پنجاب میں پھر دھماکے؟

16 مارچ 2010
شہباز شریف نے کہا ہے کہ طالبان پنجاب میں دھماکے نہ کریں۔ ہم نے بھی امریکی پالیسیوں کو قبول نہیں کیا۔ طالبان بھی امریکہ کے خلاف لڑ رہے ہیں۔ ہمارا موقف ایک ہے۔ شہباز شریف جانتے ہیں کہ پنجاب میں سب کچھ امریکہ کروا رہا ہے اور بھارت کو استعمال کر رہا ہے۔ پنجابی طالبان کی اصطلاح امریکہ نے استعمال کی ہے۔ لاہور کے سی سی پی او پرویز راٹھور نے سری لنکن ٹیم پر حملے کی ذمہ داری بھارتی ”را“ پر ڈالی تھی۔ پھر رحمان ملک کے کہنے پر اپنا بیان بدل لیا تھا۔ اب تو رحمان ملک نے بھی کہہ دیا ہے کہ لاہور میں دہشت گردی بھارت کروا رہا ہے۔ وزیر دفاع احمد مختار نے گجرات میں کہا ہے کہ بھارت لاہور میں آٹھ دھماکے کرا کے سمجھتا ہے کہ وہ پاکستان کو غیر مستحکم یا خوف زدہ کر سکتا ہے۔ دہشت گردی میں بھارت کے ملوث ہونے کے واضح شواہد مل گئے ہیں۔ قوم فوج کے ساتھ مل کر دہشت گردوں کو ملک سے باہر نکال دے گی۔ احمد مختار نے گجرات میں مسلم لیگ ن کا ساتھ دینے کا اعلان بھی کیا ہے۔ دونوں میں پھر صلح ہو گئی ہے۔ شاید اس سے پہلے رحمن ملک نے بلوچستان میں بھارتی مداخلت کا الزام لگایا تھا مگر وہ اس موقف میں ثابت قدمی کیوں نہیں دکھا سکتے۔ ممبئی میں ایک واقعے کے بعد اب تک بھارت پاکستان کو ذلیل و خوار کر رہا ہے۔ امریکہ میں ایک واقعہ نائن الیون کا ہوا۔ باقی دہشت گردی پاکستان میں ہو رہی ہے۔ اتنا تو افغانستان میں نہیں ہو رہا۔ شہباز شریف کے تازہ ترین بیان پر ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ برادرم پرویز رشید نے کہا ہے کہ شہباز شریف کا بیان سمجھنے میں غلطی ہوئی ہے۔ یہ غلطی پہلے کسی بیان پر کیوں نہیں ہوئی۔ پرویز رشید اور فرحت اللہ بابر میں کوئی فرق نہیں رہا۔ میرے خیال میں انٹی امریکہ پالیسی حکام کو عوام کے زیادہ قریب کر سکتی ہے۔ شہباز شریف کا بیان انہیں روائتی حکمرانوں سے الگ کرتا ہے۔ لوگوں کو انکی یہ بات پسند آئی ہے ورنہ ان کا خیال تھا کہ فرینڈلی اپوزیشن بھی امریکی ڈکٹیشن کے مطابق آئی ہے۔ امریکی اور عالمی ایجنڈے پر پاکستان کے سارے حکمران اور سیاستدان ایک ہیں۔ اختلاف صرف اقتدار کے لئے ہے۔ وہ آپس میں لڑتے بھی امریکہ کی اجازت سے ہیں اور صلح صفائی بھی امریکی مرضی سے کرتے ہیں۔ قوم کا صفایا ہو رہا ہے۔ اب تو یہ بھی ایک تاثر ہے کہ اصل میں دونوں ایک ہیں بلکہ اصل میں سارے ایک ہیں۔ لاہور میں امریکی گاڑیوں کو بغیر تلاشی کے کس نے جانے دیا۔ یہاں حکومت کس کی ہے۔ لاہور کینٹ، آر اے بازار میں دہشت گردی میں وہی امریکی تو ملوث نہیں جو پچھلے دنوں شہر میں دندناتے پھر رہے تھے۔ فوج کی ذمہ داری بھی ہے اور اس پر بھی بات ہو گی۔ یہ بات مجھ سے فون پر کئی لوگوں نے دریافت کی۔ علامہ اقبال ٹاون میں اکٹھے پانچ دھماکے۔ وہاں پولیس صرف وی آئی پی کی سکیورٹی کے لئے الرٹ رہی۔ عام لوگ صرف مرنے کے لئے ہیں۔ علامہ اقبال ٹاون میں لوگ مرے نہیں اس لئے ان دھماکوں کو انتظامیہ صرف دھمکی کہہ رہی ہے۔ ایک دھماکہ تو ان کے سارا ماحول کلیئر کرنے کے فوراً بعد ہوا۔ پولیس افسران کے گھروں کے سامنے بھی ”پٹاخے“ چھوڑے گئے۔ اس کے بعد پولیس افسران کے گھروں پر سکیورٹی مزید بڑھا دی گئی ہے۔ لوگوں نے سکیورٹی کے لئے ان گھروں کے آس پاس نہ رہنے کا پروگرام بنا لیا ہے۔ ناکے بڑھا دئیے گئے ہیں۔ وہاں لین دین کے کاروبار میں چہل پہل بڑھ گئی ہے۔ پولیس انتظامیہ اور حکومت کیوں اعتراف نہیں کرتی کہ ہم ناکام ہو گئے ہیں۔ ان کی کامیابی یہ ہے کہ ان کی حکومت اور افسری برقرار ہے۔
