کوے کیا جانیں؟

16 مارچ 2010
پیڑ اور پرندے ایک ازلی رشتے میں بندھے ہیں! پیڑ جہاں سر نکالتا ہے وہاں جڑیں بھی چھوڑتا ہے! جڑیں جتنی گہری ہوتی چلی جاتی ہیں، پیڑ اتنا ہی اُونچا اور گھنیرا ہوتا چلا جاتا ہے! گھنیرے درختوں کی شاخیں کچھ پرندوں کےلئے ”رین بسیرا“ مہیا کرتی ہیں، کچھ پرندوں کےلئے گھونسلے تعمیر کرنے کےلئے مناسب ”دو شاخے“ پیش کرتی ہیں! اور ”کھٹ بڑھئی“ ان کے تنوں میں ”کھوہ“ کھود کر اپنا مستقل ٹھکانہ بنا لیتے ہیں!
پیڑ زمین میں قدم جمائے یہ سارے تماشے دیکھتے دیکھتے بلند سے بلند تر ہوتا چلا جاتا ہے! حتیٰ کہ راستے کا نشان بن جاتاہے اور لوگ اس پیڑ کی نشانی دیکھ کر چلا اٹھتے ہیں ع
تیز ترک گام زن! منزل ما دُور نیست
ہم نے ابھی ایک پیڑ تلے سستانے کا ارادہ کیا ہی تھا کہ ایک انتہائی ”ہوشیار پرندہ“ ہمارا ارادہ تاڑ گیا اور اس سے پہلے کہ ہم ”سایہ نشین“ ہوتے، وُہ اُس پیڑ کی مناسب ترین شاخ کا انتخاب کر کے ”شجر نشین“ ہوگیا اور ہمارے ”گنجِ گراں مایہ “ پر انتہائی ناگوار بدبودار ”تڑکا“ لگا کر اُڑ گیا اور ہم ”سایہ نشین“ ہونے سے پہلے ہی جھنجھلا کر اپنی راہ لگ لئے اور ”کارواں“ کے غبار کے ساتھ غبار ہوگئے!
آگے بڑھے تو معلوم ہوا کہ وہی ”پرندہ“ ہم سے پہلے اُس ”بوڑھے برگد“ کی ایک شاخ پر ہمارا منتظر بیٹھا ہے، ہم نے ”سایہ نشین“ ہونے سے پہلے اُسے دیکھ اور پہچان لیا! اُس نے ایک دوبار کائیں کائیں بھی کی، مگر ہم نے صرف ”شاخ“ کا دھیان رکھا! حتیٰ کہ وہ اُڑا اور دوسرے درخت کی پھنگ پر جا بیٹھا! اب حال یہ ہے کہ وہ ”درخت“ اپنی ”پیشانی“ کی سیاہی کی جگہ ان حضرت کی ”سیاہ روئی“ کے سبب پہچانے جایا جانے لگا!
کوے ہیں سب دیکھے بھالے
چونچ بھی کالی، پر بھی کالے
رات گئے پیڑ سو جاتا ہے تو بہت سے کوے کائیں کائیں کرتے آتے ہیں اور ہماری نیند خراب کر کے گزر جاتے ہیں! لیکن ہمیں تو راتیں جاگ کر گزار دینے کی عادت سی ہے اور ہم اسے ”الارم“ سمجھ کر غیرملکی چینل مانیٹر کرنے کے کام سے لگ جاتے ہیں!
ممالک غیر کا ذکر آتے ہی ہمارے ذہن میں ”امریکہ“ کا نام جگمگانے لگتا ہے اور پھر امریکہ کا دورہ کرنے والے فیلڈ مارشل محمد ایوب خان کی ٹوپی امریکہ کی خاتونِ اول محترمہ جیکولین کینیڈی کے سر پر جھلملاتی نظر پڑتی ہے! اسی دورے میں امریکی حکام نے جناب محمد ایوب خان سے ”نوائے وقت“ کے بارے میں کچھ کرنے کی ”تجویز“ پیش کی تھی تو جناب محمد ایوب خان نے فرمایا تھا، ”نوائے وقت‘! پاکستان کے کان اور آنکھیں ہیں!“ نوائے وقت جو کچھ دیکھتا ہے اُسے خلوصِ نیت کے ساتھ پرکھتا ہے جو کچھ وُہ لکھتا ہے اپنے ضمیر کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے لکھتا ہے! میں ”پاکستان کے کانوں اور آنکھوں‘ کو بند نہیں کر سکتا!“
یہ وُہ صدر ایوب ہیں، جنہیں پاکستان ٹائمز، امروز اور لیل و نہار قومی ملکیت میں لینے کا ”اعزاز“ حاصل تھا! اور وُہ یہ دور ہے، جس میں جنابِ مجید نظامی ”نوائے وقت“ کی ادارت فرما رہے ہیں!
امریکہ ان دنوں اپنے ”فرنٹ مینوں“ کے ساتھ ایک بار پھر ”نوائے وقت“ پر ”حملہ آور“ ہے مگر وہ جانتا ہے کہ ”فرنٹ مینوں“ کی بھرتی سے کہیں بہتر ہے یہ بات ہوتی! کہ امریکہ پاکستان کےلئے اپنی پالیسیاں تبدیل کرے، پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کی تجدید کے دوران پاکستان کے مفادات نظرانداز کرنے کی حماقت ترک کرے اور پاکستان کے ساتھ باوقار اور باسپاس تعلقات اُستوار کرے تاکہ امریکہ ”نوائے وقت“ کےلئے بھی ایک ”پاکستان دوست ملک“ کی حیثیت سے محترم ہو جائے! مگر کیا کیجئے کہ اس میں محنت زیادہ کرنا پڑتی ہے جبکہ امریکہ اپنی عقل کام کرتے نہ پاکر دوسروں کی حماقت سے فائدہ اٹھانے کے کام سے لگ چکا ہے!
کوے کیا جانیں؟ کہ فاختاﺅں نے ان کےلئے کیا کیا دُکھ جھیلے ہیں!