برادران قوم! لیڈران ملک!!

16 مارچ 2010
آو اک دوسرے کی بات سنیں
راستہ زندگی کا صاف چنیں
گندگی صاف کرکے ذہنوں کی
کریں تزئین دل کے صحنوں کی
آئینے سوچ کے کریں صیقل
ان میں پھر دیکھیں مسئلوں کا حل
برے ماضی کے داغ دھو ڈالیں
اپنے اپنے دماغ دھو ڈالیں
اب نئے کچھ چراغ روشن ہوں
روح اجلی دماغ روشن ہوں
مل کے بیٹھیں نواز‘ زرداری
ساتھ دے ان کا قوم یہ ساری
وہ اگر مل کے ڈیم بنوائیں
جو مخالف ہیں ان کو سمجھائیں
کریں بھارت سے کھل کے باتیں صاف
ساری دنیا سے مانگ لیں انصاف
لوح آئین کو کریں مضبوط
سوچ مثبت ہو قوم کی مخلوط
سارے باہم فساد بند کریں
راہ بغض و عناد بند کریں
ایک مرکز پہ جمع ہو جائیں
اب تو کچھ بیج ایسے بو جائیں
جن سے فصل بہار پیدا ہو
اصل جشن بہار برپا ہو
شوق سے تم نچاو گھوڑوں کو
دوڑنا بھی سکھاو گھوڑوں کو
تم پہ یہ نسل نو بھی ناز کرے
کوئی دشمن نہ ساز باز کرے
اپنی طاقت کو مجتمع کر لو
اب تو روشن کوئی شمع کر لو