دہشت گردی کے حوالے سے وفاقی حکومت بھی ذمہ دار ہے مگر کچھ ذمہ داری تو پنجاب حکومت کی بھی ہے۔ شہباز شریف نے طالبان کے ساتھ اپنی ہم آہنگی کی بات شہید سرفراز نعیمی کے والد کی یاد میں ایک سیمینار سے جامعہ نعیمیہ میں خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوںنے یہ بھی فرمایا کہ شہید ڈاکٹر سرفراز نعیمی کے قاتلوں کو گرفتار کرنے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا جائے گا۔ کیا کوئی اس طرح کا ایک بھی قاتل گرفتار کیا گیا ہے۔ اس کے لئے ابھی تک طالبان سے رابطہ کیوں نہیں کیا گیا اور اگر یہ سانحہ بھارت اور امریکہ نے کروایا ہے تو ان کے خلاف ایک بیان ہی دے دیا ہوتا۔ نواز شریف نے بھارت کے ساتھ ویزہ ختم کرنے کا ارادہ ظاہر کیا تھا۔ بھارتی دہشت گرد تو بغیر ویزے کے آ رہے ہیں۔ ویزے کی پابندی نہیں ہو گی تو وہ نہیں آئیں گے۔ پاک فوج بھارت کے خلاف ثابت قدم ہے۔ سوات مالاکنڈ اور وزیرستان میں دہشت گردوں کے خلاف قربانیوں اور کامیابیوں پر امریکہ بھارت اسرائیل پریشان ہیں اس حوالے سے شریف برادران کا کیا تاثر ہے۔ ان کا کوئی بیان آئے اور اس کے بعد پرویز رشید بیان دے کہ سمجھنے میں غلطی ہوئی ہے۔ ناسمجھ عوام سمجھدار حکام کی بات کب سمجھیں گے۔ طالبان سے امریکہ بات کرنا چاہتا ہے۔ اسے ابھی افغان طالبان سے مذاکرات کے لئے منت سماجت سے فرصت نہیں ہے ورنہ وہ پاکستانی طالبان سے جب بات شروع کریں گے تو نوازشریف اور شہباز شریف کا تعاون ضرور حاصل کریں گے۔ تب تک شاید صدر زرداری غیر ضروری ہو جائیں گے اور مخدوم گیلانی نے تو خود کو خود بخود ضروری قرار دیا ہوا ہے۔ شریف برادران سے بھی وہی وعدے امریکہ نے کئے ہوئے ہیں جو صدر زرداری سے کئے ہوئے تھے۔ یہ بات میں کسی کے خلاف یا حق میں نہیں کر رہا ہوں۔ امریکہ کی یہ پالیسی پاکستان میں بہت پہلے سے چلی آ رہی ہے۔ اور چل چلاو تک چلتی رہے گی کہ دوسرا گھوڑا اس وقت تیار رکھا ہوا ہوتا ہے۔ اس کے لئے ہارس ٹریڈنگ بھی کرائی جاتی ہے تاکہ صورتحال امریکہ کے لئے سازگار ہو۔
شہباز شریف کے امریکہ کے خلاف اس بیان سے پنجاب میں بلکہ پورے ملک میں لوگ خوش ہوئے ہیں۔ وہ اس بات پر ڈٹے رہیں۔ پرویز رشید کو منع کریں کہ وہ کم از کم اس بیان کی تردید نہ کریں۔ پیپلز پارٹی کے نبیل گبول نے بھی شہباز شریف سے اپیل کی ہے کہ وہ طالبان کو پورے ملک میں دہشت گردی سے منع کریں۔ آخر انہیں ایک نہ ایک دن تو پاکستان کا وزیراعظم ہونا ہے۔ وہ این ایف سی ایوارڈ اور دوسرے معاملات میں پنجاب کو نظرانداز کر کے دوسرے صوبوں کے لئے سرکاری قربانی کرتے رہتے ہیں۔ اب انہوں نے صرف پنجاب کی بات کی ہے جبکہ سندھ میں بھی صورتحال لہولہان ہے۔ قائم علی شاہ نے کئی بار شوکت ترین کو شوکت عزیز کہا اور شہباز شریف کو وزیر اعلیٰ پاکستان بھی کہہ دیا۔ نبیل گبول کی اس بات کی شہباز شریف کو پرواہ نہیں ہونا چاہئے کہ وہ طالبان کے لئے نرم گوشہ رکھتے ہیں۔ ایک شکوہ ہے کہ ابھی تک عوام کو کہیں گوشہ عافیت نہیں ملتا۔ نبیل گبول کا کیا ہے اس نے رحمان ملک کو اپنے والد کا ٹیلی فون آپریٹر کہہ دیا تھا۔ ملک صاحب نے صبر کیا تھا۔ نبیل گبول نے یہ بھی کہا کہ شریف برادران طالبان کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ نواز شریف اسامہ بن لادن سے مل چکے ہیں۔ یہ بات شریف برادران کے حق میں ہے کہ عنقریب امریکہ کو طالبان سے رابطے کی ضرورت پڑنے والی ہے۔ البتہ سرحد کے حاجی عدیل کی بات غورطلب ہے کہ دہشت گردوں کو زیادہ مدد پنجاب سے ملتی ہے پھر بھی وہ پنجاب پہ حملے کئے جاتے ہیں۔ آج کی خبر ہے کہ تین مزید دہشت گرد پنجاب میں داخل ہو گئے ہیں۔ پہلے بھی وہ لاہور میں دندناتے پھرتے ہیں انہیں بھی ”امریکی بلیک واٹروں“ کی طرح کوئی چیک نہیں کرتا۔ بھارتی دہشت گردوں کے لئے کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔ کہتے ہیں نہر والی سڑک پر ان کے لئے انڈر پاس بنائے گئے ہیں۔ کیا ہماری سکیورٹی ایجنسیوں کے پاس ان کو پکڑنے کا کوئی طریقہ نہیں ہے؟!