حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا!

16 مارچ 2010
حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہیں ہوا، انور محمود صاحب نے اپنی فعال زندگی اقتدار کے ایوانوں کی روشنیوں اور اندھیروں میں پوری کی ہوئی ہے اس محکمہ میں جس کے مقدر میں لکھنے والے نے ”سب اچھا ہے“ کا طبل یا طبلہ بجانا لکھ دیا ہوا ہے حکمران کیسا بھی ہو اہل تشہیر یعنی محکمہ اطلاعات والے اسی مہارت کا کھاتے پیتے ہیں کہ ”یہ تو بے مثل ہے، اس جیسا نہ پہلے کوئی آیا تھا اور نہ آ سکتا ہے“ گاتے اور بجاتے رہتے ہیں۔ انور محمود اس محکمہ میں اپنی زندگی اور مہارت لگا کھپا کر سیکرٹری کے عہدے سے فارغ البال و فارغ العیال ہو چکے ہیں روز رفتہ ایک انٹرویو دینے لینے کی آزادی کے ماحول میں ان سے پوچھا گیا تھا کہ آپ کے علم و آگہی کی روشنی میں آپ کے ریٹائر ہونے تک کے آپ کے زیر تشہیر آئے حکمرانوں میں سے سب سے بُرا کون تھا اور سب سے اچھا کون؟ ان کا جواب تھا کہ بُرا تو میں بتا نہیں سکتا مگر میرے تجربہ کے مطابق محمد خان جونیجو سب سے اچھا حکمران تھا کیوں اچھا تھا؟ انہوں نے بتایا تھا کہ وہ دیانتدار بہت تھا یعنی قومی خزانے اور مال کے معاملے میں دیانت اور امانت کے ہر معیار پر قابل رشک تھا، دوسرے وہ گڈ گورننس اور آئین و قانون کے خلاف کوئی اقدام کرتا تھا نہ کرنے دیتا تھا۔ بقول ان کے محمد خان جونیجو قائداعظمؒ کے نقوش قدم پر چلنے کی کوشش کیا کرتا تھا یہ تو ہے انور محمود صاحب کا تجربہ اور مشاہدہ۔ ہم نے بہت کچھ دیکھا، آزمایا ہوا ہے سب کچھ تو ممکن نہیں کچھ سن لیں۔ ملک میں ابھی عام انتخابات نہیں ہوئے تھے محمد خان جونیجو کی زمینوں کے ٹیوب ویلوں وغیرہ کا بجلی کا بل بہت زیادہ آ گیا انہوں نے اپنے سیکرٹری کو حیدر آباد بھیجا واپڈا کے بڑے افسر شاہی کے پاس اس نے ان کے سیکرٹری کی نہ سنی نہ مانی محمد خان جونیجو خود گئے اس افسر شاہی کے پاس بل لے کر اس نے محمد خان جونیجو کی بات سن کر جواب دیا ”آپ سب وڈیرے ایسے ہی کہا کرتے ہیں“ محمد خان جونیجو نے جواب دیا ”نہیں سائیں کچھ وڈیرے ایسے نہیں بھی ہوتے “ اور واپس آ گئے ملک میں انتخابات ہو گئے محمد خان جونیجو وزیراعظم پاکستان بن گئے وزارت کا حلف لینے کے بعد پہلی بار سندھڑی گئے تو ایک محفل ملاقات کا اہتمام کیا گیا، صوبہ کے اور وفاق کے سب محکموں کے سربراہوں کو تو آنا ہی تھا جونیجو صاحب سٹیج پر آئے تو دیکھا کہ واپڈا کا وہ اعلیٰ افسر پچھلی قطار میں بیٹھا ہے۔ انہوں نے اگلی قطاروں میں ایک کرسی خالی کروائی اور کہا ”سائیں آپ وہاں پیچھے کیوں بیٹھے ہیں آگے آ جائیں“ اس آگے والی کرسی پر بیٹھ کر اس افسر شاہی نے وہ جلسہ بھگتا اور واپس چلے گئے وہ جس عہدے پر حیدر آباد میں کام کر رہے تھے اس کے لئے معینہ گریڈ سے نیچے کے باقاعدہ گریڈ میں تھے تھوڑے دنوں بعد متعلقہ گریڈ کے افسر کو بھیج دیا گیا ۔ محمد خان جونیجو کو معلوم ہوا تو انہوں نے واپڈا کے چیئرمین سے کہا کہ اس جونیئر گریڈ والے افسر کو تبدیل نہ کیا جائے میں نے اس کی تفصیل شائع کر دی۔ محمد خان جونیجو کو علم ہوا تو انہوں نے انکوائری کا حکم دے دیا کہ وہ تفصیل مجھ تک کیسے پہنچ گئی۔ جنرل صفدر بٹ مرحوم نے رپورٹ دینا تھی مجھے وہ ساری تفصیل سید غوث علی شاہ کے ایک ووٹر واپڈا کے افسر نے بتائی تھی جو اسی دفتر میں ہوتا تھا اور شاہ جی کے حوالے سے میرے پاس آیا تھا۔ وہ افسر جس نے ”آپ سب وڈیرے ایسے ہی کہا کرتے ہیں“ کہہ کر محمد خاں جونیجو کو چلتا کیا تھا، سندھی بھی نہیں تھا، گوجرانوالہ سے تھا۔ محمد خان جونیجو کے حلف لینے کے چند روز بعد ان کے داماد کی والدہ فوت ہو گئی۔ یہاں گلبرگ لاہور میں، میرے پاس مکمل خبر تھی اور میرے ہی پاس تھی۔ جونیجو صاحب نے کسی کے ذریعے پیغام بھجوا کر وہ خبر رکوا دی تھی حلف لینے کے بعد انہوں نے محکمہ اطلاعات کو جو ہدایات جاری کی تھیں ان میں ایک یہ بھی تھی کہ میرے خاندان کے افراد کو غیر ضروری پبلسٹی نہ دی جائے اس دور کا ریکارڈ اس کی گواہی دیتا ہے۔ محمد خان جونیجو سندھی تھا اور کالا باغ ڈیم کی تعمیر کے سلسلے میں چاروں صوبوں کے چیف جسٹس صاحبان کی سفارش اور رپورٹ پر دستخط کرانے کے لئے خود چل کر پشاور گیا تھا۔ جنرل فضل حق کو منانے اور سمجھانے جنہوں نے اپنے چیف جسٹس کو دستخط کرنے سے روک دیا تھا اگر دستخط ہو جاتے تو کالا باغ ڈیم اب تک بن چکا ہوتا پشاور کے گورنر ہاوس میں ماہرین نے وزیراعظم پاکستان کی موجودگی میں ڈیم کے بارے میں مکمل بریفنگ دی جس کے جواب میں جنرل فضل حق نے ایک ہی فقرہ میں فیصلہ سنا دیا تھا ۔ I DAME CARE FOR POLITICIANS اور محمد خان جونیجو اس کا کھانا کھائے بغیر اٹھ کر واپس آ گئے مگر پانی اور بجلی کے وزیر ظفر اللہ خان جمالی نے وزیراعظم کا ساتھ نہیں دیا تھا اور جنرل فضل حق کا کھانا اور نمک کھا کر اسلام آباد واپس آئے تھے میں نے جنرل غلام حسن خان مرحوم سے پوچھا کہ جب سب چیف جسٹس ایک مشترکہ فارمولا پیش کر چکے ہیں تو آپ کے گورنر کو کیا اعتراض ہے؟ انہوں نے ایک موٹی سی گالی دیتے ہوئے جواب دیا تھا ”فل جنرل بنا دو آج مان جائے گا“ قومی خزانے کی حفاظت کا یہ حال تھا کہ کابینہ کا اجلاس بھی ایسے وقت نہیں رکھتے تھے کہ درمیان میں کھانے کا وقت آ جائے ”کھانا اپنے اپنے گھر سے کھائیں“ کا سٹینڈنگ آرڈر تھا ایک رات گئے میں وزیراعظم ہاوس پہنچ گیا جونیجو صاحب نے چائے پلائی اور راجہ نادر پرویز سے کہا اپنی گاڑی میں ڈوگر صاحب کو ہوٹل چھوڑ آو دوست صحافی پوچھتے تھے کیا بات ہوئی وہ نوازشریف کی اپنی مسلم لیگ کے صدر سے وفا کا نازک دور تھا میں نے چائے کے بارے میں بتایا تو جو خبر سارے اسلام آباد کے حلقوں میں پھیل گئی وہ تھی ” کہ جونیجو صاحب نے تو ڈوگر کو چائے پلائی ہے“ اور نہیں تو انور محمود صاحب کو اس وزیراعظم کا تو حق ادا کر دینا چاہیے جسے وہ سب سے اچھا بتاتے ہیں سارے تجربات نہیں تو ان کے دور کے تجربات و مشاہدات ہی لکھ دیں۔ یادداشتوں کے حوالے سے انہیں سلوتری پن کی مہارت کے ساتھ ساتھ لکھنے پر بھی تو عبور حاصل ہے کریں ہمت، انہیں کون سا سنیٹر بننا ہے!