحہ ذوالفقار احمد ....گورنمنٹ فاطمہ جناح کالج چونا منڈی لاہور‘ شعبہ ابلاغیات)

ایک معاشرتی المیہ

گھر ٹوٹتے ہیں کیوں؟ رشتے چھوٹتے ہیں کیوں؟پس پردہ بولتا ہے کون؟زہر یہ گھولتا ...