پھر کسی اور کو دوش کیوں دیں؟

16 مارچ 2010
عوام کی جانب سے دھتکارے گئے جرنیلی آمرمیں آخر اتنی ہمت کیسے پیدا ہوگئی ہے کہ وہ پاکستان کی خالق جماعت مسلم لیگ کو ہائی جیک کرنے کی پوری دیدہ دلیری کے ساتھ منصوبہ بندی کریں اور یوم قرارداد پاکستان (23مارچ) سے ایک ہفتہ قبل آل پاکستان مسلم لیگ کے نام پر قائد کی جماعت مسلم لیگ کو ”پٹے“ پر حاصل کرنے کیلئے الیکشن کمیشن کے روبرو درخواست داخل کرائیں۔ گجرات میں صوبائی اسمبلی کی ایک نشست کے ضمنی انتخاب کے معرکے میں باہم دست و گریباں مسلم لیگ (ن) اور مسلم لیگ (ق) کے قائدین کو شائد اس کا احساس نہیں ہوا ہوگا کہ بے تاب ”سوہنی“ کو کچے گھڑے پر تیرنے کا جھاکا دے کر ڈبونے اور بے خبر سسّی کا بھنبور لوٹنے کے اسباب پیدا کئے جارہے ہیں۔
اس سرعام ڈکیتی اور چوری سینہ زوری کیلئے میدان کیسے سجایا گیا ہے۔ اندازہ لگائیں اور اپنے شرمندہ ہونے کا اہتمام کریں۔ہم خیالوں کی لیگ کے چیف آرگنائزر لالہ نثار نے چارسدہ میں مشرف لیگ (آل پاکستان مسلم لیگ) کی تشکیل کیلئے ”صلائے عام“ کا اہتمام کیا۔ جنرل راشد قریشی نے تو شریک ہونا ہی ہونا تھا کہ جرنیلی آمریت کی ترجمانی کرتے کرتے وہ خود کو اسی آمریت کی کھال کا حصہ بنا چکے ہیں۔ اہلِ قاف (مسلم لیگ ق) میں سے ڈاکٹر شیرافگن نیازی بھی اپنا بوریا بستر اٹھائے چارسدہ کے جرنیلی پڑاﺅ میں آن وارد ہوئے اور پھر سارے ہمنواﺅں نے جرنیلی راگ کی تان الاپتے ہوئے آل پاکستان مسلم لیگ کا ڈھانچہ کھڑا کردیا اور بیرسٹر محمد علی سیف کو اس کا عبوری چیئرمین مقرر کرکے وہیں سے نہ جانے کس چھومنتر کے تحت پاکستان الیکشن کمیشن کو آل پاکستان مسلم لیگ کے نام کی رجسٹریشن کیلئے درخواست بھجوا دی۔
جس جرنیلی آمریت کا عوام نے 18 فروری 2008ءکے انتخابات میں اپنے ووٹ کی طاقت سے کریا کرم کرکے، مردے کے کفن پھاڑ کر بولنے کا راستہ بھی بند کردیا تھا، اس نے سٹراند چھوڑتے چھوڑتے آخر اتنی قوت کہاں سے حاصل کرلی ہے کہ کپکپاتے پاﺅں کی لرزش کو تھام کر وہ نہ صرف پھر سے اپنے پاﺅں پر کھڑی ہونے کی کوششوں میں مگن نظر آرہی ہے بلکہ دیدے پھاڑتے ہوئے عوام کی جانب سے لائی گئی سلطانی ¿ جمہور کو للکارے بھی مار رہی ہے۔
پیپلز پارٹی سے وابستہ وفاقی حکمرانوں کو کیا مورد الزام ٹھہرایا جائے کہ ان کے گلشن کا تو سارا کاروبار ہی جرنیلی آمریت کے صدقے چلا ہے جس کا صلہ دینے کیلئے جمہوریت اور آئین کے قاتل اور عدالتی عملداری کو پاﺅں کی ٹھوکر پر رکھنے والے جرنیلی آمر کو گارڈ آف آنر پیش کرکے، فوجی مارچ پاسٹ کی سلامی دلوا کر پورے پروٹوکول کے ساتھ ایوان صدر سے رخصت کیا گیا اور پھر کہیں پکڑے نہ جائیں کا خطرہ ٹال کر انہیں دھاڑنے، چنگھاڑنے کیلئے محفوظ راستہ فراہم کرکے ملک سے باہر فرار کرا دیا گیا جہاں بیٹھے اب وہ لڈیاں ڈال رہے ہیں۔ مجرم اعظم کے بجائے معززِ اعظم بنے بیٹھے ہیں۔ اپنے آمرانہ دور اور موجودہ سلطانی¿ جمہور کا موازنہ کرا رہے ہیں۔ جامعہ حفصہ اور لال مسجد آپریشن پر شرمسار ہونے کی بجائے اس کے جواز میں تاویلیں ڈھونڈ ڈھونڈ کر لا رہے ہیں اور پوری ڈھٹائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس چیف جسٹس سے انصاف طلب کر رہے ہیں جو ان کے جرنیلی عتاب کی زد میں آ کر خود طالبِ انصاف رہے۔ بے شک یہ جرنیلی آمر احسان فراموشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے لئے لائف سیونگ ڈرگ کا کام دینے والی پیپلز پارٹی کی حکمرانی کو ہی آنکھیں دکھا رہے ہیں اور اسی کو اپنے جرنیلی دور کے مقابلہ میں عوامی مسائل میں اضافے کا طعنہ دے رہے ہیں پھر بھی آل پاکستان مسلم لیگ سے حکمران پیپلز پارٹی کو بھلا کیا لینا دینا ہے کہ....
ساحل کو اپنی موج کی طغیانیوں سے کام
کشتی کسی کی پار ہو یا درمیاں رہے
حرف تو مسلم لیگ پرآ رہا ہے۔ نکاتی تو پاکستان کی خالق اسی جماعت کی ہو رہی ہے۔ ایسا کیا ہے کہ مسلم لیگ ہی ہر جرنیلی آمر کے ہاتھ کا کھلونا بنتی ہے۔ مسلم لیگ کا کیا فلسفہ تھا جس کی بنیاد پر تشکیل پاکستان ممکن ہوئی اور جرنیلی آمروں کے ہاتھوں میں اپنی گردن دینے والی مسلم لیگ کس فلسفے پر کاربند ہے۔ کنونشن لیگ، جونیجو لیگ، چٹھہ لیگ، وٹو لیگ (جناح لیگ) فنکشنل لیگ، قاف لیگ، ہم خیال لیگ اور اب توبہ توبہ، خدا خدا کیجئے آل پاکستان جرنیلی مسلم لیگ۔ جرنیلی آمروں کی تھپکیوں میں پروان چڑھنے والی ان لیگوں نے پاکستان کی خالق جماعت مسلم لیگ کا نام کتنا روشن کیا ہے؟۔ جس کی مدد سے قیام پاکستان کی منزل حاصل ہوئی، اس جمہوریت کو کتنا پروان چڑھایا ہے؟ اور تعمیر پاکستان کیلئے بانی پاکستان قائداعظم کے فلسفے کو کتنی تقویت پہنچائی ہے۔ قائد کی مسلم لیگ کے نام لیوا جائزہ لیں اور شرماتے جائیں۔ جن لیگیوں کو طالع آزماﺅں کے راستے کی دیوار بننا چاہئے تھا وہ یونینسٹوں سے بھی بدتر انداز میں مفادات کے پتلے نکلے۔ قائد کی جیب کے کھوٹے سِکّوں اور ان کی اولادوں نے وہ اودھم مچایا ہے کہ جھوٹ اور سچ کی پہچان ختم ہوگئی ہے۔ پچھتاﺅے کا لفظ ہی ڈکشنری سے غائب ہوگیا ہے اور اصولوں کی پاسداری کے فلسفہ کا مفہوم ہی تبدیل ہوگیا ہے۔
اگر لیگ ایک ہوتی اور لیگی ایک ہی لیگ کا سبز ہلالی پرچم تھامے ہوتے تو آج قائد کے پاکستان کی جرنیلی آمروں کے ہاتھوں جو درگت بن چکی ہے، سلطانی جمہور جتنی شرمندہ اور بھیگی بلی بنی بیٹھی ہے اور آئین ہی کیا، ملک تک کو توڑنے والے بدبخت طالع آزماﺅں کے سینے جس دیدہ دلیری کے ساتھ پھولے ہوئے نظر آرہے ہیں، گجرات کے ضمنی انتخابی معرکے میں ایک دوسرے سے دست و گریباں ہونے والے لیگی قائدین کو ایک دوسرے پر الزام تراشی کے طوفان سے باہر نکال کر ٹھنڈے دل سے سوچنا چاہئے کہ کیا اس کی نوبت آتی؟پھر کسی اور کو دوش کیوں دیں اور اگر اب بھی سنبھلنے کا جذبہ مفقود ہے تو بامشرف آل پاکستان مسلم لیگ کی آئی کو ٹالنے کیلئے جل تُو جلال تُو کا ورد کیوں کریں۔ زندہ باد کے شور میں اچھا کیا ہے، بُرا کیا ہے، کون جانتا ہے، کون پہچانتا ہے، سب چلتا ہے بھائی۔
آخر میں اپنے ان تمام معزز و محترم قارئین کا شکریہ ادا کرنا اپنا فرض اولین سمجھتا ہوں جنہوں نے میری ذاتی مصروفیات کے باعث تین ہفتے تک کالم کا سلسلہ منقطع ہونے پر پل پل میری خبرگیری کی اور میری صحت و تندرستی کی دعاﺅں کے انبار لگا دیئے۔